30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب حدیثیں تصریح صریح ہیں کہ روحِ امیں علیہ الصلاۃ والتسلیم ظہر کے لئے حاضر اس وقت ہُوئے جب سایہ ایك مثل کو پہنچ چکا تھا اس وقت نماز پڑھنے کے لئے عرض کی اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے پڑھی اس کے یہ معنی کیونکر ممکن کہ ختمِ مثل تك نماز سے فارغ ہولےے تھے۔ حدیث سائل بروایت عبدالله بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں ابوداؤد کے یہاں یوں ہے : امربلالافاقام الفجر حین انشق (الی قولہ) فاقام الظھر فی وقت العصر الذی کان قبلہ [1]۔
اس میں تصریح ہے کہ ایك مثل ہونے پر بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ظہر کی تکبیر کہی تو مثل تك فراغ کیسا۔
ثانیا آیہ کریمہ تو آپ کے نزدیك عام ہے اور احادیث جبریل وسائل خاص اور آپ کے اصول میں عام وخاص متعارض نہیں بلکہ عام اُس خاص سے مخصص ہوجائے گا ولہذا خود بھی یہاں معارضہ صرف احادیث میں مانا نہ آیت وحدیث میں پھر اُن حدیثوں کے مقابل آیت کا پیش کرنا کیا معنی ، کیا آپ کے داؤں کو آیت عام نہیں رہتی تخصیص حرام ہوجاتی ہے۔
ثالثًا احادیث میں دفع معارضہ یوں بھی ممکن کہ حدیث تفریط میں وقت الصلاۃ الاخرٰی [2]سے اُس کا وقت خاص مراد لیجئے یعنی نماز قضا جب ہوتی ہے کہ دوسری نماز کا وقتِ خاص آجائے جب تك وقتِ مشترك باقی ہے قضا نہ ہُوئی اور حدیث عبدالله بن عمرو میں ظہر خواہ عصر دونوں سے جس میں چاہے وقت خاص لے لیجئے اور دوسری میں وقت مطلق یعنی ظہر کا وقت خاص وقت عصر آنے تك ہے جب عصر کا وقت آیا ظہر کا خاص وقت نہ رہا اگرچہ مشترك باقی ہو یا ظہر کا وقت عصر کے وقت خاص آنے تك ہے کہ اس کے بعد ظہر کا وقت خاص خواہ مشترك اصلًا نہیں رہتا تو صورت موافقت اسی میں منحصر نہ تھی جس سے آپ احتمالِ اشتراك عـــہ کو دفع کرسکیں ، ملّاجی مدعی بننا آسان ہے مگر اقامت دلیل کے گر انبار عہدوں سے سلامت نکل جانا مشکل۔
اب اس صریح ظلم وناانصافی کو دیکھےے کہ مسئلہ وقتِ ظہر میں آیت واحادیث توقیت کے عموم وظواہر پر وہ ایمان کہ نہ آیت صالح تخصیص نہ یہ حدیثیں لائق تاویل نہ ان کے مقابل صحاح حدیث قابل قبول بلکہ واجب کہ وہ حدیثیں تاویلوں کی گھڑت سے موافق کرلی جائیں اگرچہ وہ اُس تاویل سے صاف ابا کرتی ہوں اور ان میں ہرگز تاویل نہ کی جائے اگرچہ بے دقّت اُسے جگہ دیتی ہوں ۔ اور جب مسئلہ جمع کی باری آئے فورًا نگاہ پلٹ جائے اب آیت واحادیث واجب التخصیص ، اور اُن کے مقابل نری احتمالی چند روایات واجب الاعتماد وقطعی التنصیص ، اور ان کے لئے آیات واحادیث کے مطابق صاف ونظیف محامل مردود وباطل ، غرض شریعت اپنے گھر کی ہے ، اجتہاد کی کوٹھری دوہرے درکی ہے۔ دیانت کا ٹٹّو دونوں باگوں کستا ہے ، پورب کی سڑك میں پچھم کا رستہ ہے ع :
گر میں گیا اِدھر سے اُدھر سے نکل گیا
لطیفہ : حدیث بست وہشتم مروی صحیح مسلم شریف کے جواب میں ملّاجی کی نزاکتیں قابلِ تماشا۔
اوّلًا : ف۱ یہ حدیث اُسی شخص کے حق میں ہے کہ بلاعذر تاخیر کرے نہ اُس کے حق میں جو مسافر ہو ، یہ وہی دعوٰی باطلہ تخصیص بے مخصص ہے۔
ثانیا : سبب حدیث خود نماز سفر کا سوتے میں قضا ہوجانا ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماُس وقت سفر ہی میں تھے تو نماز سفر کو اس حکم سے خارج ماننا طرفہ جہالت ہے۔
ثالثًا : عذر بدتر ازگناہ سُنئے فرماتے ف۲ ہیں اگر کہو کہ یہ حدیث سفر میں فرمائی تھی پس مسافر کو حکم اس کا شامل ہوگا تو کہا جائے گا کہ ظرف قول کی باعث اور قرینہ اُس کی تعمیم یا تخصیص پر نہیں ہوتی۔
اقول : ملّاجی! کسی پڑھے لکھے سے ظرف وسبب کا فرق سیکھو یہ نہیں کہا جاتا کہ حدیث سفر میں فرمائی تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ نمازِ سفر کا قضا ہونا سببِ ارشاد ہوا تو خود سببِ نص حکم نص سے کیونکر جُدا رہے گا کیا ظلم ہے کہ نص کا خاص جس مورد میں ورود وہی خارج ونامقصود ، اور نص اس کے مباین پر مقصور ومحدود۔
عـــہ اقول : ظاہر ہے کہ احتمال اشتراك مسئلہ مجمع میں قائل جمع کو اصلًا نافع نہیں جمع تقدیم سے تو اُسے مس ہی نہیں اور جمع تاخیر بھی اس کے قائل کے نزدیك صرف آغاز وابتدائے وقت آخر بقدر چار رکعت سے مخصوص نہیں معہذا جب وقت مشترك ٹھہرا پہلی نماز بھی اپنے وقت پر ہُوئی اور اس کے بعد دُوسری بھی اپنے وقت میں ، یہ جمع صوری ہے نہ حقیقی کہ ایك نماز اپنے وقت سے خارج ہوکر دُوسری کے وقت میں پڑھی جائے کما لایخفی ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)
ف۱ معیارالحق مسئلہ پنجم جمع بین الصلاتین ص ۴۱۷ ، ف۲ معیارالحق ص ۴۱۷ ، ف۲ معیارالحق ص ۴۱۷
رابعًا : قیامت دلربا نزاکت تو یہ کی کہ فرماتے ف۱ ہیں اگر ظرف کو دخل ہوتو کہا جائے گا کہ یہ قول آنحضرت عــہ نے وقت نماز فجر کے اور فوت ہوجانے نماز فجر کے نیند میں فرمایا تھا پس حکم سفر فجر ہی کا بیان کیا جس کا جمع کرنا کسی نماز سے ممکن نہ تھا نہ ظہر وعصر مغرب عشا سفر کی کا۔
اقول : بھئی یہ تو خوب ہی کِیکا ، ہاں مُلّاجی! حدیث میں کا ہے کا ارشاد ہورہا ہے فجر سفر کی کا نہ اور نمازوں سفر کی کایعنی صبح کی نماز میں تقصیر اُس وقت ہوگی کہ تُو اُسے نہ پڑھے یہاں تك کہ ظہر کا وقت آجائے بہت معقول سورج نکلے پہر دن چڑھے ٹھیك دوپہر ہو جب تك نمازِ فجر اُٹھا رکھئے کچھ تقصیر نہیں جب ظہر کا وقت آئے اس وقت تقصیر ہوگی انّا الله وانّا الیہ راجعونo مُلّاجی! دِلّی میں تو اچھّے اچھے حکیم سُنے گئے ہیں ، لکھنے چلے تھے تو پہلے دماغ کی نبض دکھالی ہوتی ، نمازیں پانچ ہیں اُن میں چار متوالی الاوقات اور فجر جُدا سب کا حکم بیان کیجئے تو بطور تغلیب یہ کلمہ صحیح جیسا کہ حدیث ۳۱ و ۳۲ میں اقوالِ حضرت ابوہریرہ وابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے گزرا کہ خاص فجر کا حکم ان لفظوں سے ارشاد ہوکہ جب تك ظہر نہ آئے فجر نہ پڑھنے میں تقصیر نہیں ۔
خامسا : اقول ملّاجی! اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا تو اخراج ظہر وعصر ومغرب وعشا کے کیا معنے ، یہ کیا ستم جہالت ہے کہ آپ کا خصم اطلاق نص وشمول مورد سے تمسك کرے آپ جواب میں اقتصار علی المورد پیش کردیں یا وہ بے نمکی کہ دخول موردے سے راسًا انکار یا یہ شورا شوری کہ اُسی پر انقطاع اُسی میں انحصار غرض سیدھا چلنا ہر طرح ناگوار۔
سادسًا : اب اور آنکھیں کھُلیں تو علاوہ کی پوٹ باندھی ف۲ کہ مسافر جمع کرنے والے کو ضرور ہے کہ ارادہ جمع کا پہلی نماز کے وقت کے اندراندر کررکھے جس نے ارادہ نہ کیا اُس کی جمع درست نہ ہوگی پس اگر مسافر کو بھی شامل کرو تو ایسا مسافر مورد ومحمل حدیث کا ہوگا۔
اقول : یہ ایسا ویسا تم کہہ رہے ہو یا حدیث ارشاد فرمارہی ہے حدیث میں تو ایسے ویسے کی کہیں بُو بھی نہیں کہا اپنی ہوائے نفس پر احادیث کا ڈھال لانا ہی عمل بالحدیث ہے۔
سابعًا اقول : خود مسافر کو شامل کہہ رہے ہو نہ مسافر سے خاص تو لاجرم حدیث وہ حکم فرمارہی ہے جو مسافر ومقیم سب کو شامل کیا بھلا چنگا مقیم بھی اگر وقت کے اندر اندر نیت رکھے کہ یہ نماز وقت گزر جانے کے بعد پڑھ لوں گا تو تقصیر نہیں کھُلا کھُلا رافضیوں کا مذہب کیوں نہیں لکھ دیتے اور بعد خرابی بصرہ نہیں بلکہ تباہی کوفہ اگر حاصل ٹھہرے گا تو وہی کہ حدیث احادیث جمع سے مخصوص یہ شامت امام سے وہی آپ کا عذر معمولی جابجا ہے پھر اُسے
عــہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۱۲ منہ (م)
ف۱ معیارالحق ص ۴۱۷ ، ف۲ معیار الحق صــ ۴۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع