دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اور اس نقل سے ہماری غرض صرف یہ بتانا ہے کہ ہروی وغیرہ نے ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے علاوہ باقی انبیاء کے لئے بھی عشاء تسلیم کرلی ہے ، وہی ان کی تطبیق ، تو میں کہتا ہوں کہ اس پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ تطبیق اگر اُن روایتوں کے درمیان ہے جن میں سے ایك یہ ہے کہ عشاء کے ذریعے تمہیں فضیلت دی گئی ہے۔ اور دوسری میں ہے کہ عشاء یونس علیہ السلام کیلئے تھی ، جیسا کہ سباق سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ تطبیق زرقانی نے مذکورہ دو۲ روایتوں کے بعد بیان کی ہے تو (یہ تطبیق فضول ہے کیونکہ) تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان دو۲ روایتوں میں تعارض ہی نہیں ہے کہ تطبیق کی ضرورت پڑے۔ اگر یہ تطبیق روایت اور عیشی کے اثر کے درمیان ہے جیسا کہ طحاوی کے عنقریب آنے والے اثر میں طحاوی کے ساتھ “ نفسہ “ کا لفظ بڑھانے سے ظاہر ہوتا ہے تو یہ فہم سے بہت بعید تطبیق ہے کیونکہ اثر میں صراحتًا مطلق عشاء کی نفی ہے نہ کہ (تہائی رات تک) تاخیر سے مقید عشاء کی ، کیونکہ اثر کے سیاق کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ نمازیں کس کس نبی نے پڑھی تھیں ، قطع نظر اس سے کہ پہلے وقت میں پڑھی تھیں یا مؤخر کرکے ، چنانچہ اثر میں چار نمازوں کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہیں ہمارے نبی کے علاوہ باقی انبیاء نے بھی پڑھا ہے۔ کہاں یہ بات اور کہاں وہ جو تم لوگ چاہتے ہو (کہ مراد تہائی رات تك مؤخر کرکے پڑھنا ہے)۔ (ت)

عــہ :  ھکذا ھو مثبت فی نسختی التنبیہ فالله تعالٰی اعلم ولتراجع النسخ ۱۲ منہ (م)

میرے پاس موجود تنبیہ الغافلین کے نسخہ میں عبارت اسی طرح ہے الله  تعالٰی زیادہ جاننے والا ہے دوسرے نسخوں کو دیکھ لینا چاہئے ۱۲ منہ (ت)

وثانیا :  کیفما کان ، ھذا حامل للوحی الامین علیہ الصلٰوۃ والسلام صلی الخمس یومین ، فعجل مرۃ واخر اخری ، ثم قال :  ھذا وقت الانبیاء من قبلك [1]  ، فمن این ان اول من اخرھا نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم؟ قال :  ویدل لذلك (ای لما ادعی من الجمع) بل یصرح بہ قولہ اثر الطحاوی نفسہ العشاء الاٰخرۃ [2] اھ۔

اقول :  یاسبحٰن اللّٰہ! بل لادلالۃ فیہ اصلا ، فضلا عن التصریح ، فان العشاء الاٰخرۃ ھی العشاء مطلقا دون التی اخرت۔ تسمی الاٰخرۃ نظرا الی العشاء الاولی وھی المغرب ، علیہ تظافر محاورات الحدیث۔ وفصل القول مالاحمد ومسلم والنسائی عن جابر جبن سمرۃ رضی الله تعالٰی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یؤخر العشاء الاٰخرۃ [3]۔ واعظم منہ ماللترمذی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، ان اول وقت العشاء الاٰخرۃ حین یغیب الافق [4]۔ فالمقطوع بہ ان لااثر لھذہ الدلالۃ فی الکلام ، ولوارادہ لقال “ اول من اخر العشاء “  و ھذا ظاھر جدا۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جو صورت بھی ہو ، بہرحال حامل وحی جبریل امین نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو دو۲ دن پانچ پانچ نمازیں پڑھائیں ، پہلے دن ہر وقت کے بالکل ابتدائی حصّے میں اور دوسرے دن ہر وقت کے انتہائی حصّے میں ، پھر کہا کہ یہ آپ سے پہلے انبیاء کا بھی وقت ہے (پھر یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ رسول الله  عشاء کو تہائی رات تك مؤخر کرنے سے مختص تھے) زرقانی نے کہا کہ اِس پر یعنی اس تطبیق پر کہ تہائی رات تك مؤخر کرنا مراد ہے دلالت کرتی ہے ، بلکہ صراحت کرتی ہے ، یہ چیز کہ طحاوی نے خود اپنے اثر میں العشاء الآخرۃ (آخری عشاء) ترکیب استعمال کی ہے (اس سے معلوم ہواکہ عشاء کا آخری حصہ رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکیلئے مختص ہے)۔ (ت)

میں کہتا ہوں : اے سبحان اللہ! صراحت تو کیا ، یہ ترکیب اس پر دلالت بھی نہیں کرتی کیونکہ “ عشاء آخرۃ “ مطلق عشاء کو کہتے ہیں نہ کہ اس عشا کو جو مؤخر کی گئی ہو۔ اس کو آخرہ اس بناء پر کہتے ہیں کہ عشاءِ اولٰی مغرب کو کہتے ہیں ۔ اس پر حدیث کے بہت سے محاورات شاہد ہیں ۔ اور احمد ، مسلم ، نسائی کی یہ روایت تو اس میں قولِ فیصل کا درجہ رکھتی ہے کہ جابر بن سمرہ فرماتے ہیں : “ رسول الله  آخری عشاء کو مؤخرکیا کرتے تھے “ ۔ اس سے بھی زیادہ اصح وہ روایت ہے جو ترمذی نے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےنقل کی ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ آخری عشاء کا وقت شفق غائب ہونے سے شروع ہوتا ہے “ ۔ بہرحال اس کلام میں “ عشاء آخرہ “ کا تاخیرِ عشاء پر دلالت کرنا قطعی طور پر بے نشان ہے اگر یہ مراد ہوتی تو اثر کے الفاظ یہ ہوتے “ سب سے پہلے جس نے عشاء مؤخر کی “ اور یہ بہت ہی ظاہر ہے۔ (ت)

بالجملہ اس قدر بلاشبہہ ثابت کہ نمازِ عشاء ہم سے پہلے کسی اُمّت نے نہ پڑھی نہ کسی کو پانچوں نمازیں ملیں اور انبیائے سابقین علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں ظاہرًا راجح یہی ہے کہ عشاء ان میں بھی بعض نے پڑھی تو اثر مذکور امام طحاوی سے اجتماع خمس کو تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام میں ہمارے حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے لئے خاص ثابت کرنا جس کا مدار اسی نفی عشاء عن سائر الانبیاء علیہم الصّلوٰۃ والثناء پر تھا تام التقریب نہیں کہ جب ہر نماز کسی نہ کسی نبی سے ثابت تو ممکن کہ بعض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام نے کبھی یا ہمیشہ پانچوں بھی پڑھی ہوں اگرچہ کسی اُمّت نے نہ پڑھیں یہاں تك کہ مغرب کی اولیت سیدنا عیسٰیعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  ہی کے لئے مانے جیسا کہ قول دوم وسوم میں آتا ہے جب بھی وہ احتمال مندفع نہیں ممکن کہ سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی نے پانچوں پڑھی ہوں اور اس میں حکمت یہ ہوکہ وہ دنیا کی نظر ظاہر میں بھی صاحب صلوات خمس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اُمتی ہوکر زمین پر تشریف لانے والے ہیں اگرچہ حقیقۃً تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ہمارے حضور نبی الانبیاء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اُمتی ہیں انہیں نبوت دی ہی اس وقت ہے جب انہیں محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا اُمتی بنالیا ہے جس پر قرآن عظیم ناطق اور ہمارے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین میں اُس کی تفصیل فائق ولله الحمد۔ غرض یہاں دو۲ مطلب تھے ایك یہ کہ اجتماع خمس ہمارے سو ا کسی اُمت کو نہ ملا یہ حدیث معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں خود ارشاد اقدس حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ثابت دوسرے یہ کہ پانچوں نمازوں کا اجتماع انبیاء میں بھی صرف ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے یہ باعتماد علمائے کرام مانا جائے گا اگرچہ ہم اُس پر دلیل نہ پائیں کہ آخر کلمات علماء کا اطباق واتفاق بے چیزے نیست ہمارا دلیل نہ پانا دلیل نہ ہونے پر دلیل نہیں ۔

اقول : شاید نظرِ علما اس طرف ہوکہ جب حدیث صحیح سے ثابت کہ الله  عزوجل نے اس نعمتِ جلیلہ وفضیلتِ جلیلہ سے اس اُمتِ مرحومہ کو تمام اُمم پر تفضیل دی اور قطعًا ہمارے جس قدر فضل ہیں سب ہمارے آقا ومولٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے طفیل اور صدقہ میں ہیں تو مستبعد ہے کہ ہم تو اس خصوص نعمت سے سب اُمتوں پر فضیلت پائیں اور ہمارے مولٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے لئے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام پر یہ تخصیص واختصاص نہ ہو اس تقدیر پر یہی حدیث معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدلالۃً اس دعوے کی بھی مثبت ہوگی۔

اما حدیث السیدین ابرٰھیم واسمٰعیل ، علی ابنھما الکریم ثم علیھم الصلاۃ و التسلیم ، فلعلہ لم یثبت اذ لوثبت لمارأینا تظافر کلماتھم علٰی خلافہ ، علی انی اقول :  الاختصاص بجھۃ الافتراض ، اماھما صلی الله تعالٰی علی ابنھما ثم علیھما وبارك وسلّم ، فصلیا بمنی ماکتب الله تعالٰی علیھما وتنفلافی بقیۃ الاوقات ، فمن قبل وقوعھا فی ھذہ الاوقات ، عبر عنھا باسماء ھذہ الصلوات ، والله تعالٰی اعلم بالخفیات۔ ھذا غایۃ ما عندی فی توجیہ المرام۔                     

رہی دو سرداروں یعنی ابراہیم واسمٰعیل ان کے کریم بیٹے پر پھر ان دونوں پر صلوٰۃ وسلام ہو والی حدیث ، تو شاید وہ پایہ ثبوت تك نہیں پہنچی کیونکہ اگر ثابت ہوتی تو اتنی کثرت سے علماء کے اقوال اس کے خلاف نہ ہوتے علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ خصوصیت ، فرضیت کے اعتبار سے ہے (یعنی پانچ نمازیں فرض صرف رسول الله  پر ہوئیں ) ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام پر اُن میں سے جو فرض ہوں گی وہ انہوں نے بطور فرض مِنٰی میں پڑھی ہوں گی اور باقی اوقات میں نفل ادا کیے ہوں گے ، لیکن وہ نفل چونکہ واقع انہی پانچ اوقات میں ہوئے تھے ، اس لئے ان کی تعبیر نمازوں کے ناموں سے کردی گئی۔ اور الله  ہی پوشیدہ باتوں کو بہتر جاننے والا ہے اس مقصد کی زیادہ سے زیادہ توجیہ میرے خیال میں یہی ہوسکتی ہے۔ (ت)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن