دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

چاہیں گے اور ملائکہ جس کی مغفرت چاہیں میں اسے ہرگز عذاب نہ دُوں گا۔ اے موسٰی! مغرب کی تین رکعت ہیں انہیں احمد اور اس کی اُمت پڑھے گی آسمان کے سارے دروازے ان کیلئے کھول دُوں گا ، جس حاجت کا سوال کرینگے اسے پُورا ہی کردوں گا۔ اے موسٰی! شفق ڈوب جانے کے وقت یعنی عشاء کی چار رکعتیں ہیں پڑھیں گے انہیں احمد اور ان کی اُمت ، وہ دنیا ومافیہا سے اُن کیلئے بہتر ہیں ، وہ انہیں گناہوں سے ایسا نکال دیں گی جیسے اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ اے موسٰی! وضو کرے گا احمد اور اسکی اُمت جیسا کہ میرا حکم ہے میں انہیں عطا فرماؤں گا ہرقطرے کے عوض کہ آسمان سے ٹپکے ایك جنت جس کا عرض آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہوگا۔ اے موسٰی! ایك مہینے کے ہرسال روزے رکھے گا احمد اور اس کی اُمت اور وہ ماہِ رمضان ہے عطا فرماؤں گا اسکے ہر دن کے روزے کے عوض جنت میں ایك شہر اور عطا کروں گا اس میں نفل کے بدلے فرض کا ثواب اور اس میں لیلۃ القدر کروں گا جو اس مہینے میں شرمساری وصدق سے ایك بار استغفار کریگا اگر اسی شب یا اس مہینے بھر میں مرگیا اسے تیس۳۰ شہیدوں کا ثواب عطا فرماؤں گا۔ اے موسٰی! امتِ محمدیہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں کچھ ایسے مرد ہیں کہ ہر شرف پر قائم ہیں لاالٰہ الاالله کی شہادت دیتے ہیں تو ان کی جزا اس کے عوض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ثواب ہے اور میری رحمت ان پر واجب اور میرا غضب ان سے دور ، اور ان میں سے کسی پر بابِ توبہ بند نہ کروں گا جب تك وہ لا الٰہ الّاالله کی گواہی دیتے رہیں گے اھ (فقیر محمد حامد رضا غفرلہ) اس روایت میں ذکر کئے گئے نفیس انعامات سے محبت کی بنا پر ہم نے اس کو بتمامہٖ بیان کردیا ہے ، الله  تعالٰی اپنے احسان وکرم سے اور نعمتیں تقسیم کرنے والے اپنے محبوب کی عزت کے صدقے ہمیں ان انعامات سے کامل حصّہ نصیب فرمائے۔ آمین! (ت)میں کہتا ہوں : اگر اس روایت سے اختصاص پر استدلال مکمل مان لیا جائے تو یہ اس پر دلالت کرے گا کہ پانچ میں سے ہر ایك نماز نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے خاص ہے ، نہ کہ پانچ کا مجموعہ ، کیونکہ اس روایت میں ہر نماز کے ساتھ یہ آیا ہوا ہے کہ اس کو احمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماور ان کی اُمت اداکرے گی ، نیز اس روایت میں وضو کا بھی ذکر ہے حالانکہ وضو کے بارے میں نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان چیزوں کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ ان کے مذکورہ فضائل صرف امتِ محمدیہ کو عطا کئے جائیں گے۔ (ت) اور ان میں سے امام عیشی کا وہ اثر ہے جسے امام طحاوی نے روایت کیا ہے اور اس پر کلام عنقریب آرہا ہے ، اسی اثر کے مطابق ہے وہ جو حلیہ میں بعض علماء سے مذکور ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ نمازیں باقی انبیاء علیہم السلام کو متفرق طور پر ملی تھیں اور اس امت کیلئے جمع کردی گئی ہیں ۔ انہوں نے مزید ذکر کیا ہے کہ فجر آدم علیہ السلام کیلئے تھی ، ظُہر ابراہیم علیہ السلام کے لئے ، عصر سلیمان علیہ السلام کیلئے ، اور مغرب عیسٰی علیہ السلام کیلئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ جہاں تك عشاء کا تعلق ہے تو اس کے ساتھ یہ اُمت مخصوص کی گئی ہے اھ (ت)میں کہتا ہوں : (بعض علماء کی اس عبارت سے) استدلال کی توجیہ یہ ہے کہ انہوں نے اگرچہ ذکر تو اتنا ہی کیا ہے کہ نمازِ عشاء اس امت کے ساتھ مخصوص کی گئی ہے لیکن چونکہ یہ نہیں کہاکہ “ باقی اُمتوں میں سے “ نہ ہی یہ ذکر کیا ہے کہ یہ نماز کسی اور نبی نے بھی پڑھی تھی ، جیسا کہ باقی نمازوں میں یہ بیان کیا ہے تو اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا کہ یہ اُمت مطلقًا اس نماز کے ساتھ مخصوص ہے بنسبت باقی اُمتوں کے بھی اور انبیاء کے بھی (یعنی یہ نماز اس سے پہلے نہ کسی اُمت نے پڑھی نہ کسی نبی نے) نیز اس عبارت کی ابتداء میں اس امت کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کا بھی ذکر ہے تو یہاں بھی ظاہر یہی ہے (کہ اس امت کا عشاء کے ساتھ اختصاص بنسبت باقی انبیاء کے بھی ہے) یہ نہیں کہ صرف اُمتوں کی بنسبت ہو اور انبیاء کی بنسبت نہ ہو۔ (ت)

اقول :  ویغنی عن الکلام علیہ مایأتی فی کلام ابن عائشۃ رحمہ الله تعالٰی۔

ومنھا۵ حدیث سیدنا معاذ ، الصحیح المارفی العشاء ، انکم فضلتکم بھا علی سائر الامم[1] ، احتج بہ الامام الجلیل الجلال السیوطی رحمہ الله تعالٰی فی الخصائص الکبری علی کون العشاء لم یصلھا احد قبلہ [2] صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔

اقول :  سبحٰن من لایزل المقابلۃ ھھنا بیننا وبین سائر الامم ، فکیف دل علی انتفائھا عن سائر الانبیاء سوی نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وعلیھم وسلم ، واعجب منہ ان ذکر العلامۃ الزرقانی تحت قول العیشی الاٰتی ، اول من صلی العشاء الاٰخرۃ نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، مانصہ :  وعورض بمافی شرح المسند (ای للامام الرافعی الشافعی) ان العشاء لیونس علیہ الصلاۃ والسلام اھ۔ ثم استدرك بقولہ ، لکن یؤید خبر الطحاوی (ای اثر العیشی) حدیث معاذ رضی الله تعالٰی عنہ [3] اھ۔

میں کہتا ہوں اس پر جرح کیلئے وہ بحث کافی ہے جو عنقریب ابنِ عائشہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے کلام میں آرہی ہے۔ اور ان میں سے حضرت معاذ کی صحیح حدیث ہے جو گزرچکی ہے ، اس میں عشاء کے بارے میں ہے کہ تمہیں اس کے ذریعے تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس حدیث سے امامِ جلیل جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس پر استدلال کیا ہے کہ عشاء کی نماز نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے پہلے کسی نے نہیں پڑھی۔ (ت)

میں کہتا ہوں : پاك ہے وہ ذات جس سے لغزش نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں تقابل ، ہمارے اور باقی اُمتوں کے درمیان ہے۔ اس سے یہ کس طرح ثابت ہوا کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے علاوہ کسی اور نبی نے بھی نہیں پڑھی۔ اور اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ عنقریب علّامہ عیشی کا جو قول آرہا ہے کہ پچھلی عشاء سب سے پہلے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے پڑھی ہے ، اس کے ذیل میں علّامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ اس قول کا معارضہ کیا گیا ہے اس روایت سے جو مسند کی شرح میں ہے (یہ شرح امام رافعی شافعی کی ہے) کہ عشاء یونس علیہ السلام کے لئے تھی اھ۔ پھر علّامہ زرقانی نے اس پر استدراك کرتے ہوئے کہا ہے : “ لیکن طحاوی کی خبر (یعنی عیشی کے اثر) کی تائید کرتی ہے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث۔ (ت)

اقول :  لیت شعری ، من این جاء التأیید ،  و لاتعرض فیہ بذکر الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام؟ قال :  فقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، فضلتم بھا ، یعارض روایۃ ان العشاء لیونس علیہ الصلاۃ والسلام [4]۔

اقول :  انما قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فضلتم بھا علی سائر الامم ، وای تعارض بین النفی عنھم والثبوت لبعض الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام۔

ومنھا۶  قال الامام السیوطی فی الباب المزبور اخرج البخاری عن ابی موسٰی الاشعری رضی الله تعالٰی عنہ ، قال :  اعتم النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لیلۃ بالعشاء حتی ابھار اللیل ، ثم خرج فصلی ، فلما قضی صلاتہ قال لمن حضرہ ، ابشروا من نعمۃ الله علیکم انہ لیس احد من الناس یصلی ھذہ الساعۃ غیرکم۔ اوقال ماصلی ھذہ الساعۃ احد غیرکم[5] ۔ اھ قلت :  واخرجہ مسلم ایضا [6]۔

میں کہتا ہوں کاش میری سمجھ میں آسکے کہ تائید کس طرح کرتی ہے جبکہ حدیثِ معاذ میں انبیاء کا سِرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ زرقانی نے مزید کہا ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمانا کہ اس کے ذریعے سے تم کو فضیلت دی گئی ہے ، معارض ہے اس روایت سے کہ عشاء یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام کیلئے تھی۔ (ت)

میں کہتا ہوں : نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے تو یہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے تم کو باقی امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اگر باقی اُمتوں کیلئے یہ نماز ثابت نہ ہو (جیسا کہ حدیثِ معاذ کا تقاضا ہے) اور بعض انبیاء کیلئے ثابت ہو (جیسا کہ شرح مسند میں ہے) تو اس میں کیا تعارض ہے؟ (ت)اور ان میں سے ہے کہ امام سیوطی نے اسی باب مذکور میں کہا ہے کہ بخاری نے ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے کہ ایك رات نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ



[1]   الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۰۴

[2]   الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بمجموع الصلوات الخمس مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۰۴

[3]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن