30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳) اقول : مُلّاجی نے اُن پندرہ۱۵ صحابیوں میں جن کی نسبت دعوٰی کیا کہ انہوں نے جمع بین الصلاتین حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کی سعد بن ابی وقاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی گِنا حالانکہ اُن کا بھی مذہب وہی منع جمع ہے ان دونوں صحابی جلیل الشان کا یہ مذہب ہونا خود امام شافعی المذہب امام ابوالعزیز یوسف بن رافع اسدی حلبی شہیر بابن شداد متوفی ۶۳۱ھ نے کتاب دلائل الاحکام میں ذکر فرمایا :
کمافی عمدۃ القاری للامام البدر العینی عن التلویح شرح الجماع الصحیح للامام علاء الدین المغلطائی عن دلائل الاحکام لابن شداد۔
جیسے کہ امام بدرالدین عینی نے تلویح سے نقل کیا جوکہ امام علاء الدین المغلطائی کی کتاب الجامع الصحیح کی شرح ہے اور انہوں نے ابن شداد کی (کتاب) دلائل الاحکام سے نقل کیا ہے۔ (ت)
تو مراد وہی جمع صوری ہوگی جیسا کہ خود اُن کے فعل سے مروی ہوا کماتقدم فی الحدیث الرابع (جیسا کہ حدیث ۴ میں گزرا۔ ت)
(۴) اقول : بہت زور شور سے جمع کے راوی حضرت عبدالله بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاگنے جاتے ہیں وسیأتی بعض روایاتہ فی الحدیث الاول والباقی فی الفصل الثالث اِن شاء الله تعالٰی (عنقریب حدیث اول کے تحت ان سے بعض مرویات کا ذکر آئےگا اور بقیہ کا ذکر فصل ثالث میں آئے گا اِن شاء الله تعالٰی۔ ت) حالانکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مغرب وعشا کو سفر میں ایك بار کے سوا کبھی جمع نہ فرمایا کماسیأتی فی اٰخر الفصل الرابع اِن شاء الله تعالٰی (جیسا کہ چوتھی فصل کے آخر میں آرہا ہے اِن شاء الله تعالٰی۔ ت) ظاہر ہے کہ وہ بار حجۃ الوداع کی شب مزدلفہ تھی تو ضرور وہی جمع صوری منظور جیسا کہ اُن کی روایاتِ صحیحہ نے واضح کردیا جس کا بسط حدیث اوّل میں گزرا۔
(۵)اقول : لُطف یہ کہ ان عبدالله بن عمر سے قصہ صفیہ بنت ابی عبید میں عشائین کا جمع جو مروی ہوا اُس کے جمع حقیقی ہونے پر بہت زور دیاجاتا ہے حالانکہ خود اُن کے صاحبزادے سالم کو اُس شب بھی اُن کے ہمراہ تھے صراحۃً فرماچکے کہ حضرت عبدالله نے مزدلفہ کے سوا کبھی جمع نہ کی جیسا کہ حدیث نسائی سے گزرا اور سالم کا اُس رات ساتھ ہونا وہیں حدیث بخاری سے ظاہر ہوچکا قلت لہ : الصلاۃ ، قال : سر[1]۔ الحدیث (میں نے ان سے نماز کے متعلق عرض کیا تو انہوں نے فرمایا : سفر جاری رکھو۔ الحدیث۔ ت) تو قطعًایقینا جمع صوری ہی مراد ہے لاجرم روایات مفسرہ نے تصریح فرمادی یہ نکتہ یاد رکھنے کا ہے کہ بعونہٖ تعالٰی بہت سے خیالات مخالفین کا علاج کافی ہوگا۔
(۶) رواۃ جمع میں حضرت عبدالله بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی ہیں کمایأتی فی الحدیث الثانی (جیسا کہ دوسری حدیث میں آرہا ہے۔ ت) اور ان کی حدیث اِن شاء الله آخر رسالہ میں آئے گی کہ دوسری نماز کا وقت آنے سے پہلی فوت ہوجاتی ہے۔
(۷) یوں ہی حضرت ابُو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُراوی جمع ہیں کمایجیئ فی الحدیث الخامس (جیسا کہ پانچویں حدیث میں آئے گا۔ ت) اور ان کی حدیث بھی بمشیۃ الله تعالٰی آنے والی ہے کہ نماز میں تفریط یہ ہے کہ دوسری کا وقت آنے تك پہلی کی تاخیر کرے افاد ھذین الامام الطحاوی فی شرح معانی الاٰثار (یہ دونوں فائدے امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں بیان کئے۔ ت)
افادہ ثالثہ : اب کہ ملّاجی نے پیٹ بھر کر رَدِ احادیث سے فراغت پائی عقل پر عنایت کی باری آئی فرماتے ہیں : ف
جمع صوری سفر میں ازراہ عقل کے بھی واہی ہے کہ جمع رخصت ہے اور جمع صوری مصیبت کہ آخر جز اور اوّل جز نماز کا پہچاننا اکثر خواص کو نہیں ممکن چہ جائے عوام۔
اقول : ملّاجی بیچارے جو شامتِ ایام سے مقاببلہ شیران حنفیہ میں آپھنسے وہ چوکڑی بھُولے ہیں کہ اپنی اجتہادی آزادی بھی یاد نہیں یاتو وہ جوش تھے کہ ابوحنیفہ وشافعی کی تقلید حرام بدعت شرك یا اب جابجا ایك ایك مقلد مالکی شافعی کے ٹھیٹ مقلد بنے ہیں رطب یا بس جہاں جو کچھ کلام کسی مقلد کامل جاتا ہے اگرچہ کیسا ہی پوچ اور ضعیف ہو الله بسم الله کہہ کر اُسے آنکھوں سے لگاتے سرپر رکھتے بے سمجھے بُوجھے ایمان لے آتے ہیں یہ اعتراض بھی حضرت نے بعض مالکیہ وشافعیہ کی تقلید جامد کے صدقہ میں پایا ہے مگر شوخ چشمی یہ کہ علمائے حنفیہ جو طرح طرح اس کی دھجیاں اُڑاچکے اُن سے ایك کان گونگا ایك بہرا کرلیا اور پھر اسی رَد شدہ بات باطل وبے ثبات کو پیش کردیا بہادری تو جب تھی کہ اُن قاہر جوابوں کے جواب دیتے پھر واہی تباہی جو چاہتے فرمالیتے خیراب بعض جوابات مع تازہ افاضات لیجئے وبالله التوفیق۔
اوّلا : الله عزوجل نے نماز خواص وعوام سب پر یکساں فرض کی اور اُس کے لئے اوقات مقرر فرمائے اور اُن کے لئے اول وآخر بتائے اور ان پر واضح وعام فہم نشان بنائے کہ اُن کا ادراك ہر خاص وعام کو آسان ہوجائے ہمارے دین میں کوئی تنگی نہ رکھی اور ہم پر کسی طرح دشواری نہ چاہی وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ ۔یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-[2](اس نے دین کے معاملہ میں تم پر تنگی نہیں فرمائی ، الله تعالٰی تم پر آسانی چاہتا ہے تنگی نہیں چاہتا۔ ت)تو ہر وقت کے اول وآخر شرعی کا پہچاننا خواص وعوام سب کو آسان خصوصًا سفر میں جہاں اُفق سامنے اور صاف میدان جو نہ سیکھے یا توجہ نہ کرے الزام اُس پر ہے نہ شرع مطہر پر ، ہاں فصل مشترك حقیقی کہ آنِ واحد وجزء لایتجزی ہے اُس کا علم بے طرق مخصوصہ انبیاء واولیاء عامہ بشر کی طاقت سے وراء ہے مگر نہ اس کے ادراك کی تکلیف نہ اس پر جمع صوری کی توقیف۔
ثانیًا اقول : اول وآخر کا پہچاننا تو شاید تم بھی فرض جانتے ہوکہ تقدیم وتاخیر بے عذر بالاجماع مبطل وحرام ہے کیا الله عزوجل نے امر محال کی تکلیف دی لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- [3] (الله تعالٰی کسی کو اس بات کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت میں نہ ہو۔ ت) فافھم۔
ثالثا اقول : تحقیق تام یہ ہے کہ اوقات متصلہ میں عامہ کے لئے پانچ حالتیں ہیں : وقتِ اوّل پر یقین ، اُس پر ظن ، دونوں میں شک ، آخر کا ظن ، اُس کا یقین ، فقہیات میں ظن ملتحق بیقین ہے اور یقین شك سے زائل نہیں ہوتا تو بین الوقتین حکمًا بھی اصلًا فاصل نہیں مسئلہ تسحر ومسئلہ صلاۃ الفجر فی آخر الوقت وغیرہما میں تصریحاتِ علما دیکھیے۔
رابعا اقول : کس نے کہا کہ جمع صوری میں وصل حقیقی بے فصل آنی لازم ہے حدیث مذکور ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبروایت صحیح بخاری وحدیث امیرالمؤمنین مولٰی علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمالکریم بروایت ابی داؤد دیکھیے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی رحمت پر نثار حضور نے عوام ہی کے ارشاد کو یہ طرز ملحوظ رکھی کہ مغرب آخر شفق میں پڑھ کر قدرے انتظار فرمایا پھر عشا پڑھی یا بین الصلاتین کھانا ملاحظہ فرمایا اور لطف الٰہی یہ کہ تمام احادیث جمع میں اگر منقول ہے تو حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فعل۔ اُس کے ساتھ اُمت کو بھی ارشاد کہ جسے ضرورت ہو ایسا ہی کرلے اسی حدیث ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامیں ہے جس میں بروایت صحیح بخاری ثابت کہ دو۲ نمازوں کے بیچ میں قدر انتظار فرمایا تو آپ کے جہل کا خود رخصت عطا فرمانے والے رؤف رحیم خبیر علیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے لحاظ کرلیا تھا مگر افسوس کہ اب بھی آپ شکایت اور رحمت کا نام معاذالله مصیبت ہے ہر عاقل جانتا ہے کہ مسافر کو باربار اُترنے چڑھنے وضو نماز کا جُداجُدا سامان کرنے سے یہ بہت آسان ہے کہ ایك بار اُترکر دفعۃً دونوں نمازوں سے فارغ ہولے اول قریب آخر پڑھے اور ایك لطیف انتظار کے بعد آکر اپنے اول میں اس کا انکار صریح مکابرہ ہے ہاں یہ کہئے کہ وقت گزار کر پڑھنے کی اجازت ملے تو اور آسانی ہے۔
اقول : دن ٹال کر گھر پہنچ کر اکٹھی پڑھ لینے کی رخصت ہو تو اور آسانی ہے اور بالکل معاف ہوجائے تو پُوری چھٹی رخصت میں آسانی درکار ہے پُوری آسانی کس نے مانی!
خامسًا : احمد بخاری مسلم ابوداؤد ونسائی طحاوی وغیرہم بطریق عمروبن دینار عن جابر بن زید حضرت عبدالله بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع