30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممکّہ میں تھے تو سُورج غائب ہوگیا چنانچہ جمع کیا آپ نے دونوں کو سَرِف میں (نعیم نے اضافہ کیا) یعنی نماز کو۔ اور مؤمل کے الفاظ یوں ہیں سُورج غائب ہوگیا اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممکہ میں تھے تو آپ نے دونوں نمازوں کو سَرفِ میں جمع کیا۔ ابوداؤد نے کہا کہ مجھ کو احمد ابن حنبل کے ہمسائے محمد بن ہشام نے بتایا کہ جعفر ابن عون نے ہشام ابن سعد سے روایت کی ہے کہ دونوں کے درمیان دس۱۰ میل کا فاصلہ ہے یعنی مکّہ اور سَرِف کے درمیان۔ (ت)
یعنی حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو مکّہ معظمہ میں آفتاب ڈوباپس مغرب وعشا موضع سَرِف میں جمع فرمائیں ابوداؤد نے ہشام بن سعد سے (کہ ملّاجی کے حسابوں رافضی مجروح مردود الروایہ متروك الحدیث ہے تقریب میں کہا صدوق ، لہ اوھام ، ورمی بالتشیع) نقل کی کہ مکّہ وسَرِف میں دس۱۰ میل کا فاصلہ ہے۔
اقول وبالله التوفیق اصول حدیث ونیز اصول محدثہ ملاجی پر یہ حدیث ہرگز قابل حجت نہیں اصولِ حدیث پر اُس کی سند ضعیف اور اصولِ مُلّائیہ پر ضعف درضعف درضعف کیا جانیے کتنے ضعفوں کی طومار اور نری مردود متروك ہے۔
اولًا دو طریق پیشین میں یحیٰی بن محمد جاری ہے تقریب میں کہا : صدوق ویخطیئ (سچّا ہے مگر خطا کرتا ہے۔ ت) امام بخاری نے فرمایا : یتکلمون فیہ (ائمہ محدثین اُس پر طعن کرتے ہیں ۔ ت) میزان میں یہی حدیث اس کے ترجمہ میں داخل کی اور کتب ضعفا میں زیر ترجمہ ضعفا اُن کی منکر حدیثیں ذکر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ طریق دوم میں مؤمل بن اہاب ہے تقریب میں کہا : صدوق لہ اوھام (سچّا ہے ، اس کو اوہام ہیں ۔ ت) طریق ثالث میں نعیم بن حماد ہے یہ اگرچہ فقیہ وفرائض وان تھا مگر حدیثی حالت میں یحیٰی سے بھی بدتر ہے تقریب میں کہا صدوق یخطئ کثیرا (سچّا ہے مگر خطا بہت کرتا ہے۔ ت) یہاں تك کہ ابوالفتح ازدی نے کہا : حدیثیں اپنے جی سے گھڑتا اور امام ابوحنیفہ کے مطاعن میں جھوٹی حکایتیں وضع کرتا تھا یہ اگرچہ مجازفات ازدی سے ہو مگر ذہبی نے طبقات الحفاظ ومیزان الاعتدال دونوں میں اُس کے حق میں قول اخیریہ قرار دیا کہ وہ باوصف امامت منکر الحدیث ہے قابل احتجاج نہیں جامع صحیح میں اس کی روایت مقرونہ ہے نہ بطور حجیت ، امام جلال الدین سیوطی ذیل اللالی میں اُس کی حدیث اذا ارادالله ان ینزل الی السماء الدنیا نزل عن عرشہ بذاتہ (جبب الله تعالٰی آسمانِ دنیا پر اُترنا چاہتا ہے تو بذاتہٖ عرش سے اُترآتا ہے۔ ت) ذکر کرکے فرماتے ہیں : اتعبنا نعیم بن حماد ، من کثرۃ مایاتی بھذہ الطامات ، وکم ندرؤ عنہ وعن الطرطوسی الراوی عنہ؟ فلاادری ، البلاء فی الحدیث منہ ، اومن شیخہ نعیم[1]! اھ ملخصا یعنی نعیم بن حماد اس کی کثرت سے یہ طامّات روایتیں لاتا ہے کہ ہم تھك گئے کہاں تك اُس کا اور اس کے شاگرد طرطوسی کا بچاؤ کریں مجھے نہیں معلوم کہ اس حدیث میں بَلا اُس کی طرف سے اُٹھی یا اُس کے اُستاد نعیم سے۔
ثانیا پھر ان سب طرق میں عبدالعزیز بن محمد دراوردی ہے تقریب میں کہاـ صدوق ، کان یحدث من کتب غیرہ فیخطیئ [2] (سچّا ہے ، مگر دوسروں کی کتابوں سے حدیثیں بیان کرتا ہے اس لئے خطا کرتا ہے۔ ت) تو ہر طریق میں دو۲ راوی صدوق یخطیئ (سچّا ہے مگر خطا کرتا ہے۔ ت) ہوئے خصوصًا ثالث میں تو ایك کثیر الخطاء اور ثانی میں تیسرا صدوق لہ اوھام (سچّا ہے ، اس کو اوہام ہیں ۔ ت) اور ملّاجی کے اصول پر ایسے رواۃ کی حدیثیں مردود ومتروك وواہیات ہیں۔
ثالثا مدار حدیث ابوالزبیر عن جابر پر ہے ابوالزبیر کی نسبت خود ملّاجی کہہ گئے کہ وہ فقط صدوق ہے اور اس کے ساتھ مدلس قال فی التقریب صدوق الا انہ یدلس [3](تقریب میں کہا کہ سچّا ہے مگر مدلس ہے۔ ت)
اور یہاں اُن عــہ سے راوی لیث بن سعد نہیں اور روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس اصولِ محدثین پر نامقبول۔
عــہ قید بھذا ، لان الرادی عنہ اذاکان اللیث ، زال مایخشی من تدلیسہ ، کماافادہ فی فتح المغیث وغیرہ ، فلیحفظ فانھا فائدۃ نفیسۃ۔ وقد بین السبب فی ذلك فی المیزان فراجعہ ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
یہ قید اس لئے لگائی ہے کہ اگر اس سے روایت کرنے والا لیث ہوتو پھر اس کی تدلیس کا خطرہ باقی نہیں رہتا ، جیسا کہ فتح المغیث اور دوسری کتابوں میں افادہ کیا گیا ہے۔ اس کو یاد رکھو ، کیونکہ یہ ایك نفیس فائدہ ہے۔ تدلیس کا خطرہ نہ ہونے کا سبب میزان میں مذکور ہے اس کا مطالعہ کرو۔ (ت)
رابعا میلوں کی گنتی حدیث میں نہیں نہ زید وعمرو کی ایسی حکایات پر وہ اعتماد ضرور جس کے سبب توقیت صلاۃ کا حکم معروف ومشہور ثابت بالقرآن العظیم والاحادیث الصحاح چھوڑ دیا جائے خصوصًا ملّاجی کے نزدیك تو یہ دس میل بتانے والا رافی متروك ہے زمینوں کا ناپنا میلوں کا گننا ان حملہ ورواۃ کا کام نہ تھا بلکہ سرے سے ان اعصار وامصار میں اس طریقہ کا اصلًا نام نہ تھا یونہی ہر شخص اپنے تخمینہ سے یا کسی اور کی سُنی سنائی بتادیتا ولہذا شمار میں اس قدر شدت سے اختلاف پڑتا ہے کہ ان گنتیوں سے امان اٹھائے دیتا ہے۔ ذوالحلیفہ کہ مکہ معظمہ کے راستے پر مدینہ طیبہ کے قریب ایك مشہور ومعروف مقام ہے اُس کے اختلاف دیکھئے امام اجل رافعی احد شیخین مذہب شافعی اور اُن سے پہلے امام ابوالمحاسن عبدالواحد بن اسمٰعیل بن احمد شافعی معاصر امام غزالی اور اُن سے بھی پہلے امام ابونصر عبدالسید بن محمد شافعی نے فرمایا : مدینہ سے ایك میل ہے۔ امام قسطلانی شافعی نے فرمایا : یہ وہم ہے بشہادت مشاہدہ مردود۔ بعض نے کہا دو۲ ایك میل۔ امام عینی نے فرمایا : چار۴ میل۔ امام حجۃ الاسلام شافعی نے فرمایا : چھ۶ میل ہے۔ اسی طرح امام مجد شافعی نے قاموس میں کہا۔ امام اجل ابوزکریا نووی شافعی نے فرمایا : یہی صحیح ہے۔ بعض علما نے کہا : سات میل۔ امام جمال اسنوی شافعی نے فرمایا : حق یہ کہ تین میل ہے یا کچھ قدرے قلیل زیادہ ہو مشاہد اس پر گواہ ہے۔ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے : بعدہ من المدینۃ میل ، کماعندالرافعی ، لکن فی البسیط انھا علٰی ستّۃ امیال ، وصححہ فی المجموع ، وھو الذی قالہ فی القاموس۔ وقیل : سبعۃ۔ وفی المھمات : الصواب ، المعروف بالمشاھدۃ انھا علی ثلثۃ امیال اوتزید قلیلا [4]۔ اُسی میں ہے : وقول من قال ، کابن الصباغ فی الشامل ، والرویانی فی البحر ، انہ علی میل من المدینۃ وھم ، یردہ الحس [5]۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے : من المدینۃ علی اربعۃ امیال ومن مکۃ علی مائتی میل ، غیر میلین وقیل : بینھما وبین المدینۃ میل اومیلان [6] دیکھئے ایسے معروف مقام میں کہ شارع نے اُسے اہلِ مدینہ کے لئے میقات احرام مقرر فرمایا ایسے اجلہ ائمہ میں ایسے شدید اختلاف ہیں جنہیں ترازوئے تخمینہ کی جھونك کسی طرح نہیں سہار سکتی ایک$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع