دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

باب تاخیر الظھر الٰی اول وقت العصر ، بحیث انہ اذافرغ منھا یدخل وقت تالیھا ، لاانہ یجمع بینھما فی وقت واحد [1]۔

باب ، ظہر کی تاخیر عصر کے ابتدائی وقت تك کہ جب ظہر سے فارغ ہو ، عصر کا وقت داخل ہوجائے ، نہ یہ کہ ایك ہی وقت میں دونوں کو جمع کرے۔ (ت)

حافظ الشان کے لفظ یہ ہیں :

المراد انہ عند فراغہ منھا دخل وقت العصر ، کماسیاتی عن ابی الشعثاء [2] الخ۔

مراد یہ ہے کہ ظہر سے فارغ ہوتے ہی عصر کا وقت داخل ہوگیا ، جیسا کہ عنقریب ابوالشعثاء سے آرہا ہے۔ (ت)

اور اُس سے فارغ ہوتے ہی جو عصر اپنے شروع وقت میں پڑھی جائے بداہۃً دونوں نمازیں مجتمع ہوجائیں گی تو اس معنے کو تحریف یا جمع بینہما کے مخالف کہنا صریح جہالت ہے۔

اقول : وبالله التوفیق تحقیق مقام یہ ہے کہ یؤخر الظھر میں ظہر سے صلاۃِ ظہر مراد ہونا تو بدیہی نماز ہی قابل تاخیر وتعجیل ہے نہ وقت جس کی تاخیر وتعجیل مقدورات عباد میں نہیں اور صلاۃ ظہر حقیقۃً تکبیر تحریمہ سے سلام تك مجموع افعا ل کا نام ہے نہ ہر فعل یا آغاز نماز کا کہ جزء نماز ہے اور ایسے حقائق میں جز شے شے نہیں جو اسم کسی مرکب مجموع اجزائے متعاقبہ فی الوجود کے مقابل موضوع ہو بنظرِ حقیقت اُس کا صدق جزء آخر کے ساتھ ہوگا نہ اُس سے پہلے مثلًا مکان اس مجموع جدران وسقف وغیرہا کا نام ہے تو جب نیو بھری گئی یا پہلی اینٹ چنائی کی رکھی گئی مکان نہ کہیں گے پس قبل فراغ حقیقت صلاۃ جسی شرع مطہر نماز گنے اور معتبر رکھے متحقق نہیں تو بحکم حقیقت انتہائے تاخیر نماز عین وقت فراغ پر ہے نہ وقت تکبیر کہ ہنوز زمانہ عدم صدق اسم باقی ہے اب حدیث کے الفاظ دیکھیے تاخیر نماز کی انتہا ابتدائے وقتِ عصر پر بتائی گئی ہے اور اُس کی انتہا فراغ پر تھی تو ثابت ہوا کہ ظہر سے فراغ وقت ظہر کے جزء اخیر میں ہوا یہی بعینہٖ ہمارا مقصود ہے اگر معنے وہ لیے جائیں جو ملّاجی بتاتے ہیں کہ اول وقت عصر میں نماز ظہر شروع کی تو تاخیر ظہر اول وقت عصر پر منتہی نہ ہوئی بلکہ اوسط وقت عصر تك رہی یہ خلاف ارشاد حدیث ہے تو بلحاظ حقیقت شرعیہ معنی حدیث وہی ہیں جنہیں ملّاجی تحریہ نصوص بتارہے ہیں ہاں مجازًا آغاز نماز پر بھی اسم نماز اطلاق کرتے ہیں تو ہمارے اورر ملّاجی کے معنی میں وہی فرق ہے جو حقیقت ومجاز میں ۔ بحمدالله  اس بیان جلی البرہان سے واضح ہوگیا کہ ملّاجی کا منتہائے تاخیر ومنتہائے نماز ظہر میں تفرقہ پر حکم کرنا جہالت تھا ملّاجی نے اتنا سچ کہا کہ منتہے تاخیر کا اول وقت عصر کا ہوتا آگے جو یہ حاشیہ چڑھایا کہ یعنی ابھی تك ظہر نہ پڑھتے کہ وقت عصر آجاتا نرا ادعائے بے دلیل ہے طرفہ یہ کہ خود بھی حضرت نے اُنہیں لفظوں سے تعبیر کی جن میں دونوں معنی محتمل مگر عقل ووہابیت تو باہم اقصی طرفین نقیض پر ہیں ولله الحمد۔

ثم اقول : وبحول الله اصول (پھر میں کہتا ہوں اور الله  تعالٰی ہی کی طاقت سے جرح کرتا ہوں ) ظہر کی وقتِ عصر تك تاخیر درکنار اگر صاف یہ لفظ آتے کہ ظہر اول وقت عصر میں پڑھی مدعائے مخالف میں نص نہ تھی ظہرین وعشائین میں  آخر وقتِ اول واول وقت آخر آن واحد فصل مشترك بین الزمانین ہے اور صلاۃ بمعنے ابتدائے صلاۃ اور فراغ عن الصلٰوۃ دونوں مستعمل تو بحکم مقدمہ اولٰی جس نماز کے فراغ پر اُس کا وقت ختم ہوجائے اُسے جس طرح یوں کہہ سکتے ہیں کہ اپنے وقت کے جز اءخیر میں تمام ہوئی یونہی یہ بھی کہ وقت آئندہ کے جز ء اول میں اُس سے فراغ ہوا اور بحکم مقدمہ ثانیہ تعبیر ثانی کو ان لفظوں سے بھی ادا کرسکتے ہیں کہ نماز وقت آئندہ میں پڑھی کہ نماز پڑھنا فراغ عن الصلاۃ تھا اور فراغ عن الصلاۃ آخر وقت میں ہوا اور آخر وقت ماضی اولِ وقت آتی ہے ولہذا ساتوں احادیث مذکورہ امامت جبریل وسوال سائل میں جب کہ بظاہر عصر ماضی وظہر حال دونوں ایك وقت پڑھنا نکلتا تھا بلکہ حدیث امامت عندالترمذی وحدیث سائل عندابی داؤد میں صاف تصریح تھی کہ آج کی ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی خود امام شافعی وجمہور علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے ان میں صلاۃ عصر دیروزہ کو ابتدائے نماز اور صلاۃ ظہر امروزہ کو فراغ نماز پر حمل کیا یعنی ایك مثل سایہ پر کل کی عصر شروع فرمائی تھی اور آج کی ظہر ختم ، اسی کو یوں تعبیر فرمایاگیا کہ ظہر امروزہ عصر دیروزہ کے وقت میں پڑھی امام اجل ابوزکریا نووی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِشرح صحیح مسلم شریف میں زیرحدیث اذاصلیتم الظھر فانہ وقت الی ان یحضر العصر (جب تم ظہر کی نماز پڑھنا ہوتو عصر تك سارا وقت ظہر ہی کا ہے۔ ت) فرماتے ہیں :

احتج الشافعی والاکثرون بظاھر الحدیث الذی نحن فیہ ، واجابوا عن حدیث جبریل علیہ السلام ، بان معناہ فرغ من الظھر حین صارظل کل شیئ مثلہ ، وشرع فی العصر فی الیوم الاول حین صار ظل کل شیئ مثلہ فلا اشتراك بینھما [3]۔                        

امام شافعی اور اکثر علمانے اسی حدیث کے ظاہر سے استدلال کیا ہے جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں اور جبریل علیہ السلام کی حدیث سے یہ جواب دیا ہے کہ پہلے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا تھا تو اس وقت ظہر کی نماز سے فارغ ہوگئے تھے اور دوسرے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہُوا تھا تو اس وقت عصر کی نماز شروع کی تھی۔ اس طرح دونوں کا (ایك ہی وقت میں ) اشتراك نہیں پایا جاتا۔ (ت)

مرقات شرح مشکوٰۃ میں ہے :

فی روایۃ ، حین کان ظل کل شیئ مثلہ ، کوقت العصر بالامس۔ ای فرغ من الظھر ح ، کماشرع فی العصر فی الیوم الاول ح حینئذٍ قال الشافعی :  وبہ نندفع اشتراکھا فی وقت واحد [4]۔

ایك روایت میں ہے کہ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا تھا ، جیسا کہ گزشتہ کل اسی وقت عصر کے وقت تھا۔ یعنی آج اُسی وقت ظہر سے فارغ ہوئے تھے جیسا کہ گزشتہ کل اسی وقت عصر میں شروع ہوئے تھے امام شافعی نے کہا کہ اسی سے ایك وقت میں ان کے اشتراك کا احتمال ختم ہوجاتا ہے۔ (ت)۔

ثم اقول : ہاں میں علما سے کیوں نقل کروں خود ملّاجی اپنے ہی لکھے کو نہ روئیں  اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) [5]  عــہ۔ (پڑھو اپنی کتاب کو ، آج تم خود ہی اپنے آپ پر شہید کافی ہو۔ ت  مسئلہ وقتِ ظہر میں جو ایك مثل کا اثبات پیشِ نظر تھا پاؤں تلے کی سوجھی آگا پیچھا بے سوچے سمجھے صاف صاف انہیں معنی کا اقرار کرگئے یہ کیا خبر تھی کہ دو۲ قدم چل کر یہ اقرار جان کا آزار ہوجائے گا حدیث سائل بروایت نسائی عن جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنقل کرکے فرماتے ہیں ف۱ : معنی اس کے یہ ہیں کہ پہلے دن عصر جب پڑھی کہ سایہ ایك مثل آگیا اور دوسرے دن ظہر سے ایك مثل پر فارغ ہوئے یہ معنی نہیں کہ ظہر پڑھنی شروع کی دُوسرے دن اُسی وقت میں جس میں پہلے دن عصر پڑھی تھی اھ ملخصا۔ کیوں مُلّاجی ! جب صلاۃ بمعنی فراغ عن الصلاۃ آپ خود لے رہے ہیں تو آخر الظہر کے معنی آخر الفراغ عن الظہر لینا کیوں تحریف نصوص ہوگیا ، ہاں اس کا علاج نہیں کہ شریعت تمہارے گھر کی ہے اپنے لئے تحریف تبدیل انکار تکذیب جو چاہو حلال کرلو۔ مزہ یہ ہے کہ فقط اسی پر قناعت نہ کی لاج کا بھلا ہو حدیث امامت جبریل عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی نقل کی اور ابو داؤد کے لفظ چھوڑ کر خاص ترمذی ہی



[1]             ارشاد الساری باب تاخیر الظھر الی العصر  دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۴۹۱

ف۱ معیارالحق ص۳۷۷ ، ۳۷۸

[2]   فتح الباری شرح البخاری باب تاخیر الظہر الی العصر مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۹

[3]   شرح الصحیح لمسلم مع مسلم باب اوقات صلوات الخمس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۲

[4]   مرقات المفاتیح الفصل الثانی من باب المواقیت مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۲۴

[5]   القرآن ۱۷ / ۱۴

ف۱ معیارالحق مسئلہ چہارم بحث آخر وقت ظہر الخ مکتبہ نذیریہ لاہور ص۳۱۶ ، ف$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن