30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(نوعِ آخر) حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی پیشگوئی کہ کچھ لوگ وقت گزار کر نماز پڑھیں گے تم اُن کا اتباع نہ کرنا اسے مطلق فرمایا کچھ سفر وحضر کی تخصیص ارشاد نہ ہوئی۔
حدیث ۲۳ : مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی احمد دارمی حضرت ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :
قال قال رسول الله تعالٰی علیہ وسلم وضرب فخذی کیف انت اذابقیت فی قوم یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا قال قلت ماتامرنی قال صل الصلاۃ لوقتھا الحدیث [1]۔
حضور سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا تیرا کیا حال ہوگا جب تُو ایسے لوگوں میں رہ جائے گا جو نماز کو اس کے وقت سے تاخیر کریں گے ، میں نے عرض کی حضور مجھے کیا حکم دیتے ہیں ، فرمایا تُو وقت پر پڑھ لینا۔
حدیث ۲۴ : احمد ابوداود ابن ماجہ بسند صحیح عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
ستکون علیکم بعدی امراء تشغلھم اشیاء عن الصلاۃ لوقتھا حتی یذھب وقتھا فصلوا الصلاۃ لوقتھا [2] الحدیث۔
میرے بعد تم پر کُچھ حاکم ہوں گے کہ اُن کے کام وقت پر انہیں نماز سے روکیں گے یہاں تك کہ وقت نکل جائے گا تم وقت پر نماز پڑھنا۔
حدیث ۲۵ : ابوداؤد حضرت عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :
قال قال لی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کیف بکم اذااتت علیکم امراء یصلون الصلاۃ لغیر میقاتھا قلت فماتامرنی اذاادرکنی ذلك یارسول الله قال صلی الصلاۃ لمیقاتھا واجعل صلاتك معھم سبحۃ [3]۔
فرمایا مجھ سے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا تم لوگوں کا کیا حال ہوگا جب تم پر وہ حکام آئینگے کہ غیر وقت پر نماز پڑھیں گے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! جب میں ایسا وقت پاؤں تو حضور مجھے کیا حکم دیتے ہیں ۔ فرمایا نماز وقت پر پڑھ اور اُن کے ساتھ نفل کی نیت سے شریك ہوجا۔
(نوع آخر) ارشادِ صریح کہ جب ایك نماز کا وقت آیا دوسری کا وقت جاتا رہا قضا ہوگئی اور اس کی ممانعت ومذمّت۔
حدیث ۲۶ : مسلم وابوداؤد ونسائی وعیسٰی بن ابان حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
وقت الظھر مالم یحضر العصر ووقت المغرب مالم یسقط ثور الشفق[4]۔ ھذا مختصر
ظہر کا وقت جب تك ہے کہ عصر کا وقت نہ آئے اور مغرب کا وقت جب تك ہے کہ شفق نہ ڈوبے۔
حدیث ۲۷ : ترمذی وطحاوی بسند صحیح بطریق محمد بن فضیل عن الاعمش عن ابی صالح ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
ان للصلاۃ اولا واٰخرا وان اول وقت صلاۃ الظھر حین تزول الشمس واٰخر وقتھا حین یدخل وقت العصر وفیہ ان اول وقت المغرب حین تغرب الشمس وان اٰخر وقتھا حین ےغیب الشفق [5]۔
بیشك نماز کے لئے اوّل وآخر ہے اور بیشك آغاز وقت ظہر کا سورج ڈھلے سے اور ختم وقت ظہر کا وقتِ عصر آنے پر ہے اور بیشك ابتدا وقت مغرب کی سورج چھُپے ہے اور بیشك انتہا اُس کے وقت کی شفق ڈوبے۔
حدیث ۲۸ : مسلم واحمد وابوداود وابن ماجہ وطحاوی وابنِ حبان حضرت ابوقتادہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ان تؤخر صلاۃ حتی یدخل وقت صلاۃ اخری [6]۔
سوتے میں کچھ تقصیر نہیں تقصیر تو جاگتے میں ہے کہ تُو ایك نماز کو اتنا پیچھے ہٹائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔
یہ حدیث خود حالتِ سفر میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمائی تھی حین فاتتھم صلاۃ الصبح لیلۃ التعریس وھو عند ابی داود و ابن ماجۃ من دون قولہ ان توخر (جب “ لیلۃ التعریس “ کی صبح کو ان سے فجر کی نماز قضا ہوگئی تھی۔ یہ روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے مگر اس میں “ ان تؤخر “ کا لفظ نہیں ۔ ت)یہ حدیث نص صریح ہے کہ ایك نماز کی یہاں تك تاخیر کرنی کہ دوسری کا وقت آ جائے تقصیرہ گناہ ہے۔
حدیث ۲۹ : بزار ومحی السنۃ بغوی حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :
قال سألت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن قول الله عزّوجل
الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵)قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا [7]۔
فرمایا میں نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے پُوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں الله عزوجل قرآن مجید میں فرماتا ہے خرابی ہے اُن نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں ، ارشاد فرمایا وہ لوگ جو نماز کو اس کے وقت سے ہٹا کر پڑھیں ۔
بغوی کی روایت یوں ہے :
اخبرنا احمد بن عبدالله الصالحی (فساق بسندہ) عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی الله تعالٰی عنھما انہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوٰتھم ساھون قال اضاعۃ الوقت [8]۔
ہمیں احمد بن عبدالله الصالحی نے خبر دی (پُوری سند کو ذکر کیا) مصعب بن سعد سے وہ اپنے باپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا ، فرمایا اس سے مراد وقت کھونا ہے۔
حدیث ۳۰ : امام ابن ابان حضرت عبدالله بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی :
قال وقت الظھر الی وقت العصر ووقت العصر الی المغرب وقت المغرب الی العشاء و العشاء الی الفجر [9]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع