دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

علاوہ کس منہ سے کہہ رہے ہو ، مُلّاجی! کبھی کسی کرّے سے پالا نہ پڑا ہوگا کہ عمل بالحدیث کا دعوٰی بھُلا دیتا ، سبحٰن الله  تحریف احادیث اور اُس کا نام عمل بالحدیث اسمٌ طیب وعملٌ خبیث ، ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔

قسم دوم نصوص عامہ

حدیث ۳۳ : صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی ومصنّف طحاوی میں بطرق عدیدہ والفاظ مجملہ ومفصلہ مختصرہ ومطولہ مروی وھذا لفظ البخاری حدثنا عمر بن حفص بن غیاث ثنا ابی ثنا الاعمش ثنی عمارۃ عن عبدالرحمٰن عن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہ قال مارأیت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم صلی صلاۃ لغیر میقاتھا الاصلاتین جمع بین المغرب والعشاء وصلی الفجر قبل میقاتھا [1] ولمسلم حدثنا یحیی بن یحیی وابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب جمیعا عن ابی معویۃ قال یحیٰی اخبرنا ابومعویۃ عن الاعمش عن عمارۃ عن عبدالرحمٰن بن یزید عن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہ قال مارأیت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم صلی صلاۃ الالمیقاتھا الاصلاتین صلاۃ المغرب والعشاء بجمع وصلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا [2] وحدثناہ عثمٰن بن ابی شیبۃ واسحٰق بن ابرھیم جمیعا عن جریر عن الاعمش بھذا الاسناد قال قبل وقتھا بغلس [3] (یعنی حضرتِ حاضر سفر وحضر ومصاحب وملازم جلوت وخلوتِ سید البشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسیدنا عبدالله  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہ سابقین اوّلین فی الاسلام وملازمین خاص حضور سید الانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام سے تھے بوجہ کمال قرب بارگاہ اہلبیت عـــہ   رسالت

عــہ  بخاری مسلم ترمذی نسائی ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے :

قال قدمت اناواخی من الیمن فمکثنا حینا مانری الا ان عبدالله بن مسعود رجل من اھلبیت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لما نری من دخولہ ودخول امّہ علی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [4]۔ (م)

فرمایا : میں اور میرے بھائی یمن سے آئے تو مدت تك ہم سمجھا کئے کہ عبدالله  بن مسعود حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے اہلبیت سے ہیں اُنہیں اور اُن کی ماں کو جو بکثرت کا شانہ رسالت میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ۱۲ منہ

سے سمجھے جاتے اور سفر وحضرمیں خدمت عـــہ والا منزلت منزلت بسترگستری ومسواك ومطہرہ داری وکفش برداری محبوب باری صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے معزز وممتاز رہتے ، ارشاد فرماتے ہیں میں نے کبھی نہ دیکھا کہ حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کبھی کوئی نماز اُس کے غیر وقت میں پڑھی ہو مگر دو۲ نمازیں کہ ایك اُن میں سے نماز مغرب ہے جسے مزدلفہ میں عشاء کے وقت پڑھا تھا اور وہاں فجر بھی روز کے معمولی وقت سے پیشتر تاریکی میں پڑھی)

حدیث ۳۴ : سنن ابی داؤد میں ہے : حدثنا قتیبۃ ناعبدالله بن نافع عن ابی مودود عن سلیمن بن ابی یحیٰیعن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھا قال ما جمع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بین المغرب والعشاء قط فی السفر الا مرۃ [5](یعنی حضرت عبدالله  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کبھی کسی سفر میں مغرب وعشاء ملاکر نہ پڑھی سوا ایك بار کے) ظاہر ہے کہ وہ بار وہی سفر حجۃ الوداع ہے کہ شب نہم ذی الحجہ مزدلفہ میں جمع فرمائی جس پر سب کا اتفاق ہے۔

اقول : اس حدیث کی سند حسن جید ہے ، قتیبہ توقتیبہ ہیں ثقہ ثبت رجال ستّہ سے ، اور عبدالله  بن نافع ثقہ صحیح الکتاب رجال صحیح مسلم سے اور سلیمٰن بن ابی یحیٰی لاباس بہ (اس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ ت) ابن حبان نے اُنہیں ثقات تابعین میں ذکر کیا ، رہے ابومودود وہ عبدالعزیز بن ابی سلیمن مدنی ہذلی مقبول ہیں کما فی 

عـــہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت علقمہ سے مروی مَیں ملك شام میں گیا دو۲ رکعت پڑھ کر دعا مانگی : الٰہی! مجھے کوئی نیك ہم نشین میسر فرما۔ پھر ایك قوم کی طرف گیا اُن کے پاس بیٹھا تو ایك شیخ تشریف لائے میرے برابر آکر بیٹھ گئے میں نے پُوچھا یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا ابودردأ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ میں نے کہا میں نے الله  عزوجل سے دُعا کی تھی کہ کوئی نیك ہم نشین مجھے میسر کرے ، الله  تعالٰی نے آپ ملادئیے۔ فرمایا : تم کون ہو؟ میں نے کہا اہلِ کوفہ سے۔ فرمایا :

اولیس عندکم ابن ام عبد صاحب النعلین والوسادۃ والمطھرۃ [6]۔

کیا تمہارے پاس عبدالله  بن مسعود نہیں وہ نعلین ومسند خواب وظروف وضو وطہارت والے۔

یعنی جن کے متعلق یہ خدمتیں تھیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجس مجلس میں تشریف فرما ہوں نعلین اُٹھا کر رکھیں اُٹھتے وقت سامنے حاضر کریں سوتے وقت بچھونا بچھائیں اوقاتِ نماز پر پانی حاضر لائیں ظاہر ہے کہ انہیں خلوت وجلوت ہر حالت میں کیسی ملازمت دائمی کی دولت عطا فرمائی پھر ان کے علم کے بعد کسی کی کیا حاجت ہے قالہ القاضی کمانقلہ فی المرقاۃ ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)

التقریب۔ حافظ الشان نے تہذیب التہذیب میں فرمایا : سلیمٰن بن ابی یحیٰی حجازی روی عن ابی ھریرۃ وابن عمر ، وعنہ ابن عجلان وداؤد بن قیس وابومودود عبدالعزیز بن ابی سلیمٰن ، قال ابوحاتم ، مابحدیثہ باس ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ، روی لہ ابوداود حدیثا واحدا فی الجمع بین المغرب والعشاء[7]۔

ثمّ اقول : بعد نظافت سند مثل حدیث کا بروایت ایوب عن نافع عن ابن عمر بلفظ لم یرابن عمر جمع بینھما قط الاتلك اللیلۃ (ابن عمر کو نہیں دیکھا کہ دو۲ نمازوں کو جمع کیا ہو سوائے اس رات کے۔ ت) مروی ہونا کچھ مضر نہیں اگر یہاں نافع فعل ابن عمر اور وہاں ابن عمر فعل سیدالبشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمروایت کریں کیا منافات ہے خصوصًا یروی عن ایوب معضل ہے اور معضل ملّاجی کے نزدیك محض مردود ومہل اور وہ بھی بصیغہ مجہول کو غالبًا مشیر ضعف ہے تو ایسی تعلیق حدیث سند متصل کے کب معارض ہوسکتی ہے۔

حدیث ۳۵ : مؤطائے امام محمد میں ہے : قال محمد بلغنا عن عمر بن الخطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُانہ کتب فی الاٰفاق یناھھم ان یجمعوا بین الصلاۃ واخبرھم ان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر اخبرنا بذلك الثقات عن العلاء بن الحارث عن مکحول[8]۔ (یعنی امیرالمؤمنین امام العادلین ناطق بالحق والصواب عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تمام آفاق میں فرمان واجب الاذعان نافذ فرمائے کہ کوئی شخص دو۲ نمازیں جمع نہ کرنے پائے اور اُن میں ارشاد فرمادیا کہ ایك وقت میں دو۲ نمازیں ملانا گناہِ کبیرہ ہے)

الحمد لله امام عادل فاروق الحق والباطل نے حق واضح فرمادیا اور اُن کے فرمانوں پر کہیں سے انکار نہ آنے نے گویا مسئلے کو درجہ اجماع تك مترقی کیا۔

اقول : یہ حدیث بھی ہمارے اصول پر حسن جید حجّت ہے علاء بن الحارث تابعی صدوق حقیہ رجال صحیح مسلم وسنن اربعہ سے ہیں ۔

واختلاطہ لایضر عندنا مالم یثبت الاخذ بعدہ فقد ذکر المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر کتاب الصلاۃ باب الشھید حدیث احمد ثنا عفان بن مسلم ثنا حماد بن سلمۃ ثنا عطاء بن السائب ومعلوم ان عطاء بن السائب ممن اختلط فقال ارجوان حماد بن سلمۃ ممن اخذ منہ قبل التغیر ثم ذکر الدلیل علیہ ثم قال وعلی الابھام لاینزل علی الحسن

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن