30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ : یہ ہم نے آپ کا ظلم وتعصب ثابت کرنے کو آپ کی طرح کلام کیا ورنہ ہمارے نزدیك نہ تعلیق مطلقًا مردود نہ یونس ساقط نہ وہم وخطا جب تك فاحش نہ ہوں موجب رد نہ یہ حدیث بخاری اصلًا تمہارے موافق بلکہ صراحۃً ہمارے مؤید وبالله التوفیق چند اوہام یا کُچھ خطائیں محدّث سے صادر ہونا نہ اُسے ضعیف کردیتا ہے نہ اُس کی حدیث کو مردود نہ وہ کہتے ہیں جو بالکل پاك صاف گزر گئے ہیں ، یہ ہیں تمام محدثین کے امام الائمہ سفیٰن بن عینیہ جنہوں نے زہری سے روایت میں بیس۲۰ سے زیادہ حدیثوں میں خطا کی امام احمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں مجھ میں اور علی بن مدینی میں مذاکرہ ہوا کہ زہری سے روایت میں ثابت ترکون ہے ، علی نے کہا سفیٰن بن عینیہ ، میں نے کہا امام مالك کہ ان کی خطا سفیٰن کی خطاؤں سے کم ہے قریب بیس۲۰ حدیثوں کے ہیں جن میں سفیٰن نے خطا کی پھر میں نے اٹھارہ گِنا دیں اور اُن سے کہا آپ مالك کی خطائیں بتائیں وہ دوتین حدیثیں لائے پھر جو میں نے خیال کیا تو سفیٰن نے بیس۲۰ سے زیادہ حدیثوں میں خطاکی ہے ٢[1] ذکرہ فی المیزان (اسے میزان میں ذکر کیاگیا ہے۔ ت) بااینہمہ امام سفیٰن کے ثقہ ثبت حجت ہونے پر علمائے اُمت کا اجماع ہے۔
لطیفہ ۹ : مُلّاجی کی یہ ساری کارگزاریاں حیاداریاں حدیث صحیح عبدالله بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے متعلق تھیں حدیث ام المؤمنین صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَامروی امام طحاوی ونیز امام احمد وابن ابی شیبہ استاذان بخاری ومسلم کے رَد کو پھر وہی معمولی شگوفہ چھوڑا ف کہ ایك راوی اس کا مغیرہ بن زیادہ موصلی ہے اور یہ مجروح ہے کہ وہمی تھا قالہ الحافظ التقریب۔
اقول اوّلا : تقریب میں صدوق کہاتھا وہ صندوق میں رہا۔
ثانیا : وہی اپنی وہمی نزاکت کہ لہ اوھام کو وہمی کہنا سمجھ لیا۔
ثالثا : وہی صحیحین سے پُرانی عداوت تقریب دُور نہیں دیکھئے تو کتنے رجال عـــہ بخاری ومسلم کو یہی صدوق لہ
عـــہ : صدوق یھم وصدوق ربماوھم کی بکثرت مثالیں اوپر گزرچکیں مگر باتباع لفظ خاص امثلہ سُنیے احمد بن بشیر ، حسن بن خلف ، خالد بن یزید بن زیاد ، (باقی برصفحہ ائندہ)
اوھام (سچّا ہے ، اس کے اوہام ہیں ت) کہا ہے۔
رابعا : مغیرہ رجال سنن اربعہ سے ہے امام ابن معین وامام نسائی دونوں صاحبوں نے بآں تشدد شدید فرمایا : لیس بہ باس (اس میں کوئی بُرائی نہیں ) زاد یحيٰی لہ حدیث واحد منکر (اُس کی صرف ایك حدیث منکر ہے) لاجرم وکیع نے ثقہ ، ابوداؤد نے صالح ، ابن عدی نے عندی لاباس بہ [2] (میرے نزدیك اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ ت) کہا تو اس کی حدیث حسن ہونے میں کلام نہیں اگرچہ درجہ صحاح پر بالغ نہ ہو جس کے سبب نسائی نے لیس بالقوی (اُس درجے کا قوی نہیں ہے۔ ت) ابو احمد حاکم نے لیس بمتین عندھم [3] (اس درجے کا متین نہیں ہے ان کے نزدیک۔ ت) کہا لا انہ لیس بقوی لیس بمتین وشتان مابین العبارتین (نہ یہ کہ سرے سے قوی اور متین نہیں ہے ، ان دو عبارتوں میں بہت فرق ہے۔ ت) حافظ نے ثقہ سے درجہ صدوق میں رکھا اس قسم کے رجال اسانید صحیحین میں صدہا ہیں ۔
لطیفہ ۱۰ : حدیث مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمالکریم مروی سنن ابی داؤد کے رد کو طرفہ تماشا کیا مسند ابی داؤد میں یوں تھا :
قال اخبرنی عبدالله بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب عن ابیہ عن جدہ ان علیا کان اذاسافر الحدیث[4] ۔
جس کا صاف صریح حاصل یہ تھا کہ عبدالله بن محمد بن عمر بن علی اپنے والد محمد سے راوی ہیں اور وہ ان کے دادا یعنی اپنے والد عمر سے کہ ان کے والد ماجد مولٰی علی نے جمع صوری خود بھی کی اور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بھی روایت فرمائی۔ ابیہ اور جدّہ دونوں ضمیریں عبدالله کی طرف تھیں حضرت نے بزور زبان ایك ضمیر عبدالله دوسری محمد کی طرف قرار دے کر یہ معنی ٹھہرائے [5]کہ عبدالله روایت کرتے ہیں اپنے باپ محمد سے اور وہ محمد اپنے دادا علی سے۔ اور اب اس پر اعتراض جڑ دیا کہ محمد کو اپنے دادا علی سے ملاقات نہیں تو مرسل ہُوئی اور مرسل حجت نہیں ۔ قطع نظر اس سے کہ مرسل ہمارے اور جمہور ائمہ کے نزدیك حجت ہے ایمان سے کہنا کہ ان ڈھٹائیوں سے صحیح وثابت حدیثوں کو رَد کرنا کون سی دیانت ہے ، میں کہتا ہوں آپ نے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا حدیثوں کو رَد کرنا کون سی دیانت ہے ، میں کہتا ہوں آپ نے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا حیا ودیانت کی ایك ادنٰی جھلك میں بھی باطل وموضوع ہوئی جاتی تھی اور بات بھی مدلل ہوتی کہ ضمیر اقرب کی طرف پھرتی ہے اور ابیہ سے اقرب ابوطالب اور جدّہ سے اقرب ابیہ تو معنی یوں کہے ہوتے کہ عبدالله نے روایت کی ابوطالب کے باپ حضرت عبدالمطلب سے اور عبدالمطلب نے اپنے دادا عبد مناف سے کہ مولا علی نے جمع صوری کی ، اب ارسال بھی دیکھئے کتنا بڑھ گیا کہ مولا علی کے پرپوتے مولا علی کے دادا سے روایت کریں اور حدیث صراحۃً موضوع بھی ہوگئی کہ کہاں عبدالمطلب وعبد مناف اور کہاں مولٰی علی سے روایت حدیث مفید احناف ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
رباح بن ابی معروف ، ربیع بن انس ورمی بالتشیع ، ربیع بن یحيٰی ، ربیعہ بن عثمان ، زکریا بن یحيٰی بن عمر ، سعید بن زید بن درھم ، سعید بن عبدالرحمٰن جمحی ، شجاع بن الولید ، مسلمہ بن علقمہ ، مصعب بن المقدام ، معاویہ بن صالح ، معاویہ بن ھشام ، ھشام بن حجیر ، ھشام بن سعد ورمی بالتشیع اور ان کے سوا اور کہ سب صدوق لہ اوھام ہیں احمد بن ابی الطیب وغیرہ صدوق لہ اغلاط ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)
مسلمانو! دیکھا یہ عمل بالحدیث کا جھُوٹا دعوٰی کرنے والے جب صحیح حدیثوں کے رد کرنے پر آتے ہیں تو ایسی ایسی بددیانتیوں بے غیرتیوں بیباکیوں چالاکیوں سے صحیح بخاری کو بھی پسِ پشت ڈال کر ایك ہانك بولتے ہیں کہ سب واہیات اور مردود[6] ہیں انّالله وانّا الیہ راجعون۔
افادہ ثانیہ : احادیث وطرق پر نظرِ انصاف فرمائیے تو ارادہ جمع صوری پر متعدد قرائن پائیے مثلا :
(۱) یہ کہ احادیث جمع بین الصلاتین کے راویوں سے حضرت عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہیں کما سیأتی فی الحدیث التاسع من الافادۃ الرابعۃ (جیسا کہ افادہ رابعہ کی نویں حدیث میں آرہا ہے۔ ت) حالانکہ یہی عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ انہوں نے عرفات ومزدلفہ کے سوا کبھی نہ دیکھا کہ حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دو نمازیں جمع فرمائی ہوں کماسیأتی تحقیقہ فی الفصل الرابع ان شاء الله تعالٰی (اس کی تحقیق اِن شاء الله تعالٰی چوتھی فصل میں آئے گی۔ ت) تو ضرور ہے کہ روایت جمع سے جمع صوری مراد ہو۔
(۲) اقول : خود حضرت عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بھی جمع کرنا مروی ہوا حالانکہ ان کا مذہب معلوم کہ جمع حقیقی کو منسك حج کے سوا ناجائز جانتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع