30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانی : عدم مہلت ہر جگہ اُس کے لائق ہوتی ہے کمافی فواتح الرحموت [1](جيسا کہ فواتح الرحموت ميں ہے۔ ت) تزوج فولدلہ ميں کون کہے گا کہ نکاح کرتے ہی اُسی آن ميں بچّہ پيدا ہوتو جيسے وہاں تقريبًا ايك سال کا فاصلہ منافی مقتضائے فانہیں ، ظہر وعصر ميں دو۲ ساعت کا فاصلہ کيوں منافی ہوگا۔
ثالث : ہاجرہ ظرف خروج ہے ممکن کہ خروج آخر ہاجرہ ميں ہوکہ وضو ونماز ظہر تك تمام ہوجائے اور نمازِ عصر بلامہلت اُس کے بعد ہو ، ہاجرہ کچھ دوپہر ہی کو نہيں کہتے زوال سے عصر تك سارے وقتِ ظہر کو بھی شامل ہے کمافی القاموس۔ تو مخالفت ظاہر کا ادعا بھی محض باطل۔
رابع : حديث مروی بالمعنٰی ہے اور شاہ ولی الله صاحب نے تصريح کی کہ ايسی حديث کے فا و واو وغيرہما سے استدلال صحيح نہيں کما فی الحجۃ البالغۃ۔ يہ تلخيص وتہذيب اجوبہ ہے وقد ترکنا مثلھا فی العدد (اور ہم نے اتنے ہی جوابات ترك کردئے ہيں ۔ ت) وانا اقول : وبحول الله اصول۔
خامس : ہاجرہ کو ظرف افعال ثلثہ کہنا محض ادعائے بے دليل ہے “ و “ تعقيب چاہنی ہے۔ اتحاد زمانہ نہيں چاہتی بلکہ تعدد واجب کرتی ہے کہ تعقيب بے تعدد معقول نہيں ۔
سادس : ظرفيت ثلٰثہ فاسے ثابت يا خارج سے اول بداہۃً باطل کماعلمت برتقدير ثانی حديث فالغومحض ہے کہ عصر فی الہاجرہ اُسی قدر سے ثابت ، پھر باوصف لغويت اُسی کی طرف اسناد کہ بمقتضائے فا يہ معنی ہوئے اور عجيب تر۔
سابع : ذرا صفت حجۃ الوداع ميں حديث طويل سيدنا جابر بن عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاصحيح مسلم وغيرہ ميں ملاحظہ ہو ، فرماتے ہيں :
فلما کان يوم الترويۃ توجھوا الی منٰی فاھلوا بالحج ورکب رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم فصلی بھا الظھر والعصر والمغرب والعشاء والفجر [2]۔
جب آٹھويں ذی الحجہ کی ہُوئی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحج کا احرام باندھ کر منٰی کو چلے اور حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسوار ہوئے تو منٰی ميں ظہر وعصر ومغرب وعشا وفجر پانچوں نمازيں پڑھيں ۔ (م)
ملّاجی وہی فا ہے وہی ترتيب وہی عطف وہی ترکيب۔ اَب يہاں کہہ دينا کہ سوار ہوتے ہی معًا بے مہلت پانچوں نمازيں ايك وقت ميں پڑھ ليں جو معنی صلی الظھر والعصر الخ کے يہاں ہيں وہی وہاں اور يہ قطعًا محاورہ عامہ شائعہ سائغہ ہے کہ اصلًا مفيد وصل صلوات نہيں ہوتا ومن ادعی فعليہ البيان (جو شخص دعوٰی کرتا ہے اس کے ذمّے دليل ہے۔ ت)
ثامن : کلام متناقض ہے کہ اوّل کلام ميں حکم وصل سے عصر کا فعل خلاف ظاہر مانا يہ دليل صحت ہے آخر ميں کيونکر جائز کہا يہ دليل فساد۔
تاسع : تاويل کے لئے قطعيتِ مانع ضروری جاننا عجب جہل ہے کيا اگر کسی حديث کے ظاہر سے ايك معنی متبادر ہوں اور دوسری حديث صحيح اُس کے خلاف ميں صريح تو حديث اول کو اس کے خلاف ہی پر حمل واجب ہے کہ بے مانع قطعی ظاہر سے عدول کيونکر ہو نقل کر لانا سہل ہے محل ومقام ومقصد کلام کا سمجھنا نصيب اعدا۔
عاشر : آپ جو اپنی نصرت خيالات کو احاديث صحيحہ ميں جابجا تاويلاتِ رکيکہ باردہ کرتے ہيں اُن کے جواز کا فتوٰی کہاں سے پايا ، مجتہدات ميں قاطع کہاں ، مثلًا وقتِ ظہر يك مثل بنانے کو جو حديث صحيح صريح بخاری حتی ساوی الظل التلول کے معنی بگاڑے جن کا ذکر اِن شاء الله تعالٰی عنقريب آتا ہے اُس کا عذر کيا معقول ارشاد ہوتا ہے : منشاء تاويلات کا يہی ہے کہ احاديثِ صحيحہ جن سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد ايك مثل کے وقت ظہرکا نہيں رہتا ثابت ہيں پس جمعًا بين الاولہ يہ تاويليں حقہ کی گئيں [3] اب خدا جانے بے قطعيت مانع يہ تاويليں حقہ کيونکر ہوئيں مخالفتِ ظاہر کے باعث سلفہ کيوں نہ ہوگئيں ۔
حادی عشر : طرفہ نزاکت صدر کلام ميں يہ بيڑا ا ٹھا کر چلے کہ وہ حديثيں جن ميں تاويل مخالف کو دخل نہيں ذکر کرتے ہيں اور يہاں ايسے گرے کہ صرف ظاہر سے سند لائے تاويل خود ہی مان گئے۔
ثانی عشر : آپ کی فضوليات کی گنتی کہاں تك اصل مقصود کی دھجياں ليجئے صحيحين ميں حديث مذکور کے يہ لفظ تو ديکھيے جن ميں فاء سے يہ فی نکالی ، مگر يہی حديث انہيں صحيحين ميں متعدد طرق سے بلفظ ثم آئی جو آپ کی تعقيب بے مہلت کو تعاقب سے دم لينے کی مہلت نہيں ديتی۔ صحيح بخاری شريف باب صفۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔
بطريق شعبۃ عن الحکم ، قال : سمعت اباجحيفۃ ، قال : خرج رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم بالھاجرۃ الی البطحاء فتوضأ ، ثم صلی الظھر رکعتين والعصر رکعتين[4]۔
بطريقہ شعبہ ، وہ حکم سے راوی ہے کہ ميں نے ابوجحيفہ کو کہتے سُنا ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمدوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے تو وضو کيا ، پھر ظہر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں اورعصر کی دو۲ رکعتيں ۔ (ت)
نيز باب مذکور
بطريق مالك بن مغول عن عون عن ابیہ ، وفيہ ، خرج بلال فنادی بالصلاۃ ، ثم دخل فاخرج فضل وضوء رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم ، فوقع الناس عليہ ياخذون منہ ، ثم دخل فاخرج العنزۃ ، وخرج رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم ، کانی انظر الی وبيض ساقيہ ، فرکز العنزۃ ، ثم صلی الظھر رکعتين والعصر رکعتين [5]۔
بطريقہ مالك ابن مغول ، وہ عون سے ، وہ اپنے والد سے۔ اس روايت ميں ہے کہ بلال (خيمے سے) نکلے اور نماز کے لئے پکارا ، پھر اندر گئے اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے وضو کا بچا ہوا پانی لے آئے تو اس کو حاصل کرنے کےلئے لوگ اس پر ٹوٹ پڑے ، بلال پھر اندر گئے اور عصا نکال لائے ، اسی وقت رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبھی باہر تشريف لے آئے گويا کہ ميں اب بھی آپ کی ساقين کی چمك ديکھ رہا ہوں بلال نے عصا (بطور سُترہ) زمين پر گاڑ ديا۔ پھر رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ظہر اور عصر کی دو۲ دو۲ رکعتيں پڑھيں ۔ (ت)
چلے کہاں کو ، ان دو۲ نے تو آپ کی تعقيب ہی بگاڑی ہے ، تيسرا اور نہ لیے جاؤ جو خود ظہر وعصر مويں فاصلہ کر دکھائے ، صحيح مسلم شريف
بطريق سفيٰن ناعون بن ابی جحيفۃ عن ابيہ ، وفيہ ، فخرج النبی صلی الله تعالٰی عليہ وسلّم فتوضأ ، واذن بلال ، ثم رکزت العنزۃ ، فتقدم فصلی الظھر رکعتين ، ثم صلی العصر رکعتين ، ثم لم يزل يصلی رکعتين حتی رجع الی المدينۃ[6]۔
بطريقہ سفيان ، وہ عون سے ، وہ اپنے والد ابوجحيفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے۔ اس روايت ميں ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمباہر تشريف لائے تو وضو کيا اور بلال نے اذان دی ، پھر عصاگاڑا گيا اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوگئے ، تو ظہر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں ، پھر عصر کی دو۲ رکعتيں پڑھيں ، اس کے بعد مدينہ کو واپسی تك دوہی رکعتيں پڑھتے رہے۔ (ت)
ملّاجی! اب مزاج کا حال بتائیے ع
حفظت شیئا وغابت عنك اشياء
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع