30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(تُونے ايك چيز ياد رکھی اور بہت سی چيزيں تُجھ سے اوجھل رہ گئيں ۔ ت)
الحمدالله اس فصل کے بھی اصل کلام نے وصل ختام بروجہ احسن پايا۔ اب حسبِ فصل اول چند افاضات ليجئے :
افاضہ اولٰی : ہمارے اجلّہ ائمہ حنفيہ مالکيہ شافعيہ اور ملّاجی کے امام ظاہر يہ سب بالاتفاق اپنی کتب ميں نقل کررہے ہيں کہ امام اجل ابوداؤد صاحبِ سُنن نے فرمايا :
ليس فی تقديم الوقت حديث قائم [1]۔
جمع تقديم ميں کوئی حديث ثابت نہيں ۔ (ت)
امام زيلعی فرماتے ہيں :
قال ابوداؤد : وليس فی تقديم الوقت حديث قائم [2]۔
ابوداؤد نے فرمايا : تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ (ت)
امام بدرمحمود عينی حنفی عمدۃ القاری شرح صحيح بخار ی میں فرماتے ہيں :
قلت : حکی عن ابی داؤد انہ انکر ھذا الحديث ، وحکی عنہ ايضا ، انہ قال : ليس فی تقديم الوقت حديث قائم [3]۔
ميں نے کہا : ابوداؤد سے منقول ہے کہ انہوں نے اس حديث کو منکر کہا ہے۔ ان سے يہ بھی منقول ہے کہ تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ (ت)
اسی طرح علامہ سيد ميرك شاہ حنفی نے نفل فرمايا مولانا علی قاری مکّی مرقاۃ شرح مشکٰوۃ میں فرماتے ہيں :
حکی عن ابی داؤد انہ قال : ليس فی تقديم الوقت حديث قائم۔ نقلہ ميرك ۔ فھذا شھادۃ بضعف الحديث وعدم قيام الحجۃ للشافعيۃ [4]۔ ابوداؤد سے منقول ہے کہ تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے ، يہ بات ميرك نے نقل کی ہے۔ يہ حديث کے ضعيف ہونے اور شافعيوں کی دليل قائم نہ ہونے پر شہادت ہے۔ (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرع صحيح البخاری ميں فرماتے ہيں : قدقال ابوداؤد :
وليس فی تقديم الوقت حديث قائم[5]۔ (ابو داؤد نے فرمايا : تقديم وقت ميں کوئی حديث ثابت نہيں ہے۔ ت)
بعينہٖ اسی طرح علّامہ زرقانی مالکی نے شرح مؤطائے امام مالك و نيز شرح مواہب لدنيہ ومنح محمديہ ميں فرمايا شوکانی غير مقلد کی نيل الاوطار ميں ہے : قال ابوداؤد : ھذا حديث منکر وليس فی جمع التقديم حديث قائم[6]۔
بھلا ابوداؤد سا امام جليل الشان يہ تصريح فرماگيا جسے علمائے مابعد حتی کہ قائلانِ جمع بھی بلانکير وانکار نقل فرماتے آئے ، نہ آج تك کوئی اس کا پتادے سکا ، اب مُلّاجی چاہيں کہ ميں حديث صحيحين سے ثابت کردوں يہ کيونکر بنی مگر قيامت لطيفہ دلربا کھسيانی ادا يہ ہے کہ جھنجھلائی نظروں سے جل کر فرمايا ف : کُچھ غيرت آوے تو نشان دہی کريں کہ ابُوداؤد نے کون سی کتاب ميں يہ قول کہا ہے ، يعنی نقول ثقات عدول محض مردود ونامقبول جب تك قائل خود اپنی کتاب ميں تصريح نہ کرے اُس سے کوئی نقل معتبر نہ ہوگی۔
اقول : مُلّاجی! ان جھنجھلا ہٹوں ميں حق بجانب تمہارے ہے تم دلی کی ٹھنڈی سڑك پر ہوا کھلانے کے قابل نہ تھے يہ حنفی لوگ عبث تمہيں چھوڑ کر بوکھلائے ديتے ہيں بھلا اوّلا اتنا تو ارشاد ہوکہ بہت ائمہ جرح وتعديل وتصحيح وتضعيف وغيرہم ايسے گزرے جن کی کوئی کتاب تصنيف نہيں بيان سے نقل معتبر ہونے کا کيا ذريعہ ہوگا۔
ثانيًا : آپ جو اپنی مبلغ علم تقريب کے بھروسے رواۃ ميں کسی کو ثقہ کسی کو ضعيف کسی کو چنيں کسی کو چناں کہہ رہے ہيں ظاہر ہے کہ مصنف تقريب نے اُن ميں کسی کا زمانہ تك نہ پايا صدہا سال بعد پيدا ہوئے انہيں ديکھنا اور اپنی نگاہ سے پرکھنا تو قطعًا نہيں اسی طرح ہر غير ناظر ميں يہی کلام ہوگا ، اب رہی ديکھنے والوں سے نقل سوا مواضع عديدہ کے ثبوت تو ديجئے کہ ناظرين مبصرين نے اپنی کس کتاب ميں اُن کی نسبت يہ تصريحيں کی ہيں ۔
ثالثا : آپ کی اسی کتاب ميں اور بيسيوں نقول سلف سے ايسی نکليں گی کہ آپ حکايات متاخرين کے اعتقاد پر نقل کر لائے اور اُن سے احتجاج کيا کچھ غيرت رکھاتے ہو تو نشان دہی کروکہ وہ باتيں منقول عنہم نے کس کتاب ميں لکھی ہيں مگر يہ کہيے کہ يجوز للوھابی مالايجوز لغيرہ (وہابی کےلئے وہ کچھ جائز ہے جو دوسروں کےلئے جائز نہيں ۔ ت)
افاضہ ثانيہ : رہی اس باب ميں حديثِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامروی احمد وشافعی وعبدالرزاق وبيہقی :
وھذا حديث احمد اذيقول حدثنا عبدالرزاق اخبرنا ابن جريج اخبرنی حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس عن عکرمۃ و کريب عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما قال : الا اخبرکم عن صلاۃ رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم فی السفر؟ قلنا : بلٰی۔ قال : کان اذا زاغت الشمس فی منزلہ جمع بين الظھر والعصر ، قبل ان يرکب ، واذا لم تزغ لہ فی منزلۃ سار ، حتی اذاکانت العصر ، نزل فجمع بين الظھر والعصر۔ واشار اليہ ابوداؤد تعليقا [7] ، فقال : رواہ ھشام بن عروۃ عن حسين بن عبدالله عن کريب عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالٰی عليہ وسلم ، ولم يذکر لفظہ [8]۔
اور يہ احمد کی حديث ہے ، حديث بےان کی ہم سے عبدالرزاق نے ، اس کو خبر دی ابن جريج نے ، اس کو خبر دی حسين بن عبدالله بن عبيدالله بن عباس نے کہ عکرمہ اور کريب ، ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روايت کرتے ہيں کہ ابن عباس نے ہم سے پُوچھا : “ کيا ميں تمہيں سفر کے دوران رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی نماز کے بارے ميں نہ بتاؤں ؟ ہم نے کہا : “ کيوں نہيں (ضرور بتائيں ) انہوں نے کہا کہ اگر جائے قيام پر زوال ہوجاتا تھا تو سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے اور اگر جائے قيام پر زوال نہيں ہوتا تھا تو چل پڑتے تھے اور جب عصر ہوتی تھی تو اتر کر ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھ ليتے تھے۔ اس روايت کی طرف ابوداؤد نے تعليقًا اشارہ کيا ہے اور کہا ہے کہ اس کو ہشام ابن عروہ نے حسين ابن عبدالله سے ، اس نے کريب سے ، اس نے ابن عباس سے ، انہوں نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے۔ مگر ابوداؤد نے اس کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہيں ۔ (ت)
[1] شرح الزرقانی علی المؤطا الجمع بين الصلاتين مطبوعہ مطبعۃ الاستقامۃ قاہرہ مصر ۱ / ۲۹۲
[2] تبيين الحقائق اوقات الصلٰوۃ مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الاميريہ بولاق مصر ۱ / ۸۹
[3] عمدۃ القاری شرح بخاری باب الجمع فی السفر الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنيريہ دمشق ۷ / ۱۵۱
[4] مرقاۃ شرح مشکٰوۃ باب صلٰوۃ السفر مطبوعہ مکتبہ امداديہ ملتان ۳ / ۲۲۵
[5] ارشاد الساری شرح صحيح بخاری باب يؤخر الظہر الی العصر الخ مطبوعہ دارالکتاب العربيہ بيروت ۲ / ۳۰۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع