30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور بعض میں رفع ہے تو بالفاظ اجمال یعنی حضور والا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے تصریحًا اسی قدر منقول کہ جمع فرمائی قدر مرفوع میں غیبت شفق پر تنصیص نہیں مثل روایت۲ بخاری :
حدثنا سعید بن ابی مریم اخبرنا محمد بن جعفر قال اخبرنی زید ، ھو ابن اسلم ، عن ابیہ ، قال : کنت مع عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنھما بطریق مکّۃ ، فبلغہ عن صفیۃ بنت ابی عبید شدۃ وجع ، فاسرع السیر ، حتی اذاکان بعد غروب الشفق ، ثم نزل فصلی المغرب والعتمۃ ، یجمع بینھما ، فقال : انی رأیت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاجدبہ السیر اخر المغرب وجمع بینھما [1]۔
حدیث بیان کی ہم سے سعید ابن ابی مریم نے ، اس کو خبر دی محمد ابن جعفر نے ، اس کو زید بن اسلم نے اپنے والدی سے کہ میں مکّہ کے راستے میں عبدالله ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے ساتھ تھا تو ان کو صفیہ بنت ابی عبید کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ سخت درد میں ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رفتار تیز کردی یہاں تك کہ شفق غروب ہوگئی۔ اس کے بعد وہ اترے اور مغرب وعشاء کی نماز پڑھی ، دونوں کو جمع کیا ، پھر کہا کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو دیکھا ہے کہ جب انہیں سفر میں جلدی ہوتی تھی تو مغرب کو مؤخر کرکے دونوں کو جمع کرلیتے تھے۔ (ت)
وروایت۳ مسلم :
حدثنا محمد بن مثنی نایحیی عن عبیدالله عن نافع ان ابن عمر کان اذاجدبہ السیر جمع بین المغرب والعشاء ، بعد ان یغیب الشمس ، ویقول : ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان اذاجدبہ السیر جمع بین المغرب والعشاء [2]۔ ورواہ الطحاوی فقال : حدثنا ابن ابی داؤد ثنا مسدد ثنا یحییی[3] بہ ، سندًا ومتنا۔
حدیث بیان کی ہم سے محمد ابن مثنٰی نے یحٰیی سے ، اس نے عبیدالله سے ، اس نے نافع سے کہ ابن عمر کو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو شفق غائب ہونے کے بعد مغرب وعشا کو جمع کرلیتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو مغرب وعشاء کو جمع کرلیتے تھے۔ طحاوی نے بھی ابن ابی داؤد سے ، اس نے مسدد سے ، اس نے یحیٰی سے یہی روایت کی ہے ، ایك ہی سند اور متن کے ساتھ۔ (ت)
وروایت۴ ابی داؤد :
حدثنا سلیمٰن بن داود العتکی نا عماد نا ایوب عن نافع ان ابن عمر ، استصرخ علی صفیۃ ، وھو بمکۃ ، فسار حتی غربت الشمس وبدت النجوم ، فقال : ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان اذا عجل بہ امر فی سفربین ھاتین الصلاتین ، فسار حتی غاب الشفق ، فنزل فجمع بینھما [4]۔
حدیث بیان کی ہم سے سلیمان ابن داؤد عتکی نے عماد سے ، اس نے ایوب سے ، اس نے نافع سے کہ ابن عمر جب مکّہ میں تھے تو ان کو صفیہ کی شدید بیماری کی اطلاع ملی اور وہ چل پڑے ، یہاں تك کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے ، تو کہا کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو جب سفر میں کسی کام کی جلدی ہوتی تھی تو ان دو۲ نمازوں کو جمع کرلیتے تھے۔ پھر چلتے رہے ، یہاں تك کہ شفق غائب ہوگئی تو اُترے اور دونوں کو اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ضمیر سار ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی طرف ہے بدلیل روایت طحاوی :
حدثنا ابن مرزوق ثنا عازم بن الفضل ثنا حماد بن زید عن ایوب عن نافع ان ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہما ، استصرخ علی صفیۃ بنت عبید ، وھو بمکۃ ، فاقبل الی المدینۃ ، فسار حتی غربت الشمس وبدت النجوم ، وکان رجل ءیصحبہ ، یقول : الصلاۃ 'الصلاۃ ، وقال لہ سالم : الصلاۃ ، فقال : ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، کان اذاعجل بہ السیر فی سفر جمع بین ھاتین الصلاتین ، وانی ارید ان اجمع بینھما ، فسار حتی غاب الشفق ، ثم نزل فجمع بینھما[5]۔
حدیث بیان کی ہم سے ابن مرزوق نے عازم ابن فضل سے ، اس نے حماد ابن زید سے ، اس نے ایوب سے ، اس نے نافع سے کہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجب مکّہ میں تھے تو آپ کو صفیہ بنت ابی عبید کی شدید علالت کی خبر ملی۔ چنانچہ آپ مدینہ کی جانب روانہ ہوگئے اور مسلسل چلتے رہے یہاں تك کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے چمکنے لگے۔ ابن عمر کے ساتھ ایك شخص تھا جو کہہ رہا تھا “ نماز ، نماز “ ۔ سالم نے بھی کہا “ نماز “ (یعنی نماز کا وقت جارہا ہے) تو ابن عمر نے کہا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو جب سفر میں جلدی ہوتی تھی تو ان دو۲ نمازوں کو اکٹھا پڑھ لیتے تھے اور میں بھی چاہتا ہوں کہ اکٹھّا پڑھ لُوں ۔ پھر چلتے رہے ، یہاں تك کہ شفق غائب ہوگئی ، اس وقت اتر کر دونوں کو اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ولہذا امامِ اجل ابوجعفر اس حدیث کو روایت کرکے فرماتے ہیں :
انما اخبر بذلك من فعل ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما ، وذکر عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الجمع ، ولم یذکر کیف جمع [6]۔
اس میں تو صرف ابنِ عمر کا عمل مذکور ہے اور انہوں نے اگرچہ یہ تو بتایا ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجمع کیا کرتے تھے مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ کیسے جمع کیا کرتے تھے۔ (ت)
البتہ غیر صحیحین کی بعض روایات میں فعل یکتف کی طرف اشارہ کرکے رفع ہے وہ یہ ہیں ، روایت۵ ابی داؤد :
حدثنا عبدالملك ابن شعیب ناابن وھب عن اللیث ، قال : قال ربیعۃ ، یعنی کتب الیہ ، حدثنی عبدالله بن دینار ، قال : غابت الشمس ، وانا عند عبدالله بن عمر ، فسرنا ، فلما رأیناہ قدامسی ، قلنا : الصلاۃ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع