30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محافطت کرو کہ کوئی نماز اپنے وقت سے اِدھر اُدھر نہ ہونے پائے ، بیچ والی نماز نمازِ عصر ہے اُس وقت لوگ بازار وغیرہ کے کاموں میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں اور وقت بھی تھوڑا ہے اس لئے اُس کی خاص تاکید فرمائی۔ بیضاوی شریف علّامہ ناصرالدین شافعی میں ہے :
حافظوا علی الصلوات ، بالاداء لوقتھا والمداومۃ علیھا [1]۔
نمازوں کی محافظت کرو ، یعنی وقت پر اداکرو اور ہمیشہ کرو۔ (ت)
مدارك شریف میں ہے :
حافظوا علی الصلوات ، داوموا علیھا لمواقیتھا [2]۔
نمازوں پر محافظت کرو ، یعنی ہمیشہ بروقت پڑھو۔ (ت)
ارشاد العقل السلیم میں ہے :
حافظوا علی الصلوات ای داوموا علٰی ادائھا لاوقاتھا من غیر اخلال بشیئ منھا [3]۔
نمازوں پر محافظت کرو ، یعنی ہمیشہ بروقت پڑھو اور ان میں کسی قسم کا خلل نہ واقع ہونے دو۔ (ت)
آیت ۳ قال العلی الاعلی تبارك وتعالٰی :
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۱۱) [4]
اور وہ لوگ جو اپنی نماز کی نگہداشت کرتے ہیں کہ اُسے وقت سے بے وقت نہیں ہونے دیتے وہی سچّے وارث ہیں کہ جنّت کی وراثت پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔
معالم شریف امام بغوی شافعی میں ہے :
یحافظون ، ای یداومون علی حفظھا ویراعون اوقاتھا ، کررذکر الصلاۃ لیتبین المحافظۃ علیھا واجبۃ [5]۔
محافظت کرتے ہیں یعنی ہمیشہ نگہبانی کرتے ہیں اور ان کے اوقات کا خیال رکھتے ہیں ۔ نماز کا ذکر مکرر کیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ اس کی محافظت واجب ہے۔ (ت)
آیت ۴ قال المولی الاجل عزّوجل :
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ(۳۴) اُولٰٓىٕكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ(۳۵)[6]۔
اور وہ لوگ کہ اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں ہر نماز اس کے وقت میں ادا کرتے ہیں وہ جنّتوں میں عزت کئے جائیں گے۔
جلالین شریف امام جلال الملّۃ والدّین شافعی میں ہے : یحافظون ، بادائھا فی اوقاتھا [7] (محافظت کرتے ہیں یعنی وقت پر ادا کرتے ہیں ۔ ت) نسفی شریف میں ہے :
المحافظۃ علیھا ان لاتضیع عن مواقیتھا [8]۔
نماز کی محافظت یہ ہے کہ اپنے اوقات سے ضائع نہ ہو۔ (ت)
آیت ۵ قال المولی تقدس وتعالٰی :
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ(۹۲) [9]
اور جنہیں آخرت پر یقین ہے وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
کہ وقت سے باہر نہ ہوجائیں ۔ تفسیر کبیر عــہ میں ہے :
المراد بالمحافظۃ التعھد لشروطھا من وقت وطھارۃ وغیرھما والقیام علی ارکانھا واتمامھا حتی یکون ذلك دابہ فی کل وقت [10]۔
محافظت سے مراد یہ ہے کہ وقت اور طہارت وغیرہ تمام شروط کو ملحوظ رکھا جائے ، اس کے ارکان کو قائم کیا جائے اور اسے مکمل کیا جائے یہاں تك کہ جب نماز کا وقت آئے تو آدمی ان کاموں کو بطور عادت کرنے لگے۔ (ت)
عــہ : ذکرہ تحت ایۃ المؤمنون ۱۲ منہ (م)
یہ انہوں نے سورۃ مومنون ۲۳ کی آیۃ ۹ کے تحت ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
محافظتِ وقت کے یہ معنی جو ہم نے علمائے حنفیہ کے سوا ہر آیت میں علمائے شافعیہ سے نقل کئے کہ ہر نماز اپنے ہی وقت پر ہو خود احادیث میں ارشاد ہوئے جن کا ذکر عنقریب آتا ہے اِن شاء الله تعالٰی۔
آیت ۶ قال رب العلی عزّوعلا :
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ [11]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع