30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارشاد شافعی کتاب الصیام میں ہے : ای حتی یقارب طلوع الفجر [1] (یعنی یہاں تك کہ طلوعِ فجر قریب آئے)۔
بالجملہ اس محاورہ کے شیوع تمام سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا اگر بالفرض وہ روایات صحیحہ جلیلہ صریحہ صلاۃ مغرب پیش از غروب شفق میں نہ بھی آتیں تاہم جبکہ ہر نماز کے لئے جُدا وقت کی تعیین اور پیش ازوقت یا وقت فوت کرکے نماز پڑھنے کی تحریم یقینی قطعی اجماعی تھی ان روایات میں یہ مطلب بنظر محاورہ عمدہ محتمل اور استدلال مستدل بتطرق احتمال باطل ومختل اور آیات واحادیث تعیین اوقات کا ان سے معارضہ غلط ومہمل ہوتا نہ کہ خود اسی حدیث
میں بالخصوص وہ صاف صریح مفسر نصوص اور اُنہیں بزورِ زبان بخاری ومسلم سب بالائے طاق رکھ کر مردود واہیات بتائے یا الٹا ان محتملات کے معارض بتاکر شاذو مردود ٹہرائیے یہ کیا مقتضائے انصاف ودیانت ہے یہ کیا محدثی کی شان نزاکت ہے۔ اب تو بحمدالله سب جعل کھُل گیا ، حق وباطل میزانِ نظر میں تُل گیا ، اور واضح ہوا کہ یہ ساتوں روایتیں بھی اُنہیں محاورات سے ہیں جن میں دو۲ آیتیں اور بارہ۱۲ حدیثیں ہم نے نقل کیں ان سات سے مل کر اکیس۲۱ مثالیں ہُوئیں وبالله التوفیق۔
جواب دوم : جانے دو اُن میں قبل ان میں بعد یونہی سمجھو پھر ہمیں کیا مضر اور تمہیں کیا مفید۔ شفقین دو۲ ہیں : احمر و ابیض۔ اُن روایات قبل میں سپید مراد ہے اُن روایات بعد میں سُرخ۔ یوں بھی تعارض مندفع اور سب طرق مجتمع ہو گئے۔ حاصل یہ نکلا کہ شفق احمر ڈوبنے کے بعد شفق ابیض میں نماز مغرب پڑھی اور انتظار فرمایا جب سپیدی ڈُوبی عشا پڑھی۔ یہ بعینہٖ ہمارا مذہب مہذب اور ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے طور پر جمع صوری ہے حقیقی تو جب ہوتی کہ مغرب بعد غروب سپیدی پڑھی جاتی اس کا ثبوت تم ہرگز نہ دے سکے۔ یہ جواب بنگاہِ اوّلین ذہنِ فقیر میں آیا تھا پھر دیکھا کہ امام ابن الہمام قدس سرہ ، نے یہی افادہ فرمایا۔ رہی روایت ہفتم سار حتی ذھب بیاض الافق وفحمۃ العشاء [2](چلتے رہے یہاں تك کہ افق کی سفیدی اور عشا کی سیاہی ختم ہوگئی۔ ت) جس میں افق کی سپیدی جانے کے بعد نزول ہے۔
اقول وبالله استعین اوّلًا یہ بھی کب رہی اس میں بھی وہی تقریر جاری جیسے غاب الشفق بمعنی کادان یغیب یوں ہی ذھب البیاض بمعنی کادان یذھب۔
ثانیا حدیث میں بیاض افق ہے نہ بیاض شفق ، کنارہ شرقی بھی افق ہے ، بعد غروب شمس مشرق سے سیاہی اُٹھتی اور اُس کے اوپر سپیدی ہوتی ہے جس طرح طلوعِ فجر میں اس کا عکس ، جسے قرآن عظیم میں
حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪-[3] (یہاں تك کہ فجر کے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا تمہارے لیے واضح ہوجائے۔ ت) فرمایا ، جب فجر بلند ہوتی ہے وہ خیطِ اسود جاتا رہتا ہے ، یونہی جب مشرق سے سیاہی بلند ہوتی ہے سپیدی شرقی جاتی رہتی ہے اور ہنوز وقت مغرب میں وسعت ہوتی ہے اور اس پر عمدہ قرینہ یہ کہ بیاض کے بعد فحمہ عشاء سر شام کا دھند لگا ہے کہ موسم گرما میں تیزی نور شمس کے سبب بعد غروب نظر کو ظاہر ہوتا ہے جب تارے کھل کر روشنی دیتے ہیں زائل ہوجاتا ہے جیسے چراغ کے سامنے سے تاریکی میں آکر کچھ دیر سخت ظلمت معلوم ہوتی ہے پھر نگاہ ٹہر جاتی ہے ، زہرالربٰی میں ہے : فحمۃ العشاء ، ھی اقبال اللیل واول سوادہ [4] (فحمۃ العشاء رات کے آنے کو اور اس کی ابتدائی سیاہی کو کہتے ہیں ۔ ت) شرح جامع الاصول للمصنف میں ہے :
ھی شدّۃ سواد اللیل فی اولہ ، حتی اذاسکن فورہ ، قلت بظھور النجوم وبسط نورھا۔ ولان العین اذانظرت الی الظلمۃ ابتداء لاتکاد تری شیا [5]۔
وہ رات کا ابتدائی حصّے میں بہت سیاہ ہونا ہے۔ پھر جب اس کا جوش ٹھر جاتا ہے تو تاروں کے نکلنے اور ان کی روشنیاں پھیلنے سے سیاہی کم ہوجاتی ہے ، اور اس لئے بھی کہ آنکھ جب ابتداء میں تاریکی کی طرف نظر کرتی ہے تو کچھ نہیں دیکھ پاتی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ اس کا جانا بیاضِ شفق کے جانے سے بہت پہلے ہوتا ہے تو بیاضِ شفق جانا بیان کرکے پھر اس کے ذکر کی کیا حاجت ہوتی ، ہاں بیاض شرقی اس سے پہلے جاتی ہے تو اس معنی صحیح پر فحمہ عشاء کا ذکر عبث ولغو نہ ہوگا۔
ثالثًا یہی حدیث اسی طریق مذکور سفیان سے امام طحاوی نے یوں روایت فرمائی :
حدثنا فھد ثنا الحمانی ثنا ابن عیینۃ عن ابن ابی نجیح عن اسمٰعیل بن ابی ذویب قال : کنت مع ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما ، فلما غربت الشمس ، ھبنا ان نقول : الصلاۃ ، فسار حتی ذھب فحمۃ العشاء ورأینا بیاض الافق ، فنزل فصلی ثلثا المغرب ، واثنتین العشاء ، وقال : ھکذا رأیت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یفعل [6]
حدیث بیان کی ہم سے فہد نے حمانی سے ، اس نے ابن عینیہ سے ، اس نے ابن ابی نجیح سے ، اس نے اسمٰعیل بن ابی ذویب سے کہ میں ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ تھا جب سورج ڈوب گیا تو ان کی ہیبت کی وجہ سے ہم انہیں نماز کا نہ کہہ سکے وہ چلتے رہے یہاں تك کہ عشاء کی سیاہی ختم ہوگئی اور ہم نے افق کی سفیدی دیکھ لی۔ اس وقت اُتر کر مغرب کی تین رکعتیں اور عشا کی دو۲ رکعتیں پڑھیں اور کہا کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (ت)
یہ بقائے شفق ابیض میں نص صریح ہے کہ سرشام کا دھند لکاجاتا رہا اور ہمیں افق کی سپیدی نظر آئی اُس وقت نماز پڑھی اور کہا اسی طرح حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کیا۔
رابعًا : ملّاجی! آپ تو بہت محدثی میں دم بھرتے ہیں صحیح حدیثیں بے وجہ محض تو رَد کرتے آئے بخاری ومسلم کے رجال ناحق مردود الروایہ بنائے اب اپنے لیے یہ روایت حجّت بنالی جو آپ کے مقبولہ اصولِ محدثین پر ہرگز کسی طرح حجت نہیں ہوسکتی اس کا مدار ابن ابی نجیح پر ہے وہ مدلس تھا اور یہاں روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار ومعتمد میں مردود ونامستند ہے اسی آپ کی مبلغ علم تقریب میں ہے :
عبدالله بن ابن نجیح یسار المکی ابویسار الثقفی ، مولاھم ، ثقۃ ، رمی بالقدر ، وربما دلس [7]۔
عبدالله ابن ابی نجیح یسار مکی ابویسار ثقفی ، بنی ثقیف کا آزاد کردہ ، ثقہ ہے ، قدری ہونے سے مہتم ہے ، بسا اوقات تدلیس کرتا ہے۔ (ت)
وہ قسم مرسل سے ہے تقریب وتدریب میں ہے :
الصحیح التفصیل ، فمارواہ بلفظ محتمل لم یبین فیہ السماع ، فمرسل لایقبل ، ومابین فیہ ، کسمعت ، وحدثنا ، واخبرنا ، وشبھھا ، فمقبول یحتج بہ[8]۔
صحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے ، یعنی مدلس کی وہ روایت جو ایسے لفظ سے ہو جو سماع کا احتمال تو رکھتا ہو مگر سماع کی تصریح نہ ہو ، تو وہ مرسل ہے اور غیر مقبول ہے ، اور جس میں سماع کی صراحت ہو ، جیسے سمعت ، حدثنا ، اخبرنا اور ان جیسے الفاظ ، تو وہ مقبول ہے اور قابل استدلال ہے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع