30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما ، کان النبی صلی الله تعالٰی عليہ وسلم يجمع بين المغرب والعشاء اذاجدبہ السيير [1]۔ وفی لفظ مسلم والنسائی من طريق سالم ، رأيت رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم اذااعجلہ السير فی السفر يؤخر صلاۃ المغرب حتی يجمع بينھا وبين صلاۃ العشاء[2]۔
ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاروايت کرتے ہيں کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو جب چلنے ميں تيزی ہوتی تھی تو آپ مغرب وعشاء کو جمع کرتے تھے۔ اور مسلم کی ايك اور روايت اور نسائی کی بطريقہ سالم روايت کے الفاظ يوں ہں کہ ميں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ديکھا کہ جب آپ کو سفر کے دوران چلنے ميں جلدی ہوتی تو مغرب کی نماز کو اتنا مؤخر کرديتے تھے کہ عشا کے ساتھ ملاليتے تھے۔ (ت)
يہ معنی مجمل بروايات سالم ونافع مستفيض ہيں ۔
فرواہ البخاری عن ابی اليمان۱ ، والنسائی
چنانچہ بخاری ابواليمان سے ، نسائی بقيہ اور
عن بقيۃ۲ وعثمٰن۳ ، کلھم عن شعيب بن ابی حمزہ۔ ومسلم عن ابن وھب عن يونس۴۔ والبخاری عن۵ علی بن المدينی ، ومسلم عن يحيٰی۶ بن يحيٰی وقتيبۃ۷ بن سعيد وابی۸ بکر بن ابی شيبۃ وعمر۹ والناقد ، والدارمی عن محمد۱۰ بن يوسف ، والنسائی عن محمد بن منصور ، والطحاوی عن الحمانی۱۲ ، ثمانيتھم عن سفيٰن بن عيینۃ ، ثلثتھم اعنی شعيبا ويونس وسفيٰن عن الزھری عن سالم ، ومسلم عن۱۳ يحيٰی بن يحيٰی ، والنسائی عن قتيبۃ۱۴ ، والطحاوی عن ابن۱۵ وھب ، کلھم عن مالک ، والنسائی بطريق عبدالرزاق ثنا معمر عن موسی۱۶ بن عقبۃ ، والطحاوی۱۷ عن ليث ، ۱۱ والبھيقی فی الخلافيات من طريق يزيد بن ھارون عن يحيٰی۱۸ بن سعيد ، اربعتھم عن نافع ، کلاھما عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما۔
عثمان سے ، يہ سب (ابواليمان ، بقيہ ، عثمان) شعيب ابن ابی حمزہ سے روايت کرتے ہيں ۔ اور مسلم ، ابن وہب سے ، وہ يونس سے روايت کرتے ہيں ۔ اور بخاری ، علی ابن مدينی سے۔ اور مسلم ، يحيٰی ابن يحيٰی ، قتيبہ ابن سعيد ، ابوبکر ابن ابی شيبہ اور عمرو الناقد سے۔ اور دارمی ، محمد ابن يوسف سے۔ اور نسائی ، محمد ابن منصور سے۔ اور طحاوی ، حمانی سے۔ يہ آٹھويں (يعنی علی(۱) ، يحيی(۲) ، قتيبہ(۳) ، ابوبکر(۴) ، عمرو(۵) ، ابن يوسف(۶) ، ابن منصور(۷) ، حمانی(۸) سفيان ابن عيينہ سے روايت کرتے ہيں ۔ پھر تينوں (سلسلوں کے تين آخری راوی) يعنی شعيب ، يونس اور سفيان ، زہری کے واسطے سے ، سالم سے راوی ہيں ۔ اور مسلم ، يحيٰی ابن يحيٰی سے۔ اور نسائی ، قتيبہ سے۔ اور طحاوی ، ابن وہب سے۔ تينوں مالك سے روايت کرتے ہیں ۔ اور نسائی ، بطريقہ عبدالرزاق ، وہ معمر سے ، وہ موسٰی ابن عقبہ سے روايت کرتے ہیں اور طحاوی ليث سے روايت کرتے ہیں ۔ اور بيہقی خلافيت میں بطريقہ يزيد ابن ہارون ، يحیٰی ابن سعيد سے روايت کرتے ہیں ۔ چاروں (آخری راوی يعني مالک۱ ، موسٰی۲ ، ليث۳ ، يحيٰی۴ نافع سے راوی ہیں سالم اور نافع) دونوں عبدالله ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے حديث بيان کرتے ہیں ۔ (ت)
حديث۲ معلَّق بخاری :
ووصلہ البيھقی عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما ، کان رسول الله صلی الله تعالٰی علی وسلم يجمع بين صلاۃ الظھر والعصر اذاکان علی ظھر سير ، بيہقی نے اس کو ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے موصولًا ذکر کيا ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب چلنے والے ہوتے تھے تو ظہر اور عصر کی نماز یں جمع كر ليتے تھے۔
ويجمع بين المغرب والعشاء[3]۔ وھو عند مسلم واٰخرين بذکر غزوۃ تبوک ، ولابن ماجۃ من طريق ابرٰھيم بن اسمٰعيل عن عبدالکريم عن مجاھد وسعيد بن جبير وعطاء بن ابی رباح وطاؤس ، اخبروہ عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما انہ اخبرھم ان رسول الله صلی الله تعالٰی عليہ وسلم کان يجمع بين المغرب والعشاء فی السفر من غيران يعجلہ شیئ ولايطلبہ عدو ولايخاف شيئا [4]۔
قلت : ابرٰھيم ھذا ، ھو ابن اسمٰعيل ابن مجمع الانصاری ، ضعيف۔ وعبدالکريم ، ان لم يکن ابن مالك الجزری ، فابن ابی المخارق ، وھو اضعف واضعف۔ والمعروف حديثہ فی الجمع بالمدينۃ۔ رواہ الشيخان وجماعۃ ، کماقدمناہ بطرقھا والفاظھا عماقريب۔
اسی طرح مغرب وعشاء بھی جمع کرليتے تھے يہ روايت مسلم اور ديگر محدثين کے نزديك غزوہ تبوك کے تذکرے سے متعلق ہے۔ اور ابن ماجہ بطريقہ ابراہيم بن اسمٰعيل راوی ہیں ۔ کہ عبدالکريم کو مجاہد ، سعيد ابن جبير ، عطاء ابن ابی رباح اور طاؤس نے خبر دی ہے کہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ان کو بتايا ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسفر ميں مغرب عشاء جمع کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع