30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
يعنی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمغزوہ تبوك ميں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کُوچ فرماتے تو ظہر ميں دير کرتے يہاں تك کہ اُسے عصر سے ملاتے تو دونوں کو ساتھ پڑھتے اور جب دوپہر کے بعد کُوچ فرماتے تو عصر ميں تعجيل کرتے اور ظہر وعصر ساتھ پڑھتے پھر چلتے اور جب مغرب سے پہلے کُوچ کرتے مغرب ميں تاخير فرماتے يہاں تك کہ عشا کے ساتھ پڑھتے اور مغرب کے بعد کُوچ فرماتے تو عشا ميں تعجيل کرتے اُسے مغرب کے ساتھ پڑھتے۔ امام ترمذی فرماتے ہيں يہ غريب ہے معروف روايت ابی ھريرہ ہے :
حيث قال : حديث الليث عن يزيد بن ابی حبيب عن ابی الطفيل عن معاذ ، حدیث حديث غریب والمعروف عند اھل العلم حدیث معاذ من حديث ابی الزبير عن ابی الطفيل عن معاذ ان النبی صلی الله تعالٰی عليہ وسلم جمع فی غزوۃ تبوك بين الظھر والعصر ، وبين المغرب والعشاء۔ رواۃ قرۃ بن خالد وسفيٰن الثوری ومالك وغير واحد عن ابی الزبير المکی [1]۔
چنانچہ ترمذی نے کہا کہ وہ حديث جو ليث نے يزيد ابن ابی حبيب سے ، اس نے ابوالطفيل سے ، اس نے معاذ سے روايت کی ہے ، وہ غريب ہے اور اہلِ علم کے نزديك معروف معاذ کی وہ حديث ہے جو ابوالزبير نے بواسطہ ابوالطفيل معاذ سے روايت کی ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے غزوہ تبوك ميں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو جمع کيا۔ اس کو قرۃ ابن خالد ، سفيان ثوری ، مالك اور دوسروں نے ابوالزبير مکّی سے روايت کيا ہے۔ (ت)
پھر ائمہ شان مثل ابوداؤد وترمذی وابوسعيد بن يونس فرماتے ہيں اسے سوا قتيبہ بن سعيد کے کسی نے روايت نہ کيا يہاں تك کہ بعض ائمہ نے اُس پر غلط ہونے کا حکم فرمايا [2] کمانقلہ الامام البدر في العمدۃ والشوکانی الظاھری فی شرح المنتقی عن الحافظ ابن سعيد بن يونس (جيسا کہ امام بدر نے عمدۃ ميں اور شوکانی الظاہری نے شرح منتقی ميں حافظ ابن سعيد بن يونس سے نقل کيا۔ ت) امام ابوداؤد نے منکر کہا [3] کمافی البدر المنير وعنہ فی النيل (جيسا کہ بدر منير ميں ہے اور اس سے نيل الاوطار نے نقل کيا ہے)
بلکہ رئيس الناقدين امام بخاری نے اشارہ فرمايا کہ يہ حديث نہ ليث نے روايت کی نہ قتيبہ نے ليث سے سنی بلکہ خالد بن قاسم مدائنی متروك بالاجماع مطعون بالکذب نے قتيبہ کو دھوکا دے کر اُن سے روايت کرادی اُس کی عادت تھی کہ براہِ مکر وحيلہ شيوخ پر اُن کی ناشنيدہ روايتيں داخل کرديتا لاجرم حاکم نے علوم الحديث ميں اُس کے موضوع ہونے کی تصريح کی يہ سب باتيں علمائے حنفيہ مثل امام زيلعی شارح کنز وامام بدر عينی شارح صحيح بخاری وعلّامہ ابراہيم حلبی شارح منيہ کے سوا شافعيہ ومالکيہ وظاہريہ قائلان جمع بين الصلاتين مثلي امام قسطلانی شافعی شارح بخاری وعلّامہ زرقانی مالکی شارح مؤطا ومواہب وشوکانی ظاہری شارح منتقی وغيرہم نے امام ابن يونس وامام ابوداؤد وابوعبدالله حاکم وامام المحدثين بخاری سے نقل کيں بلکہ انہيں نے اور ان کے غير مثل صاحب بدرمنير وغيرہ نے امام ابوداؤد سے حکم مطلق نقل کيا کہ جو مضمون اس روايت کا ہے اس باب ميں اصلًا کوئی حديث قابلِ استناد نہيں کماسيأتی اِن شاء الله تعالٰی ( جيسا کہ اِن شاء الله تعالٰی آگے آئےگا۔ ت) تو باوصف تصريحات ائمہ شان خصوصًا بخاری کے پھر ملّاجی کا اس روايت کی تصحيح ميں عرق ريزی بے حاصل اور توثيق ليث وقتيبہ وغيرہما رواۃ وقبول تفرد ثقہ کے اثبات ميں تطويل لاطائل کرنا کيسی جہالتِ فاحشہ ہے کس نے کہا تھا کہ قتيبہ يا ليث يا يزيدبن ابی حبيب يا معاذالله حضرت ابوالطفيل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُضعيف ہيں ، ملّاجی بايں پيرانہ سالی ودعوے محدثی ابھی حديث معلول ہی کو نہيں جانتے کہ اُس کےلئے کچھ ضعفِ راوی ضرور نہيں بلکہ باوصف وثاقت وعدالت رواۃ حديث ميں علت قارحہ ہوتی ہے کہ اُس کا رَد واجب کرتی ہے جسے بخاری وابوداؤد وغيرہما سے ناقدين پہچانتے ہيں بخاری وابوسعيد وحاکم نے بھی تو قتيبہ پر جرح نہ کی تھی بلکہ يہ کہا تھا کہ اُنہيں دھوکا دياگيا غلط ميں پڑگئے پھر اس سے عدالتِ قتيبہ کو کيا نقصان پہنچا ، وثاقتِ قتيبہ سے حديث کو کيا نفع ملا ، ہاں يہ دفتر توثيق اپنے پےشوا ابن حزم غير مقلد لامذہب کو سنائيے جس خبيث اللسان نے آپ کو اس روايت کے رَد ميں سيدنا ابوالطفيل صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو عياذًا بالله مقدوح و مجروح بتايا جسے دوسرے غير مقلّد شوکانی نے نقل کيا ، غير مقلدوں کی عادت ہے کہ جب حديث کے رَد پر آتے ہيں خوفِ خدا وشرمِ دُنيا سب بالائے طاق رکھ جاتے ہيں ۔ اسی ابن حزم نے باجے حلال کرنے کےلئے صحيح بخاری شريف کی صحيح ومتصل حديث کو بزعمِ تعليق رَد کيا جس کا بيان امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے شرح صحيح مسلم شريف ميں فرمايا وہی ڈھنگ موصول کو معلق مسند کو مرسل بناکر احاديث صحيحہ جيدہ کو رَد کرنے کےلئے آپ نے سيکھے ہيں ،
کماتقدم ، ومن يشبہ اباء ہ فماظلم ثمّ اقول : وتحسين الترمذی يرجع الٰی حديث معاذ ، لقولہ : حديث معاذ حديث حسن غريب۔ واذا اتی علی ھذہ الروايۃ لم يحسنہ ، انما قال : و حديث الليث عن يزيد غريب۔ وافاد انہ خلاف المعروف ، فقال : والمعروف عند اھل العلم حديث معاذ [4]۔ الخ واما ابن حبان فلانعلم لہ فضلا علی ابی سعيد بن يونس ، فانہ ايضا ثقۃ ، ثبت ، حافظ ، امام من ائمۃ الشان ، کلاھما من الاقران ، من تلامذۃ الامام النسائی ابی عبد الرحمٰن۔ وابن يونس ، لنزاھتہ من نفس فلسفی ، احب الی الناس من ابن حبان۔ وقد قال الامام ابوعمرو بن الصلاح فی طبقات الشافعيۃ : ربما غلط الغلط الفاحش فی تصرفاتہ [5] ، کمانقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفّاظ۔ فانی يدانی اباداؤد ، فضلا ان يواذيہ ، فضلا ان يباريہ ، فضلا عن ذاك الجبل الجليل محمد بن اسمعيل يوقد عرف بالتساھل فی باب التصحيح؛ بل والتحسين ، ھو والترمذی : کمانص عليہ الائمۃ وحققناہ فی رسالتنا مدارج طبقات ۱۳۱۳ھ الحديث علی ان الجرح مقدم فی مثل المقام ، فان من اثبت فانما نظر الی ثقۃ الرواۃ ، ولم يطلع علی مااطلع عليہ غيرہ من العلۃ ، ومن يعلم قاض علی من لايعلم۔ والله اعلم ، من کل اعلم۔
جيسا کہ گزرا اور جو شخص اپنے آباؤ سے مشابہت رکھے اس کا کوئی قصور نہيں ۔ ثم اقول پھر ميں کہتا ہوں ) کہ ترمذی کا حسن قرار دينا حديث معاذ سے متعلق ہے کيونکہ ترمذی نے کہا ہے کہ معاذ کی حديث حسن غريب ہے اور جب اس روايت کا ذکر کيا اسے حسن نہيں کہا صرف يہ کہا کہ ليث کی يزيد سے مروی حديث غريب ہے۔ ترمذی نے يہ افادہ بھی کيا کہ يہ معروف حديث کے خلاف ہے۔ چنانچہ ترمذی نے کہا ہے کہ اہلِ علم کے نزديك معروف ، معاذ کی وہ حديث ہے الخ۔ رہا ابن حبان تو اسکی سعيد ابن يونس پر کوئی برتری ہمارے علم ميں نہيں ہے کيونکہ سعيد بھی ثقہ ہے ثبت ہے ، حافظ ہے اور حديث کے اماموں ميں سے ايك امام ہے دونوں ہم زمان ہيں اور امام ابوعبدالرحمن نسائی کے شاگردوں ميں سے ہيں ۔ تاہم ابن يونس فلسفی روح سے پاك ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ہاں ابن حبان سے زيادہ پسنديدہ ہے۔ امام ابوعمر ابن صلاح نے طبقات الشافعيہ ميں کہا ہے کہ ابن حبان کو تصرفات حديث کے دوران بسا اوقات شديد غلطی لگ جاتی تھی ، جيسا کہ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ ميں بےان کيا ہے۔ تو پھر ابن حبان ابوداؤد کے قريب بھی کہاں پہنچ سکتا ہے ، چہ جائےکہ اس کا ہمسر ہو ، چہ جائےکہ اس کے مقابل ہو۔ اور علم کے عظيم پہاڑ محمد بن اسمٰعيل (بخاری) کا مقام تو پھر بہت ہی اونچا ہے ، جبکہ ابن حبان احاديث کو صحيح قرار دينے ميں متساہل ہے۔ بلکہ حسن قرار دينے ميں بھی يہ اور ترمذی متساہل ہيں ، جيسا کہ ائمہ نے تصريح کی ہے اور ہم نے اپنے رسالے “ مدارج طبقات الحديث “ ميں تحقيق کی ہے۔ علاوہ ازيں ايسے مقام پر جرح ، تعديل سے مقدم ہوتی ہے کيونکہ جو علماء ، حديث کو ثابت قرار ديتے ہيں وہ صرف راويوں کا ثقہ ہونا مدّنظر رکھتے ہيں اور اس خامی سے آگاہ نہيں ہوتے ہيں جس سے دوسرے واقف ہوتے ہيں اور آگاہی رکھنے والے ، آگاہی نہ رکھنے والوں کی بنسبت فيصلہ کن ہوتے ہيں ۔ والله تعالٰی اعلم من کل اعلم۔ (ت)
ثمّ اقول : اس روايت ميں اسی طرح مقال واقع ہوئی اور ہنوز کلام طويل ہے مگر فقير غفرالله تعالٰی لہ کہتا ہے نظر تحقيق کو رخصت تدقيق ديجئے تو اس روايت کا کون سا حرف جمع حقيقی ميں نص ہے اُس کا حاصل تو صرف اس قدر کہ حضور والا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسفر تبوك ميں ظہر وعصر کو جمع فرماتے اگر دوپہر سے پہلے کُوچ ہوتا تو راہ ميں اُتر کر ورنہ منزل ہی پر پہلی صورت ميں جمع بعد سير ہوتی ہے اور دوسری ميں سير بعد جمع پھر اس ميں جمع صوری کا خلاف کيا ہوا حديث کا کون سا لفظ حقيقی کا تعيین کررہا ہے اذا ارتحل بعدزيغ الشمس ميں خواہی نخواہی بعديت متصلہ پر کيا دليل ہے بلکہ اس کے عدم پر دليل قائم کہ جزا صلی ثم سار ہے بلکہ الفاظ اخر الظھر وعجل العصر سے
[1] جامع الترمذی باب ماجاء فی الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱ / ۷۲
[2] نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
[3] نيل الاوطار شرح منتقی الاخبار ابواب الجمع بين الصلٰوتين مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۳
[4] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع