30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علاء کا مختلط ہونا ہمارے نزدیك مضر نہیں ہے جب تك یہ ثابت نہ ہوکہ یہ روایت اس سے اختلاط سے بعد لی گئی ہے۔ کیونکہ شیخ ابن ہمام نے فتح القدیر کی کتاب الصلٰوۃ باب الشہید میں احمد کی روایت ذکر کی ہے جس کا ایك راوی عطاء ابن سائب ہے۔ اور عطاء ابن سائب کا مختلط ہونا سب کو معلوم ہے ، مگر ابن ہمام نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ حماد بن سلمہ نے یہ روایت عطاء کے اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے اس سے اخذ کی ہوگی۔ پھر اس کی دلیل بیان کی اور کہا کہ اگر ابہام پایا بھی جائے تو حسن کے درجے سے کم نہیں ہے۔ (ت)
اور امام مکحول ثقہ فقیہ حافظ جلیل القدر بھی رجال مسلم واربعہ سے ہیں ۔
والمرسل حجۃ عندنا وعند الجمھور اما ابھام شیوخ محمد فتوثیق المبھم مقبول عندنا کمافی المسلم وغیرہ لاسیما من مثل الامام محمد ومع قطع النظر عنہ فلقائل ان یقول قدانجبر بالتعدد فی فتح المغیث فی ذکر الملقوب رونیاھا فی مشایخ البخاری لابی احمد بن عدی قال سمعت عدۃ مشایخ یحکون وذکرھا ومن طریق ابن عدی رواھا الخطیب فی تاریخہ وغیرہ ولایضر جھالۃ شیوخ ابن عدی فیھا فانھم عدد ینجبر بہ جھالتھم [1]۔
مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیك حجت ہے۔ رہا محمد کے اساتذہ کا مبہم ہونا ، تو مبہم کی توثیق ہمارے نزدیك نزدیك مقبول ہے ، جیسا کہ مسلم وغیرہ میں ہے ، خصوصًا جب توثیق کرنے والی امام محمد جیسی ہستی ہو ، اور اس سے قطع نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ متعدد اسنادوں سے مروی ہونے کی وجہ سے اس کی یہ خامی دور ہوگئی ہے۔ فتح المغیث میں مقلوب کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ مشائخ البخاری “ میں احمد ابن عدی سے مروی ہے کہ میں نے متعدد مشائخ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے۔ ابن عدی ہی کے واسطے سے یہ بات خطیب نے بھی اپنی تاریخ میں ذکر کی ہے اور دےگر علماء نے بھی۔ اور ابن عدی کے اساتذہ کا مبہم ہونا مضر نہیں ہے کیونکہ ان کی تعداد اتنی ہے کہ اس کی وجہ سے وہ مجہول نہیں رہتے۔ (ت)
حدیث ۳۶ : امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآثار ماثورہ کتاب الحجج عیسٰی بن ابان میں روایت فرماتے ہیں : اخبرنا اسمٰعیل بن ابرھیم البصری عن خالد الحذاء عن حمید بن ھلال عن ابی قتادۃ العدوی قال سمعت قراء ۃ کتاب عمر بن الخطاب رضی الله تعالٰی عنہ ثلث من الکبائر الجمع بین الصلاتین والفرار من الزجف والنھبۃ [2]
(یعنی حضرت ابوقتادہ عدوی کہ اجلہ اکابر وثقات تابعین سے ہیں بلکہ بعض نے اُنہیں صحابہ میں گنا ، فرماتے ہیں میں نے امیرالمومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا شقّہ وفرمان سنا کہ تین۳ باتیں کبیرہ گناہوں سے ہیں : دو۲ نمازیں جمع کرنا اور جہاد میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا اور کسی کا مال لُوٹ لینا)
اقول : یہ حدیث اعلٰی درجہ کی صحیح ہے اس کے سب رجال اسمٰعیل بن ابراہیم ابن علیہ سے آخر تك ائمہ ثقات عدول رجال صحیح مسلم سے ہیں ولله الحمد۔
لطیفہ : حدیث مؤطا کے جواب میں تو ملّاجی کو وہی اُن کا عذر معمولی عارض ہواکہ منع کرنا عمر کا حالت اقامت میں بلاعذر تھا۔
اقول : اگر ہرجگہ ایسی ہی تخصیص تراش لینے کا دروازہ کھُلے تو تمام احکام شرعیہ سے بے قیدوں کو سہل چھٹی ملے جہاں چاہیں کہہ دیں یہ حکم خاص فلاں لوگوں کے لئے ہے ، حدیث صحیحین کو تین طرح رد کرنا چاہا :
اوّل : انکار جمع اس سے بطور مفہوم نکلتا ہے اور حنفیہ قائل مفہوم نہیں ، اس جواب کی حکایت خود اُس کے رَد میں کفایت ہے اُس سے اگر بطور مفہوم نکلتی ہے تو مزدلفہ کی جمع کہ مابعد الا ہمارے نزدیك مسکوت عنہ ہے انکار جمع تو اس کا صریح منطوق ومدلول مطابقی ومنصوص عبارۃ النص ہے۔
اقول : اولا اُس کی نسبت اگر بعض اجلہ شافعیہ کے قلم سے براہ بشریت لفظ مفہوم نکل گیا مُلّاجی مدعی اجتہاد وحُرمت تقلید ابوحنیفہ وشافعی کو کیا لائق تھا کہ حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم رَد کرنے کیلئے ایسی بدیہی غلطی میں ایك متأخر مقلد کی تقلید جامد کرتے شاید ردِ احادیث صحیحہ میں یہ شرك صریح جائز وصحیح ہوگا اب نہ اُس میں شائبہ نصرانیت ہے نہ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ[3] (انہوں نے اپنے عالموں اور راہبوں کو الله کے علاوہ اپنا رب بنالیا۔ ت) کی آفت كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) [4](الله کے نزدیك بڑا جُرم ہے کہ تم اس کام کا کہو جو خود نہیں کرتے۔ ت)
ثانیا : بفرض غلط مفہوم ہی سہی اب یہ نامسلّم کہ حنفیہ اس کے قائل نہیں صرف عبارات شارع غیر متعلقہ بعقوبات میں اس کی نفی کرتے ہیں کلام صحابہ ومن بعدہم من العلماء میں مفہوم مخالف بے خلاف مرعی ومعتبر کمانص علیہ فی تحریر الاصول والنھر الفائق والدرالمختار وغیرھا من الاسفار قد ذکرنا نصوصھا فی رسالتنا القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ ۱۳۔
دوم : ایك رام پوری ملّا سے نقل کیا کہ ابنِ مسعود سے مسند ابی یعلی میں یہ روایت بھی ہے کہ کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یجمع بین الصلاتین فی السفر [5] (رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسفر میں دو نمازیں جمع کرتے تھے۔ ت)تو موجہ ہے کہ حدیث صحیحین کو حالت نزول منزل اور روایت ابی یعلی کو حالت سیر پر حمل کریں یہ مذہب امام مالك کی طرف عود کرجائے گا۔
اوّلًا ملّاجی خود ہی اسی بحث میں کہہ چکے ف۱ ہوکہ شاہ صاحب نے مسند ابی یعلی کو طبقہ ثالثہ میں جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح حسن غریب معروف شاذ منکر مقلوب موجود ہیں ٹھہرایا ہے ، پھر خود ہی اس طبقے کی کتاب کو کہا ف۲ اس کتاب کی حدیث بدون تصحیح کسی محدّث کے یا پیش کرنے سند کے کیونکر تسلیم کی جاوے یہ کتاب اُس طبقے کی ہے جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح اور سقیم مختلط ہیں یہ کیا دھرم ہے کہ اوروں پر منہ آؤ اور اپنے لیے ایك رام پوری ملّا کی تقلید سے حلال بتاؤ اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ[6]۔
ثانیا اقول : مُلّاجی! کسی ذی علم سے التجا کرو تو وہ تمہیں صریح ومجمل ومتعین ومحتمل کا فرق سکھائے حدیث صحیحین انکار جمع حقیقی میں نص صریح ہے اور روایت ابویعلٰی حقیقی جمع کا اصلًا پتا نہیں دیتی بلکہ احادیث جمع صوری میں عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیثیں صاف صاف جمع صوری بتارہی ہیں تمہاری ذی ہوشی کہ نص ومحتمل کو لڑاکر اختلاف محامل سے راہِ توفیق ڈھونڈتے ہو۔
لطیفہ : اقول مُلّاجی کا اضطراب قابلِ تماشا ہے کہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کہیں راوی جمع ٹھہرا کر عدد رواۃ پندرہ بتاتے ہیں کہیں نافی سمجھ کر چودہ صدر کلام میں جہاں راویان جمع گنائے صاف صاف کہا ابن مسعود فی احدی الروایتین اب رامپوری ملّا کی تقلید سے وہ احدی الروایتین بھی گئی ابنِ
مسعود خاصے مبثتان جمع میں ٹھہرگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع