دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

ہم نے حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پُوچھا آپ نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی؟ کہا دن ہی تھا مگر یہ کہ سورج نہ چمکا تھا۔

امام طحاوی کی روایت میں یوں صاف تر ہے :

قلت :  بعد الصبح؟ قال :  بعد الصبح ، غیران الشمس لم تطلع [1]۔

میں نے کہا بعد صبح کے ، کہا ہاں بعد صبح کے مگر آفتاب نہ نکلا تھا۔

رائے فقیر میں ان روایات کا عمدہ محل یہی ہے کہ سید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنے علم نبوت کے مطابق حقیقی منتہائے لیل پر سحری تناول فرمائی کہ فراغ کے ساتھ ہی صبح چمك آئی حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو گمان ہُوا کہ سحری دن میں کھائی بعد صبح اور واقعی جو شخص سحری کا پچھلا نوالہ کھاکر آسمان پر نظر اُٹھائے تو صبح طالع پائے وہ سوا اس کے کیا گمان کرسکتا ہے۔

حدیث ۸ : ابوداؤد نے اپنی سُنن میں باب وضع کیا : باب المسافر وھو یشك فی الوقت [2]۔ اور اس میں انہیں انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے جن کی حدیث میں ہم یہاں کلام کررہے ہیں روایت کی :

قال :  کنا اذاکنا مع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی السفر ، فقلنا :  زالت الشمس اولم تزل ، صلی الظھر ثم ارتحل [3]۔

جب ہم حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ رکاب سفر میں ہوتے تھے ہم کہتے سورج ڈھلا یا ابھی ڈھلا بھی نہیں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماُس وقت نمازِ ظہر پڑھ کر کُوچ فرمادیتے۔

حدیث ۹ : ابوداؤد اسی باب میں اور نیز نسائی وطحاوی انہیں انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذانزل منزلا لم یرتحل حتی یصلی الظھر ، فقال لہ رجل :  وان کان نصف النھار؟ قال :  وان کان نصف النھار [4]۔

یعنی رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب کسی منزل میں اُترتے بے ظہر پڑھے کُوچ نہ فرماتے۔ کسی نے کہا اگرچہ دوپہر کو ، فرمایا : اگرچہ دوپہر کو۔

نسائی کے لفظ یوں ہیں :

فقال رجل وان کانت بنصف النھار قال وان کانت بنصف النھار [5]۔

یعنی کسی نے پوچھا اگرچہ وہ نماز دوپہر میں ہوتی فرمایا اگرچہ دوپہر میں ہوتی۔

لطیفہ۱ : اقول ملّاجی کو تو یہ منظور ہے کہ جہاں جےسے بنے اپنا مطلب بنائیں یہاں تو قول انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کہ وقت عصر کا آغاز ہوجاتا ایسی تحقیق یقینی پر عمل کیا جس میں اصلًا گنجائش تاویل نہیں اور مسئلہ وقت ظہر میں جب علمائے حنفیہ نے حدیث صحیح جلیل صحیح بخاری شریف سے استدلال کیا کہ ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ایك سفر میں ہم حاضر رکاب سعادت سلطان رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ تھے مؤذن نے ظہر کی اذان دینی چاہی فرمایا وقت ٹھنڈا کر ، دیر کے بعد انہوں نے پھر اذان کا قصد کیا ، پھر فرمایا وقت ٹھنڈا کر ، ایك دیر کے بعد انہوں نے پھر ارادہ کیا ، فرمایا ٹھنڈا کر ، حتی ساوی الظل التلول (یہاں تك کہ ٹےلوں کا سایہ ان کے برابر آگیا) سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ان شدۃ الحرمن فیح جھنم [6](گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے) تو اس میں نماز ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو ، ظاہر ہے کہ ٹھیك دوپہر خصوصًا موسم گرما میں کہ وہی زمانہ ابراد ہے ٹےلوں کا سایہ اصلا نہیں ہوتا بہت دیر کے بعد ظاہر ہوتا ہے ، امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح مسلم شریف میں فرماتے ہیں :

التلول منبطحۃ غیر منتصبۃ ، ولایصیرلھا فیئ فی العادۃ ، الابعد زوال الشمس بکثیر [7]۔

ٹیلے زمین پر پھیلے ہوتے ہیں نہ ب لند عادۃً ان کا سایہ نہیں پڑتا مگر سورج ڈھلنے سے بہت دیر کے بعد

امام ابن اثیر جزری شافعی نہایہ میں فرماتے ہیں :

ھی منبطحۃ لایظھر لھا ظل ، الا اذا ذھب اکثر وقت الظھر [8]۔

ٹیلے پست ہوتے ہیں ان کے لئے سایہ ظاہر ہی نہیں ہوتا مگر جب ظہر کا اکثر وقت جاتا رہے۔

جب خود ائمہ شافعیہ کی شہادت سے ثابت اور نیز مشاہدہ وعقل وقواعد علم ظل شاہد کہ ٹیلوں کے سائے کی ابتدا زوال سے بہت دیر کے بعد ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ سایہ ٹیلوں کے برابر اُس وقت پہنچے گا جب بلند چیزوں کا سایہ ایك مثل سے بہت گزر جائے گا اُس وقت تك حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے گرمیوں میں ظہر ٹھنڈی کرنے کا حکم فرمایا اور اس کے بعد مؤذن کو اجازتِ اذان عطا ہوئی ، تو بلاشُبہہ دوسرے مثل میں وقتِ ظہر باقی رہنا ثابت ہوا جیسا کہ ہمارے امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا مذہب ہے یہ دلیل ساطع بحمدالله  لاجواب تھی یہاں ملّاجی حالتِ اضطراب میں فرماگئے کہ مساوی کہنا راوی یعنی سیدنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا سایہ ٹیلوں کو ظاہر ہے کہ تخمینًا اور تقریبًا ہے نہ باینطور کہ گزرکھ کر ناپ لیا تھا۔ کیوں حضرت سیدنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تو گزرکھ کر نہ ناپا تھا یونہی تخمینًا مساوات بتادی مگر انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا گز رکھ کر ناپ لینا آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا آخر دخول وقت عصر یونہی تو معلوم ہوگا کہ سایہ اس مقدار کو پہنچ جائے اُس کا علم بے ناپے کیوں کر ہوا بلکہ یہاں تو غالبًا دو ناپوں کی ضرورت ہے ایك وقت نصف النہار کہ سایہ اصلی کی مقدار ناپیں دوسری اس وقت کہ سایہ بعد ظل اصلی مقدار مطلوب کو پہنچایا نہیں ، جب انہوں نے ایك ناپ نہ کی یونہی تخمینًا فرمادیا انہوں نے دو۲ ناپیں کا ہے کوکی ہوں گی ، یونہی تخمینًا فرمادیا ہوگا کہ عصر اوّل وقت داخل ہوگیا جیسے آپ وہاں احتمال نکالا چاہتے ہیں کہ واقع میں مساوی نہ ہوا ہوگا اور ظہر ایك مثل کے اندر ہُوئی یہاں بھی وہی احتمال پیدا رہے گا کہ واقع میں وقت عصر نہ آیا تھا ظہر اپنے ہی وقت پر ہُوئی یہ کیا حیا داری ومکابرہ ہے کہ جابجا جو باتیں خود اختیار کرتے جاؤ دُوسرا کرے تو آنکھیں دکھاؤ تحریف نصوص بتاؤ اس تحکم کی کوئی حد ہے۔

لطیفہ ۲ : اقول : خدا انصاف دے تو یہاں تخمینہ بھی اتنی ہی غلطی ہوگی جتنی دیر میں ظہر کی دو۲ رکعتیں پڑھی جائیں اور حدیث ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں سخت فاحش غلطی ماننی پڑے گی جسے ان کی طرف بے دلیل نسبت کردینا صراحۃً سُوءِ ادب ہے ، خود امام شافعی کی تصریح سے واضح ہُوا کہ سایہ تلول کی ابتداء اس وقت ہوتی ہے جب بلند چیزوں کا سایہ سایہ اصلی کے سوا نصف مثل سے اکثر گزرجاتا ہے تو ظاہر ہے کہ ٹیلوں کا سایہ ابھی نصف مثل تك بھی نہ پہنچے گا کہ اور چیزوں کا سایہ سایہ



[1]   شرح معانی الآثار کتاب الصیام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۸

[2]   سنن ابی داؤد باب المسافر یصلی الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۱۷۰

[3]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن