30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طبرانی معجم اوسط ميں ابونضرہ سے ، وہ ابو سعيد خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روايت کرتے ہيں کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسفر ميں دو۲ نمازوں کو جمع کيا کرتے تھے۔ (ت)
مالك کو علی ابن حسين ابن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے يہ بات پہنچی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب دن کو سفر کرنا چاہتے تھے تو ظہر وعصر کو جمع کرليتے تھے اور جب رات کو سفر کرنا چاہتے تھے تو مغرب وعشاء کو جمع کرليتے تھے۔ (ت)
ولہذا سيدنا امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمؤطا شريف ميں حديث پنجم روايت کرکے فرماتے ہيں :
بھذا ناخذ ، والجمع بين الصلاتين ان تؤخر الاولٰی منھما فتصلی فی اٰخر وقتھا ، وتعجل الثانيۃ فتصلی فی اول وقتھا ، وتعجل الثانيۃ فتصلی فی اول وقتھا[1]۔
ہم اسی کو اختيار کرتے ہيں اور جمع بين الصلاتين کا طريقہ يہ ہے کہ پہلی کو مؤخر کرکے آخر وقت ميں پڑھا جائے اور دوسری کو جلدی کرکے اول وقت ميں ۔ (ت)
يعنی جو اس حديث ميں آياکہ سےيد عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسفر تبوك ميں ظہر وعصر جمع فرماتے ہم اسی کو اختيار کرتے ہيں اور جمع کے معنی جمع صوری ہيں ۔ ملّاجی تو ايك ہوشيار ان احاديث اور ان کے امثال کو محتمل وبے سُود سمجھ کر خود بھی زبان پر نہ لائے اور اغوائے عوام کےلئے يوں گول اور پردہ کہہ گئے ف کہ جمع بين الصلاتين فی سفر صحح اور ثابت ہے رسول الله سے بروايت جماعت عظيمہ کے صحابہ کبار سے۔
پھر پندرہ ۱۵ صحابہ کرام کے اسمائے طيبہ گناکر خود ہی کہا لاکن مجموعہ روايات ميں بعض ايسی ہيں کہ اُن ميں فقط جمع کرنا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا دو نمازوں کو بےان کيا ہے کيفيت جمع کی بيان نہيں کی پس حنفی لوگ اُن حديثوں ميں يہ تاويل کرتے ہيں کہ مراد اس سے جمع صوری ہے اسی لئے وہ حديثيں جن ميں تاويل کو مخالف کی دخل نہيں ذکر کرتے ہيں تو مصنفين بافہم اُن حديثوں مجمل الکيفيۃ کو بھی انہيں احاديث مبينۃ الکيفيۃ پر محمول سمجھیں اھ ملخصًا۔
اقول : بالفرض اگر جمع صوری ثابت نہ ہوتی تاہم محتمل تھی اور احتمال قاطع استدلال نہ کہ جب آفتاب کی طرح روشن دلیلوں سے جمع صوری کا احاديثِ صحيحہ سے ثبوت ظاہر تو اب براہِ تلبيس پندرہ۱۵ صحابہ کی روايت سے اپنے مطلب کا ثبوت صحيح بتانا اور جابجا عوام کو دہشت دلانے کےلئے کہيں چودہ کہيں پندرہ سُنانا کيا مقتضائے مُلّائيت ہے اب تو مُلّاجی کی تحرير خود اُن پر بازگشتی تير ہوئی کہ جب احاديث صحيحہ صريحہ سے جمع صوری ثابت تو منصفين بافہم اُن حديثوں مجمل الکيفيۃ کو بھی انہيں احاديث مبينۃ الکيفيۃ پر محمول سمجھيں ، رہے وہ صحابہ جن کی روايات اپنے زعم ميں صريح سمجھ کر لائے اور نص مفسر ناقابل تاويل کہتے ناظرين نقاد کا خوف نہ لائے وہ صرف چار ہيں دو جمع تقديم دو جمع تاخير ميں ، اُن روايات کا حال بھی عنقريب اِن شاء الله القريب المجيب کھلاجاتا ہے اُس وقت ظاہر ہوگا کہ دعوٰی کردينا آسان ہے مگر ثبوت ديتي تين ہاتھ پيراتا ہے ولله الحجۃ الساميہ۔
فصل دوم ابطال دلائل جمع تقدیم:
واضح ہوکہ جمع تقديم غايت درجہ ضعف وسقوط ميں ہے حتی کہ بہت علمائے شافعيہ ومالکيہ تك معترف ہيں کہ اُس کے باب ميں کوئی حديث صحيح نہ ہوئی مگر مُلّاجی اپنی مُلّائیت کے بھروسے بيڑا اٹھا کر چلے ہيں کہ اُسے احاديث صحيحہ صريحہ مفسرہ قاطعہ سے ثابت کر دکھائيں گے ؎
چلاتو ہے وہ بت سيمتن شب وعدہ
اگر حجاب نہ روکے حيانہ ياد آئے
جمع تقديم وتاخير دونوں کی نسبت حضرت کے يہی دعوے ہيں ، ابھی سُن چکے کہ وہ حديثيں جن ميں تاويل کو مخالف کی دخل نہيں
عـــہ صلی الله تعالٰی عليہ وعلٰی الہٖ واصحابہٖ وبارك وسلم ۱۲منہ ، ف معيارالحق ص ۳۶۶
پھر بعد ذکرِ احاديث ف۱ فرمايا يہ ہيں دلائل ہمارے جواز جمع پر جن ميں کسی طرح عذر اور تاويل اور جرح اور قدح کو دخل نہيں ۔ آخر کتاب ميں فرمايا ف۲ : نصوص قاطعہ تاويل۔ اس سے اوپر لکھا : احاديث ف۳ صحاح جو جمع بين الصلاتين پر قطعًا اور يقينا دلالت کرتی ہيں ۔
بہت اچھا ہم بھی مشتاق ہيں مگر بے حاصل ؎
بہت شور سُنتے تھے پہلو ميں دل کا
جو چپراتو اِك قطرہ خُوں نہ نکلا
حضرت بکمال عرقريزی دو۲ حديثيں تلاش کرکے لائے وہ بھی ثمرہ نظر شريف نہيں بلکہ مقلدين شافعيہ کی تقليد جامد سے۔
حديث اوّل : بعض طرقِ حديث سيدنا معاذ ابن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاُس جناب سے روايت صحيحہ معروفہ مشہورہ مرويہ کبار ائمہ تو وہ تھی جو ان احاديث مجملہ سے حديث چہارم ميں گزری جس ميں سوا جمع کے کوئی کيفيت مخصوصہ مذکور نہ تھی جماہےر ائمہ وحفّاظ نے اسے يوں ہی روايت کيا۔
رواہ عن ابی الزبير عن ابی الطفيل عن معاذ جماعۃ من الحفاظ ، منھم سفيٰن الثوری وقرۃ بن خالد ومالك بن انس واٰخرون ، اماسفيٰن فعند ابن ماجۃ ، واماقرۃ فعنہ خالد بن الحارث عند مسلم ، وعبدالرحمٰن بن مھدی عندالطحاوی ، وامامالك فعنہ الشافعی فی مسندہ ، وابن وھب عندالطحاوی ، وابوالقاسم عندالنسائی ، وابوعلی الحنفی عندالدارمی ، وعن الدارمی ، مسلم فی صحيحہ۔
اس حديث کو ابوالزبير سے ، اس نے ابوالطفيل سے ، اس نے معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ، حفّاظ کی ايك جماعت نے روايت کيا ہے ، جن ميں سفيان ثوری ، قرۃ ابن خالد ، مالك بن انس اور ديگر محدثين شامل ہيں ۔ سفيان ثوری کی روايت ابن ماجہ کے ہاں ہے۔ قرۃ ابن خالد سے خالد ابن حارث نے جو روايت لی ہے وہ مسلم ميں ہے ، اور جو عبدالرحمان ابن مہدی نے لی ہے وہ طحاوی ميں ہے۔ مالك سے جو روايت شافعی نے لی ہے وہ ان کے مسند ميں ہے۔ جو ابنِ وہب نے لی ہے وہ طحاوی کے ہاں ہے۔ جو ابوالقاسم نے لی ہے وہ نسائی کے پاس ہے۔ جو ابوعلی حنفی نے لی ہے وہ دارمی کے ہاں ہے اور دارمی سے مسلم نے اپنی صحيح ميں ذکر کی ہے۔ (ت)
يہی اہلِ علم کے نزديك معروف ہے مگر ايك روايت غريبہ شاذہ بطريق ليث بن سعد عن يزيد بن ابی جيب عن ابی الطفيل يوں آئی : ان النبی صلی الله تعالٰی عليہ وسلم کان فی غزوۃ تبوک ، اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظھر حتی يجمعھا الی العصر فيصليھما جميعا ، واذا ارتحل بعدزيغ الشمس صلی الظھر والعصر جميعا ثم صار ، وکان اذاارتحل بعد المغرب عجل العشاء فصلاھا مع المغرب[2]۔ رواہ احمد وابو داؤد والترمذی وابن حبان والحاکم والدارقطنی والبیھقی۔ زاد الترمذی بعد قولہ : اذا ارتحل بعدزيغ الشمس ، عجل العصر الی الظھر وصلی الظھر والعصر جميعا۔ الحديث [3]
ف۱ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع