30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں ، کہا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہ میں نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اکٹھی آٹھ رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور اکٹھی سات رکعتیں بھی۔ اس حدیث کا راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا “ اے ابوالشعثاء ! میرا خیال ہے کہ انہوں نے ظہر وعصر کو اور مغرب وعشاء کو اکٹھا پڑھا ہوگا “ ۔ ابو الشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے “ ۔ (ت)
مالك احمد ، مسلم ، ابوداؤد ترمذی نسائی طحاوی وغیرہم اُسی جناب سے بطرق شتی والفاظ عدیدہ راوی :
وھذا حدیث مسلم بطریق زھیرنا ابوالزبیر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الظھر والعصر جمیعا بالمدینۃ فی غیر خوف ولاسفر ، قال ابوالزبیر : فسألت سعیدا لم فعل ذلک؟ فقال : سألت ابن عباس کماسألتنی ، فقال : اراد ان لایحرج احد من اُمتہ [1]۔
اور یہ حدیث مسلم کی بواسطہ ابو الزبیر ہے کہ ہم سے بیان کیا سعید ابن جبیر نے کہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بغیر کسی خوف اور سفر کے مدینہ میں ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں ، ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سعید سے پُوچھا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اس طرح کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے اسی طرح میں نے ابن عباس سے پُوچھا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول الله چاہتے تھے کہ آپ کی اُمت پر کوئی تنگی نہ ہو۔ (ت)
وفی اخری لہ وللترمذی بطریق جیب ابن ابی ثابت عن سعید بن جبیر عن ابن عباس ، قال : جمع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بین الظھر والعصر ، وبین المغرب والعشاء بالمدینۃ فی غیر خوف ولامطر [2]۔ وللطحاوی عن صالح مولی التوأمہ عن ابن عباس ، فی غیر سفر ولامطر [3]۔ وفی لفظ للنسائی اخبرنا قتیبۃ ثنا سفیٰن عن عمر وعن جابر بن زید عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما قال : صلیت مع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالمدینۃ ، ثمانیا جمیعا وسبعا جمیعا ، اخر الظھر وعجل العصر ، واخر المغرب وعجل العشاء[4]۔ وفی لفظ لہ عن عمروبن ھرم عن جابر بن زید عن ابن عباس انہ صلی بالبصرۃ ، الاولٰی والعصر ، لیس بینھما شیئ ، والمغرب والعشاء ، لیس بینھما شیئ ، فعل ذلك من شغل۔ و زعم ابن عباس انہ صلی مع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالمدینۃ الاولی والعصر ، ثمان سجدات لیس بینھما شیئ[5]۔ ولمسلم بطریق الزبیر بن الخرّیت عن عبدالله بن شقیق ان التاخیر کان لاجل خطبۃ خطبھا[6]۔
ولہ بطریق عمران بن حُدیر عن عبدالله المذکور عن ابن عباس ، فی القصۃ ، قال : کنا نجمع بین الصلاتین علی عھد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم[7]۔ وللطحاوی من ھذا الوجہ ، قدکان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ربما جمع بینھما بالمدینۃ [8]۔
مسلم نے ایك اور روایت میں اور ترمذی نے بواسطہ جیب ابن ابی ثابت ، سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے فرمایا : رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بغیر کسی خوف اور بارش کے مدینہ میں ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو جمع کیا۔ (ت) اور طحاوی نے صالح مولٰی التوأمہ کے واسطے سے ابن عباس کے یہ الفاط نقل کئے ہیں “ بغیر سفر اور بارش کے “ ۔ (ت) اور نسائی کے الفاظ یوں ہیں : خبر دی ہمیں قتیبہ نے کہ حدیث بیان کی ہم سے سفیٰن نے عمرو سے ، اس نے جابر سے کہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مدینہ میں اکٹھی آٹھ رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور سات رکعتیں بھی ، آپ نے ظہر کو مؤخر کیا تھا اور عصر میں جلدی کی تھی ، اسی طرح مغرب کو مؤخر کیا تھا اور عشاء میں جلدی کی تھی۔ (ت) نسائی کی اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ عمروابن ہرم ، جابر ابن زید سے راوی ہیں کہ ابن عباس نے بصرہ میں ظہر وعصر کو اکٹھا پڑھا ، ان کے درمیان کوئی شَے حائل نہ تھی ، اور مغرب وعشاء کو اکٹھا پڑھا ان کے درمیان کوئی شیئ حائل نہ تھی۔ اس طرح انہوں نے ایك مصروفیت کی وجہ سے کیا تھا۔ ابن عباس نے کہا کہ میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بھی ظہر وعصر اکٹھی پڑھی تھیں یہ آٹھ رکعتیں تھیں اور ان دو کے درمیان اور کوئی شے نہ تھی۔ مسلم نے زبیر ابن خرّیت کے واسطہ سے عبدالله ابن شقیق سے روایت کی کہ یہ تاخیر ایك خطبہ دینے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اور مسلم نے بطریقہ عمران ابن حدیر ، عبدالله ابن شقیق سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے مذکورہ واقعے میں کہا کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں ہم دو۲ نمازوں کو جمع کیا کرتے تھے۔ اور طحاوی اسی سند سے ناقل ہیں کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بارہا دو نمازوں کو مدینہ میں اکٹھا پڑھا۔ (ت)
ان روایاتِ صحاح سے واضح کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایسی حالت میں کہ نہ خوف تھا نہ سفر نہ مرض نہ مطر محض بلاعذر خاص مدینہ طیبہ میں ظہر وعصر اور مغرب وعشا بجماعت جمع فرمائیں سفر وخطر ومطر کی نفی تو خود احادیث میں مذکور اور مرض بلکہ ہر عذر ملحی کی نفی سوق بیان سے صاف مستفاد معہذا جب نمازیں جماعت سے تھیں تو سب کا مریض ومعذور ہونا مستبعد پھر راوی حدیث عبدالله بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا اسی بناء پر صرف طول خطبہ کے سبب تاخیر مغرب واستناد بجمع مذکور انتفائے اعذار پر صریح دلیل حالانکہ مقیم کیلئے بے عذر جمع وقتی ملّاجی بھی حرام جانتے ہیں ، حدیثِ مسلم انما التفریط علی من لم یصل الصلاۃ حتی یجیئ وقت الصلاۃ الاخری [9] گناہ اس پر ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تك کہ دوسری نماز کا وقت ہوجائے۔ ت) کے جواب میں کیا ف فرمائیں گے ف۱یہ حدیث اُسی شخص کے حق میں ہے کہ بلاعذر نماز میں تاخیر کرے۔ حدیث امیرالمؤمنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان الجمع بین الصلاتین فی وقت واحد کبیرۃ من الکبائر [10] (ایك وقت میں دو۲ نمازوں کو جمع کرنا کبائر میں سے ایك کبیرہ گناہ ہے۔ ت) کے جواب میں کہہ چکے ہیں ف۲ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا جمع بین الصلاتین سے منع کرناحالتِ اقامت میں بلاعذر تھا جیسا کہ شاہد ہے اس تاویل پر اتفاق جمہور صحابہ ومن بعدہم کا اوپر عدم جواز بلاعذر کے ، تو اس حدیث ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامیں جمع فعلی مراد لینے سے چارہ نہیں اور خود ملّاجی نے امام ابنِ حجر شافعی اور اُن کے توسط سے امام قرطبی وامام الحرمین وابن المامون وابن سید الناس وغیرہم سے یہاں ارادہ جمع فعلی کی تقویت وترجیح نقل کی معہذا قطع نظر اس سے کہ روایت صحیحین میں حضرت ابن عباس کے تلامذہ وراویانِ حدیث جابر بن زید وعمروبن دینار نے ظنًا حدیث کا یہی محمل مانا قال ابن سیدالناس : وراوی الحدیث ادری بالمراد من غیرہ (ابن سیدالناس نے کہا ہے کہ حدیث کا راوی ، دوسرے شخص کی نسبت حدیث کی مراد سے زیادہ آگاہ ہوتا ہے۔ ت) روایت نسائی میں خود ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اس جمع کے جمع فعلی ہونے کی تصریح فرمادی کہ ظہر ومغرب میں دیر کی اور عصر وعشاء میں جلدی یہ خاص جمع صوری ہے اب کسی کو محل سخن نہ رہا تھا تمہارے امام شوکانی غیر مقلد نے نیل الاوطار میں کہا :
[1] الصحیح لمسلم جواز الجمع بین الصلٰوتین فی السفر مطبوعہ قدیمی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع