30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث ۲ صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وکتاب طحاوی میں پارہئ حدیث سیدنا عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدربارہئ انکار جمع بین الصلاتین کہ عنقریب اِن شاء الله القریب المجیب مذکور ہوگی یہ ہے :
صلی الفجر یومئذ قبل میقاتھا [1]۔
صبح کی نماز اس کے وقت سے پہلے پڑھی (ت)
ابوداؤد کے لفظ یوں ہیں :
صلی صلاۃ الصبح من الغد قبل وقتھا[2]۔
دسویں ذوالحجہ کو مزدلفہ میں فجر کی نماز آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے وقت سے پہلے پڑھی۔ (ت)
طحاوی کی روایت یوں ہے :
صلی الفجر یومئذ لغیر میقاتھا [3]
یعنی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ذی الحجہ کی دسویں تارےخ مزدلفہ میں صبح کی نماز اُس کے وقت سے پہلے پڑھی بے وقت پڑھی۔
امام بدر عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
قولہ قبل میقاتھا ، بان قدم علی وقت ظھور طلوع الصبح للعامۃ ، وقد ظھر لہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم طلوعہ ، اِمّا بالوحی اوبغیرہ [4]۔
یعنی قبل وقت پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ اور لوگوں پر صبح کا طلوع کرنا ظاہر نہ ہوا تھا حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو وحی وغیرہ سے معلوم ہوگیا۔
حدیث ۳صحیح بخاری شریف میں عبدالرحمن بن زید نخعی سے خود حضرت عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی نسبت ہے :
ثم صلی الفجر حین طلع الفجر ، قائل یقول : طلع الفجر ، وقائل یقول : لم یطلع الفجر ، واولہ ، قال : خرجنا مع عبدالله الی مکۃ ، ثم قدمنا جمعا الحدیث[5]۔
یعنی ہم حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ حج کو چلے مزدلفہ پہنچے وہاں حضرت عبدالله نے نمازِ فجرطلوع فجر ہوتے ہی پڑھی کوئی کہتا فجر ہوگئی ہے کوئی کہتا ابھی نہیں ۔
حدیث۴ امام ابوجعفر طحاوی انہیں عبدالرحمن نخعی سے راوی :
قال صلی عبدالله باصحابہ صلاۃ المغرب ، فقام اصحابہ یتراء ون الشمس ، فقال : ماتنظرون؟ قالوا : ننظر اغابت الشمس! فقال عبداللّٰہ : ھذا ، والله الذی لاالٰہ الّا ھو ، وقت ھذہ الصلاۃ الحدیث[6]۔
یعنی عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے اصحاب کو نمازِ مغرب پڑھائی اُن کے اصحاب اُٹھ کر سورج دیکھنے لگے ، فرمایا : کیا دیکھتے ہو؟ عرض کی : یہ دیکھتے ہیں کہ سُورج ڈوبا یا نہیں ! فرمایا : قسم الله کی جس کے سوا کوئی سچّا معبود نہیں کہ یہ عین وقت اس نماز کا ہے۔ نماز سے فارغ ہوکر بھی اُن کے اصحاب کو شبہہ تھا کہ سورج اب بھی غروب ہوا یا نہیں فان صلی حقیقۃً فی الفعل دون الارادۃ والفاء للتعقیب (کیونکہ صلّٰی کا حقیقی معنی نماز پڑھنا ہے نہ کہ ارادہ کرنا اور فاء تعقیب کےلئے ہے۔ ت)
حدیث ۵ : بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ طحاوی بطریق انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :
قال : تسحرنا مع رسول لله صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ، ثمّ قمنا الی الصلاۃ ، قلت : کم کان قدرما بینھما؟ قال : خمسین اٰیۃ [7]۔
ہم نے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ سحری کھائی پھر نمازِ فجر کے لئے کھڑے ہوگئے میں نے پُوچھا بیچ میں کتنا فاصلہ دیا ، کہا پچاس آیتیں پڑھنے کا۔
حدیث ۶ : بخاری ونسائی بطریق قتادہ حضرت انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :
ان نبی الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، وزید بن ثابت تسحرا ، فلما فرغا من سحورھما قام نبی الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الی الصلاۃ فصلی ، قلت لانس : کم کان بین فراغھما من سحورھما ودخولھما فی الصلاۃ؟ قال : قدر مایقرء الرجل خمسین اٰیۃ[8]۔
یعنی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموزید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سحری تناول فرمائی جب کھانے سے فارغ ہوئے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنمازِ صبح کے لئے کھڑے ہوگئے نماز پڑھ لی میں نے انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پُوچھا سحری سے فارغ اور نماز میں داخل ہونے میں کتنا فصل ہوا ، کہا اس قدر کہ آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
امام طور پشتی حنفی پھر علامہ طیبی شافعی پھر علامہ علی قاری شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ھذا تقدیر لایجوز لعموم المؤمنین الاخذ بہ ، وانما اخذہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاطلاع الله تعالٰی ایاہ ، وکان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم معصوما عن الخطأ فی الدین$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع