دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

کی روایت لی جس میں صاف نقل کیا کہ ظہر امروزہ عصر دیروزہ کے وقت میں پڑھی اور بکمال خوش طالعی اسے بھی لکھ ف۲ دیا کہ معنے اس کے بھی وہی ہیں جو حدیث نسائی کے بیان کیے گئے یعنی پہلے دن عصر شروع کی ایك مثل پر اور دوسرے دن فارغ ہوئے ظہر سے ایك مثل پر۔

مُلّاجی! جب ایك نماز دوسری کے وقت میں پڑھنا ان صریح لفظوں کے بھی خود یہ معنی لے رہے ہو کہ نماز پڑھی تو اپنے وقت میں مگر اس سے فراغ دوسری کے ابتدائے وقت پر ہوا تو اَب کس مُنہ سے یہ حدیثیں اثبات جمع میں پیش کرتے اور انہیں نص صریح ناقابل تاویل بتاتے ہو ان میں تصریح دکھا بھی نہ سکے جو صاف صاف اس حدیث ترمذی میں تھی جب اس کے یہ معنی بنارہے ہو ان کے بدرجہ اولٰی بنیں گے اور اول تا آخر تمہارے سب دعوے

عـــہ اقتباس ومناسب المقام ھھنا الشھادۃ لا الحساب ۱۲ منہ (م)

قرآن کریم سے اقتباس ہے اور مقام کے مناسب یہاں پر شہادت ہے نہ کہ حساب (اس لئے حسیبًا کی جگہ شھیدًا لایاگیا ہے) (ت)

قل موتوا بغیظکم سُنیں گے ا نصاف ہو تو ایك یہی حرف تمہاری ساری محنت کو پہلی منزل پہنچانے کے لئے بس ہے ولله الحمد یہ کلام تو ملّاجی کی جہالتوں سے متعلق تھا اب مثل حدیث ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااس حدیث کے بھی جواب بعون الوہاب اُسی طرز صواب پر لیجئے وبالله التوفیق۔

جواب اول : دخول عصر سے قرب عصر مراد ہے جس کی اکیس مثالیں آیات واحادیث سے گزریں خصوصا حدیث ہشتم میں ہم نے روایت صحیحہ صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن نسائی سے روشن ثبوت دیا کہ دوسرے وقت تك تاخیر درکنار ایك نماز اپنے آخر وقت میں دوسرے وقت کے قریب پڑھنے کو کہا یہاں تك کہا جاتا ہے کہ دوسری نماز کے وقت میں پڑھی

الی ھذا الجواب اشار الامام الطحاوی رحمہ الله تعالٰی ، حیث قال :  قدیحتمل ان یکون قولہ :  الی اول وقت العصر ، الی قرب اول وقت العصر[1]۔

اسی جواب کی طرف امام طحاوی نے اشارہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اول وقت عصر سے مراد اول وقت عصر کا قریب ہونا ہے۔ (ت)

جواب ثانی ، اقول : وقت ظہر دو مثل سمجھو خواہ ایك اُس کی حقیقت واقعیہ کا ادراك طاقت بشری سے خارج ہے آسمان بھی صاف ہو زمین بھی ہموار تاہم پیمائش اقدام یا کوئی چیز زمین میں کھڑی کرکے ناپنا تو ہرگز غایت تخمین مقدور تك بھی بالغ نہیں نہایت تصحیح عمل امثال دائرہ ہندیہ ہے وہ بھی حقیقت امر ہرگز نہیں بتاسکتا۔

اولا دائرے کی صحتِ سطح کا اسطوا سطحِ دائرۃ الافق سے اُس کی پوری موازات مقیاس کا سطحِ دائرہ نصف النہار سے ذرہ بھر مائل نہ ہونا مدخل ومخرج کے نقاط نامتجزیہ کی صحیح تعیین قوس محصورہ کی ٹھیك تنصیف پھر ظل کا خط نامتجزی پر واقعی انطباق پھر اُس کی حقیقی مقدار پھر اس پر مثل یا مثلین کی بے کمی بیشی زیادت ان میں سے کسی پر جزم متیسر نہیں ۔

ثانیا بفرض محال عادی یہ سب حق حقیقت پر صحیح بھی ہوجائیں تاہم خط نصف النہار کا سطح عظیمہ نصف النہار میں ہونا معلوم نہیں بلکہ نہ ہونا ثابت ومعلوم ہے کہ شمس بوجہ تقاطعِ معدّل ومنطقہ اپنی سیر خاص سے لمحہ بھر بھی ایك مدار پر نہیں رہتا تو منتصف مابین المدخل والمخرج ہمیشہ خط نصف النہار سے شرقی یا غربی ہے مگر جبکہ دائرۃ الزوال پر مرکز نیّر کا انطباق اور احد الانقلابین میں حلول آنِ واحد میں ہو اور وہ نہایت نادر ہے۔

ثالثا  اس نادر کو بھی فرض کرلیجئے تاہم علم کی طرف اصلا سبیل نہیں کہ حلولِ انقلاب یا وصول دائرہ جاننے کے طرق جوزیجات میں موضوع ہیں سب ظنی وتخمینی ہیں کسی کو کب کی تقویم حقیقی معلوم کرنا نہ حساب کا کام ہے نہ ارصاد کا ، جداول جیوب وظلال ومیول واوساط وتعاویل مراکز ومواضع اوجات وتفاوت ایام حقیقیہ ووسطیہ وفصل مابین المرکزین وعروض واطوال بلاد درج واجزائے استوائیہ وطوالع ومطالع بلدیہ وغیرہا امور کہ اس ادراك کے ذرائع ہیں سب فی انفسہا محض تخمین ہیں اور اس پر اثباتِ زیجات برفع واسقاط حصصِ کسرات تخمین بالائے تخمین ، پاکی ہے اسے جس نے بہر نقیر وقطمیر میں عجز وجہل بشرکو طاہر کیا اور ذرہ ذرہ عالم سے اپنے کمال علم وقدرت کو جلوہ دیا ،

سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲) [2]

تُو پاك ہے ہمیں علم نہیں مگر جتنے کی تُونے تعلیم دی ہے تُو ہی علیم حکیم ہے۔ (ت)

ولہذا ملتقی وقتین سے کچھ پہلے اور کچھ بعد تك عامہ خلق کے نزدیك وقت مشکوك ہے اسی کو وقت بین الوقتین کہتے ہیں اس میں نظرِ ناظر کبھی حالتِ شك میں رہتی ہے کبھی بقائے وقتِ اول کبھی دخولِ وقت آخر گمان کرتی ہے اور واقع وہ ہے جو رب العزۃ جل وعلا کے علم میں ہے صاحبِ وحی خصوصًا عالم علوم الاولین والآخرین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب بحکم نبأنی العلیم الخبیر (آگاہ کیا ہے مجھے علم والے اور خبر والے نے۔ ت) عین وقت حقیقی پر مطلع ہوکر نمازِ ظہر ایسے اخیر وقت میں ادا فرمائے اور سلام پھیرتے ہی معًا وقت عصر کی ابتدائے حقیقی جو خاص علمِ الٰہی میں تھی شروع ہوجائے اور دیگر ناظرین کو وحی سے بہرہ نہیں رکھتے براہِ اشتباہ اسے وقت آخر میں گمان کریں اصلا محل تعجب نہیں نہ معاذالله  اس میں بعض صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی کسرِ شان کہ علومِ خاصہ محمد رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں حضور کا شریك نہ ہونا کچھ منافِی صحابیت نہیں بلکہ واجب ولازم ہے فقیر غفرلہ المولی القدیر احادیث کثیرہ سے خاص اس جزئیہ کی نظیریں پیش کرسکتا ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایسے وقت نمازیں پڑھیں یا سحری تناول فرمائی کہ ناظرین کو بقائے وقت میں شك یا خروجِ وقت کا گمان گزرتا بلکہ اجلہ حذاقِ صحابہ کی تمیز ومعرفت میں دیگر ناظرین شریك نہ ہُوئے علم محمدی تو علم محمدی ہے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، مثلًا :

حدیث ۱ :  حدیث سائل کہ صحیح مسلم وسُنن ابی داؤد وسنن نسائی ومسند امام احمد وحجج امام ابن ابان ومصنّف طحاوی میں سیدنا ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی اُس میں ظہر روزِ اوّل کی نسبت مسلم ونسائی کی روایت یوں ہے :

اقام بالظھر حین زالت الشمس ، والقائل یقول :  قدانتصف النھار ، وھو کان اعلم منہم [3]۔

سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اقامت کہی اس حال میں کہ کہنے والا کہے ٹھیك دوپہر ہے اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اُن سے زیادہ جانتے تھے۔

ابوداؤد کے یہ لفظ ہیں :

حتی قال القائل :  انتصف النھار ، وھو اعلم [4]۔

یہاں تك کہ کہنے والے نے کہا دوپہر ہوا اور حضور کو حقیقت امر کی خُوب خبر تھی۔

احمد وعےسٰی وطحاوی کے لفظ یوں ہیں :

والقائل یقول :  انتصف النھار اولم ، وکان اعلم منھم [5]۔

کہنے والا کہتا دوپہر ہے یا ابھی دوپہر بھی نہ ہوا اور حضور کے علم سے اُن کے علموں کو کیا نسبت تھی۔

 



[1]       شرح معانی الآثار باب الجمع بین الصلاتین الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱۳

[2]   القرآن ۲ / ۳۲

[3]   الصحیح لمسلم باب اوقات صلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳

[4]   سنن ابی داؤد باب المواقیت مطبوعہ مجتبائی لاہور ، پاکستان ۱ / ۵۷

[5]   شرح معانی الآثار باب مواقیت الصلوات مطبوعہ ایچ ایم سعید ک

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن