30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے عشاء کی نماز کیلئے اتنا اندھیرا کیا کہ رات اچھی طرح تاریك ہوگئی پھر آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھی ، نماز سے فارغ ہوئے تو حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا : “ تمہیں بشارت ہو کہ الله تعالٰی کی تم پر یہ نعمت ہے کہ تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے جو اس وقت نماز پڑھ رہا ہو “ ۔ یا آپ نے یوں فرمایا : “ تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے جس نے اس وقت نماز پڑھی ہو “ ۔ اھ میں نے کہا : یہ روایت مسلم نے بھی بیان کی ہے۔ (ت)
ومنھا۷ قال رحمہ الله تعالٰی ، واخرج احمد والنسائی عن ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ ، قال : اخّر رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم صلاۃ العشاء ، ثم خرج الی المسجد فاذا الناس ینتظرون الصلاۃ ، فقال : اما انہ لیس من اھل ھذہ الادیان احد یذکر الله تعالٰی ھذہ الساعۃ غیرکم [1] اھ۔
اقول : وانت تعلم ان لیس فی شیئ منھا مایدل علی مدعاہ ، من ان العشاء لم یصلھا نبی قبل نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وعلی الانبیاء وبارك وسلم ، بل لاتصریح فیہ بنفی ان صلاھا احد ممن قبلنا من سائر الامم؛ بل ولانفی ان صلاھا اللیلۃ احد سوانا؛ انما فیہ نفی صلاۃ غیرنا تلك الساعۃ ، فیجوز ان یکون الناس صلوا عاجلین ، فانما نفی الانتظار لانفس الصلاۃ ومثلہ ما للبخاری ومسلم عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما ، لیس احد من اھل الارض ، زاد مسلم ، اللیلۃ ، ینتظر الصلاۃ غیرکم[2]۔ ولھما عن ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنھا ، وفیہ ، ماینتظرھا احد من اھل الارض غیرکم[3]۔
اور ان میں سے ہے کہ امام سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کہا ہے کہ احمد اور نسائی نے ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے نمازِ عشاء میں تاخیر کی ، پھر مسجد میں تشریف لائے تو لوگ نماز کا انتظار کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا : “ سُنو! موجودہ ادیان کے پیروکاروں میں سے تمہارے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو اس وقت الله تعالٰی کو یاد کررہا ہو “ اھ (ت)
میں کہتا ہوں : تم جانتے ہی ہوکہ ان حدیثوں میں ایسی کوئی بات نہیں جو امام سیوطی کے اس مدعٰی کیلئے دلیل بن سکے کہ عشاء کی نماز نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے پہلے کسی نبی نے نہیں پڑھی ، بلکہ اس میں تو یہ بھی نہیں کہ ہمارے علاوہ سابقہ اُمتوں میں سے کسی نے نہیں پڑھی ، بلکہ اس میں یہ بھی نہیں کہ آج رات ہمارے سوا کسی نے نہیں پڑھی ، اس روایت میں تو صرف اتنا ہے کہ ہمارے سوا کسی نے اس وقت نہیں پڑھی۔ ہوسکتا ہے باقی لوگوں نے اس سے پہلے پڑھ لی ہو۔ اسی کے مطابق بخاری ومسلم کی وہ روایت ہے جو ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو مسلم نے “ آج رات “ کا اضافہ کیا ہے نماز کا انتظار کررہا ہو۔ ا ور بخاری ومسلم نے ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے یوں روایت کی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں سے تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو۔
بل اخرجہ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن انس رضی الله تعالی عنہ ، وفیہ قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، قد صلی الناس وناموا ، وانکم فی صلاۃ ماانتظر تموھا [4]۔
ونحوہ لاحمد وابی داؤد والنسائی وابن ماجۃ من حدیث ابی سعید الخدری رضی الله تعالٰی عنہ۔ فھذا وجہ والثانی : ان یکون المراد نفی ان یصلیھا غیرنا من اھل الزمان مطلقا ، ویؤیدہ ماللبخاری والنسائی عن المؤمنین رضی الله تعالٰی عنھا۔ ولاتصلی یومئذ الابالمدینۃ[5] ، فان الیھود کانوا بخیبر والشام وغیرھما اکثر مماکانوا بالمدینۃ الکریمۃ ، فلوکانت عندھم لصلیت بغیرھا ایضا۔
اور بخاری ومسلم نے ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے یوں روایت کی ہے کہ زمین پر بسنے والوں میں سے تمہارے سوا کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو ، بلکہ احمد ، بخاری ، مسلم ، نسائی اور ابن ماجہ نے جو روایت بیان کی ہے اس میں نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان بھی ہے کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور سو چکے ہیں اور تم جب تك نماز کا انتظار کرتے ہو نماز میں ہی ہوتے ہو۔ اسی طرح کی روایت احمد ، ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بھی کی ہے۔ یہ تو ایك توجیہ ہوئی (کہ تخصیص “ اس وقت “ کے اعتبار سے ہے)۔ دُوسری توجیہ یہ ہے کہ تخصیص اس زمانے کے تمام لوگوں کے اعتبار سے ہے۔ اور حدیث کی مراد یہ ہے کہ اس زمانے کے لوگوں میں سے تمہارے سوا ایسے لوگ کہیں نہیں پائے جاتے جو عشاء کی نماز پڑھتے ہوں ۔ اس روایت کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو بخاری ونسائی نے ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے بیان کی ہے کہ ان دنوں یہ نماز صرف مدینے میں پڑھی جاتی تھی۔ اگر یہودی یہ نماز پڑھتے ہوتے تو مدینہ کی بنسبت خیبر اور شام وغیرہ میں یہودیوں کی تعداد زیادہ تھی تو چاہئے تھا کہ اِن مقامات میں بھی یہ نماز پڑھی جاتی (حالانکہ مدینہ کے سوا کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی) (ت)
اقول : ولاتخالف بین الوجھین ، فان الکافر لاصلاۃ لہ ، فانما اثبت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لھم الصورۃ اذ قال ، صلی الناس وناموا ، وام
المؤمنین نفت المعنی۔
والثالث : ان المراد لم تفرض علی غیرنا فلاینتظرھا ولایصلیھا احد غیرنا ، لامن اھل الزمان ولامن امم مضت ، وھو الذی صرح بہ فی حدیث معاذ رضی الله تعالٰی عنہ۔ فھذا قصوی مایستفاد منہ ، ولیس لہ ملحظ اصلا الی نفیھا عن سائر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔
میں کہتا ہوں : دونوں توجیہوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ کافر (اگر صورۃً نماز پڑھے بھی تو حقیقۃً اس) کی نماز نہیں ہوتی۔ اور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور سوچکے ہیں ، صوری نماز کے لحاظ سے ہے جبکہ ام المومنین حقیقی نماز کی نفی کررہی ہیں ۔ (ت)تیسری توجیہ یہ ہے کہ (تخصیص باعتبار فرضیت کے ہے) چونکہ یہ نماز ہمارے علاوہ کسی پر فرض نہیں کی گئی ، نہ موجودہ زمانے کے لوگوں پر ، نہ سابقہ اُمتوں پر ، اس لئے ہمارے سوا اس کا کوئی انتظار بھی نہیں کرتا۔ حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں اسی کی تصریح کی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہی کچھ اُس سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ رہا باقی انبیاء سے اس نماز کی نفی کرنا تو اس کی طرف اس حدیث میں کوئی اشارہ تك نہیں ہے۔ (ت)
بعض احادیث میں صاف تصریح آئی کہ حضرت ابراہیم واسمٰعیل علیہما الصلاۃ والتسلیم نے منٰی میں پانچوں نمازیں پڑھیں ،
فقد اخرج ابن سعدان ابرٰھیم واسمٰعیل اتیا منی فصلیا بھا الظھر والعصر والمغرب والعشاء والصبح [6]۔
ابن سعد نے تخریج کی ہے کہ ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام منٰی کو آئے تو وہاں ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھیں ۔ (ت)
اگر اس حدیث کی سند صحیح یا حسن ہو جب تو قول تخصیص ضعیف ہوہی جائے گا ورنہ قیام دلیل کی حاجت ضرور ،
فان الخصائص لاتثبت الابنص صحیح کمانصوا علیہ قاطبۃ ، منھم خاتم الحفاظ فی فتح الباری ، والقسطلانی فی المواھب ، والزرقانی فی شرحہ ، وغیرھم فی غیرھا۔
کیونکہ خصوصیات ، نص صحیح کے بغیر ثابت نہیں ہوتیں ، جیسا کہ سب نے تصریح کی ہے۔ مثال کے طور پر خاتم الحفاظ نے فتح الباری میں ، قسطلانی نے مواہب میں ، زرقانی نے اس کی شرح میں اور دیگر علماء نے دوسری کتابوں میں ۔ (ت)
[1] الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع