30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آغاز کیا تو کہیے گا اَب دوپہر ڈھلے لے کر بیٹھے۔ ان کی صدہا مثالیں ہیں کہ خود ملّاجی اور اُن کے موافقین بھی اپنے کلاموں میں رات دن اُن کا استعمال کرتے ہوں گے۔ بعینہٖ اسی طرح یہ محاورے زبان مبارك عرب خود قرآن عظیم واحادیث میں شائع وذائع ہیں ، قال الله تعالٰی :
وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ [1]
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی میعاد کو پہنچ جائیں تو اب انہیں اچھی طرح اپنے نکاح میں روك لو یعنی رجعت کر لو یا اچھی طرح چھوڑدو۔
کہ بے قصد مراجعت عدّت بڑھانے کے لئے رجعت نہ کرو ، وقال تعالٰی :
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ [2]
جب طلاق والیاں اپنی عدت کو پہنچیں تو انہیں بھلائی کے ساتھ روك لو یا بھلائی کے ساتھ جُدا کردو۔ (ت)
ظاہر ہے کہ عورت جب عدّت کو پہنچ گئی نکاح سے نکل گئی اب رجعت کا کیا محل ، اور اُسے روکنے چھوڑنے کا کیا اختیار ، تو بالیقین قربِ وقت کو وقت سے تعبیر فرمایا ہے یعنی جب عدت کے قریب پہنچے اُس وقت تك تمہیں رجعت وترك دونوں کا اختیار ہے ، یہ مثالیں تو آیاتِ قرآنیہ سے ہوئیں جنہیں امام طحاوی وغیرہ علماء مسئلہ وقتِ ظہر اور نیز اس مسئلہ میں افادہ فرماچکے۔ فقیر غفرلہ المولی القدیر احادیث سے بھی مثالیں اور علمائے قائلین بالجمع سے بھی اس معنی ومحاورہ کی تصریحیں ذکر کرے۔ فاقول وبالله التوفیق :
حدیث ۱ : جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے صبح اسرا بعد فرضیت نماز اوقاتِ نماز معین کرنے اور اُن کا اوّل آخر بتانے کےلئے دو۲ روز حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی امامت کی ، پہلے دن ظہر سے فجر تك پانچوں نمازیں اوّل وقت پڑھیں اور دوسری دن ہر نماز آخر وقت ، اس کے بعد گزارش کی :
الوقت مابین ھذین الوقتین [3]۔
وقت ان دونوں وقتوں کے بیچ میں ہے۔ (ت)
اس حدیث میں ابوداؤد وترمذی وشافعی وطحاوی وابن حبان وحاکم کے یہاں حضرت عبدالله بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
صلی بی العصر حین کان ظلہ مثلہ فلما کان الغد صلی بی الظھر حین کان ظلہ مثلہ[4]۔
میرے ساتھ عصر کی نماز پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا ، جب دُوسرا دن ہُوا تو ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سایہ ہر چیز کا اس کے برابر تھا۔ (ت)
ترمذی کے الفاظ یوں ہیں :
صلی المرۃ الثانیۃ ، الظھر ، حین کان ظل کل شیئ مثلہ ، لوقت العصر بالامس[5]۔
دوسری مرتبہ ظہر کی نماز تب پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا یعنی گزشتہ کل جس وقت عصر پڑھی تھی۔ (ت)
شافعی کے لفظ یہ ہیں :
ثم صلی المرۃ الاخری ، الظھر ، حین کان کل شیئ قدرظلہ ، قدر العصر بالامس[6]۔ ج
پھر دوسری مرتبہ نماز پڑھی ظہر کی ، جب ہر چیز اپنے سائے کے ساتھ برابر تھی یعنی گزشتہ کل جس وقت عصر پڑھی تھی۔ (ت)
حدیث ۲ : نسائی وطحاوی وحاکم وبزار نے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
ھذا جبریل ، جاء کم یعلمکم دینکم۔ وفیہ ، ثم صلی العصر حین رأی الظل مثلہ ، ثم جاء ہ الغد ، ثم صلی بہ الظھر حین کان الظل مثلہ[7]۔
یہ جبریل ہیں ، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں ۔ اس روایت میں ہے کہ پھر عصر کی نماز پڑھی ، جب دیکھا کہ سایہ ان کے برابر ہے۔ پھر دوسرے دن رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پاس آئے اور ظہر کی نماز پڑھی ، جبکہ سایہ ان کے برابر تھا۔ (ت)
بزار کے لفظ یوں ہیں :
جاء نی ، فصلی بی العصر حین کان فیئی مثلی ، ثم جاء نی من الغد ، فصلی بی الظھر حین کان فیئی مثلی[8]۔
جبریل میرے پاس آئے اور مجھے عصر کی نماز پڑھائی جبکہ میرا سایہ میرے برابر تھا ، پھر دوسرے دن آئے اور ظہر کی نماز پڑھائی جبکہ میرا سایہ میرے برابر تھا۔ (ت)
حدیث ۳ : نیز نسائی وامام احمد واسحٰق بن راہویہ وابن حبان وحاکم جابر بن عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی :
ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی العصر ، ثم اتاہ فی الیوم الثانی حین کان ظل الرجل مثل شخصہ فصلی الظھر [9]۔
جبریل نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پاس آئے جبکہ ہر شخص کا سایہ اس کے قد جتنا ہوتا ہے اور عصر کی نماز نہ پڑھی ، پھر دوسرے دن آئے جبکہ ہر شخص کا سایہ اس کے قد جتنا ہوتا ہے اور ظہرکی نماز پڑھی۔ (ت)
حدیث ۴ : امام اسحٰق بن راہویہ اپنی مسند میں حضرت ابومسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بطریق حدثنا بشر بن عمرو النھرانی ثنی مسلمۃ بن بلال ثنا یحیٰی بن سعید ثنی ابوبکر بن عمرو بن حزم عن ابی مسعود الانصاری [10] او ر بیہقی کتاب المعرفۃ میں بطریق ایوب بن عتبۃ ثنا ابوبکر بن عمروبن حزم عن عروہ بن الزبیر عن ابن ابی مسعود عن ابیہ [11] راوی اور یہ لفظ حدیث اسحٰق ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع