دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اسی میں ہے :

(فقال لہ :  ابرد ، حتی رأینا فیئ التلول) وغایۃ الابراد حتی یصیر الظل ذراعا بعد ظل الزوال ،  اوربع قامۃ اوثلثھا اونصفھا ، وقیل غیر ذلک۔  ویختلف باختلاف الاوقات :  لکن یشترط ان لایمتد الی اٰخر الوقت[1]۔                                               

(اس کو کہا ٹھنڈا کر ، یہاں تك کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا) ابراد کی انتہا یہ ہے کہ سایہ ایك گز ہوجائے زوال کے سائے کے بغیر ، یا قد کا چوتھائی یا تہائی یا نصف ہوجائے ، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں ۔ اور اختلاف اوقات کے ساتھ ابراد میں بھی اختلاف واقع ہوتا رہتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ابراد اتنا زیادہ نہ ہوکہ وقت آکر ہوجائے۔ (ت)

ہاں خوب یاد آیا علمائے شافعیہ کی کیوں سُنئے آپ اپنے ہی لکھے کو نہ دیکھئے مسئلہ وقت مستحب ظہر میں ف فرمائے گئے اگر ابراد اختیار کرے تو لازم ہے کہ ایسا ابراد نہ کرے کہ وقت ظہر کا خارج ہوجائے یا قریب آجائے حد میں ابراد کی علماء میں اختلاف ہے لیکن یہ سب کے نزدیك شرط ہے کہ ابراد اس مرتبہ کا نہ کرے کہ ظہر کے آخر وقت کو پہنچ جاوے کہا فتح الباری میں اختلف العلماء فی غایۃ الابراد؛ لکن یشترط ان لایمتدالی اخر الوقت ملخصًا (ابراد کی انتہاء میں علماء کا اختلاف ہے لیکن یہ شرط ہے کہ آخر وقت تك نہ پہنچے۔ ت) جب آخر وقت کے قریب تك نہ آنا لازم وشرطِ ابراد ہے تو حکم ابراد کو خارج وقت پر حمل کرنا کیسا عذر بارد ہے ، ملّاجی! ایمان سے کہنا یہ حدیث سے جواب ہے یا اپنی سخن پروری کے لئے صراحۃً نص شرع کی تحریف حدیث صحیح کارد۔ شافعیہ حنفیہ کے مکالمات محض تفنن طبع کے لئے ہیں ورنہ مذاہب متقرر ہوچکے۔ علّامہ زرقانی مالکی شرح مواہب آخر جلد ہفتم میں فرماتے ہیں :

قداجاب الحافظ ابن حجر ، عن ذلك وعن غیرہ من ادلۃ المانعین ، وھی عشرۃ ، بمایطول ذکرہ ،  مع انہ لاکبیر فائدۃ فیہ ، اذالمذاھب تقررت ،  انما ھو تشحیذ اذھان [2]۔

ابن حجر نے اس دلیل کا بھی اور مانعین کی دیگر دس۱۰ دلیلوں کا بھی جواب دیا ہے مگر ان کے ذکر سے طوالت ہوتی ہے اور کوئی نمایاں فائدہ بھی نہیں ہے کیونکہ مذاہب تو مقرر ہوچکے ہیں (اور ایسے سوال جواب) محض ذہن کو تیز کرنے کا کام دیتے ہیں ۔ (ت)

آپ اپنی خبر لیجئے آپ تو محقق مجتہد ہیں سب ارباب مذاہب کی ضد ہیں آپ کیوں صحیح بخاری کی حدیث جلیل میں یوں کھلی تحریفیں کررہے ہیں دعوے باطلہ عمل بالحدیث کے چھلکے اُتررہے ہیں ۔ ع

شرم بادت ازخدا وازرسول

(تم خدا اور رسول سے شرم کھاؤ)

لطیفہ ۹ : اقول ملّاجی خود جانتے تھے یہ تاویلیں نہیں محض مہمل پوچ تقریروں سے جیسے بنے حدیث کو رَد کرنا ہے لہذا عذر بدتر ازگناہ کیلئے ارشاد ہوتا ہے ف منشا تاویلات کا یہی ہے کہ احادیث صحیحہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد ایك مثل کے وقتِ ظہر نہیں رہتا ثابت ہیں پس جمیعا بین الادلہ یہ تاویلیں حقہ کی گئیں ۔ ان تاویلوں کو حقہ کہنا تو دل میں خوب جانتے ہوگے کہ جھُوٹ کہہ رہے ہو خاك حقہ تھیں کہ ایك دم میں سُلفہ ہوگئیں مگر اس ڈھٹائی کا کہاں ٹھکانا کہ صحیح حدیث بخاری شریف کو بحیلہ جمع بین الادلہ یوں دانستہ بگاڑلے حالانکہ نہ قصد واحد نہ لفظ مساعد اور حدیث ابن عمر دربارہ غیبت شفق میں باوصف اتحاد قصہ جمع بین الا دلہ حرام اور رد احادیث صحاح واجب الالتزام۔

لطیفہ ۱۰ : اقول جمع تقدیم کی نامندمل جراحت بھرنے کو حدیث ابوجحیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں وہ لَن ترانیاں تھیں کہ ظاہر پر حمل واجب ہے جب تك مانع قطعی نہ ہو اَب اپنے داؤں کو ظاہر نص صریح کے یوں ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے خیر بحمدالله  آپ ہی کی گواہی سے ثابت ہولیا کہ جمع بین الادلہ کے لئے ایسی رکیك وپوچ ولچر تاویلات تك روا ہیں تو یہ صاف ونظیف وشائع ولطیف معانی ومحامل کہ ہم نے جمعا بین الادلہ  احادیث ابن عمرو انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممیں اختیار کیے ان میں اپنی چُون وچرا کی گلی آپ نے خود بند کرلی ، ولله الحمد ، ع :

عدد شود سبب خیر گر خدا خواہد

طرفہ یہ کہ آپ مستدل ہیں اور ہم خصم جب آپ کو ایسے لچریات نفع دیں گے ہمیں یہ واضحات بدرجہ اولٰی نافع اور آپ کے تمام ہوا حس و وساوس کے قاطع ہوں گے۔

فائدہ عائدہ : سُنن میں ایك حدیث اور ہے جس سے ناواقف کو جمع تاخیر کا وہم ہوسکے فقیر نے کلامِ فرےقین میں اُس سے استنادًا جوابًا اصلًا تعرض نہ دیکھا ، ملّاجی بہت دُور دُور کے چکّر لگاآئے ، جہاں کچھ بھی لگتی پائی بلکہ نری بے لگاؤ بھی جمع کرلائے سُنن کچھ دُور نہ تھیں اُس کے آس پاس گھُوما کئے مگر اُس سے دہنے بائیں کترائے اسی سے اس کا نہایت نامفیدی میں ہونا ظاہر مگر شاید اَب کسی نئے متوہم یا خود حضرت ہی کو تازہ وہم جاگے لہذا اس سے تعرض کردینا مناسب ،

ففی سنن ابی داود ، حدثنا احمد بن صالح نایحیی بن محمد الجاری[3] ، وفی سنن النسائی ، اخبرنا المؤمل بن اھاب ، قال :  حدثنی یحیی بن محمدن الجاری[4] ، وفی مصنف الطحاوی ، حدثنا علی بن عبدالرحمٰن ثنا نعیم بن حماد[5] قالا عــہ نا عبدالعزیز بن محمد (زاد نعیم) الدراوردی ،  عن مالك عن ابن الزبیر عن جابر ، ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم                                                                                                                                                                                 

سنن ابی داؤد میں ہے کہ حدیث بیان کی ہم سے احمد ابن صالح نے ، اس نے کہا کہ خبر دی ہمیں یحیٰی ابن محمد جاری نے۔ اور سنن نسائی میں ہے کہ خبر دی ہمیں مؤمل ابن الوہاب نے ، اس نے کہا حدیث بیان کی مُجھ سے یحیٰی ابن محمد جاری نے۔ اور مصنّف طحاوی میں ہے کہ حدیث بیان کی ہم سے علی ابن عبدالرحمن نے ، اس نے کہا حدیث بیان کی ہم سے نعیم ابن حماد نے۔ دونوں نے کہا کہ خبر دی ہم کو عبدالعزیز ابن محمد نے (نعیم نے “ دراوردی “ کا اضافہ کیا ہے) مالك بن ابی الزبیر سے ، اس نے جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے

 

عــہ ای یحیی عندالاولین ونعیم عندالطحاوی ۱۲ منہ (م)

یعنی یحیٰی سے پہلے دو۲ (ابوداؤد اور نسائی) کے ہاں اور نعیم طحاوی کے ہاں ۱۲ منہ ($&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن