30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ سب ثقہ یغرب ہیں ۔ احمد بن صباح حکام بن مسلم وغیرھما ثقۃ لہ غرائب خصوصا ازھر بن جمیل ، خالدبن قیس ، ابراھیم بن اسحٰق وغیرھم کہ صدوق یغرب یہ تینوں بشربن بکر سے بھی گئے درجے کے ہوئے کہ ثقہ سے اترکر طرف صدوق ہیں ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)
لطیفہ ۴ : طریق ابن جابر سے سنن نسائی کی حدیث کو ولید بن قاسم سے رَد کیا کہ روایت میں اُس سے خطا ہوتی تھی کہا تقریب میں صدوق یخطی۔
اقول اولا : مسلمانو! اس تحریفِ شدید کو دیکھنا اسنادِ نسائی میں یہاں نام ولید غیر منسوب واقع تھا کہ اخبرنا محمود بن خالد ثنا الولید ثنا ابن جابر ثنا نافع الحدیث [1]۔ ملّا جی کو چالاکی کا موقع ملا کہ تقریب میں اسی طبقہ کا ایك شخص رواۃ نسائی سے کہ نام کا ولید اور قدرے متکلم فیہ ہے چھانٹ کر اپنے دل سے ولید بن قاسم تراش لیا حالانکہ یہ ولید بن قاسم نہیں ولید بن مسلم ہیں رجال صحیح مسلم وائمہ ثقات وحفاظ اعلام سے اسی تقریب میں ان کے ثقہ ہونے کی شہادت موجود ، ہاں تدلیس کرتے ہیں مگر بحمدالله اُس کا احتمال یہاں مفقود کہ وہ صراحۃً حدثنا ابن جابر قال حدثنی نافع فرمارہے ہیں ۔ میزان میں ہے :
الولیدبن مسلم ابوالعباس الدمشقی ، احد الاعلام وعالم اھل الشام۔ لہ مصنفات حسنۃ ، قال احمد : مارأیت فی الشامیين اعقل منہ۔ وقال ابن المدینی : عندہ علم کثیر۔ قال ابو مسھر : الولید مدلس ، قلت : اذاقال الولید : عن ابن جریج اوعن الاوزاعی ، فلیس بمعتمد لانہ یدلس عن کذابین ، فاذاقال : حدثنا فھو حجۃ [2] اھ ملخصًا۔
ولید ابن مسلم ابوالعباس دمشقی۔ بلند مرتبہ لوگوں میں سے ایک ، شام کا عالم ، اس کی تصنیفات عمدہ ہیں احمد نے کہا ہے کہ میں نے شامیوں میں اس سے زیادہ عقل مند آدمی نہیں دیکھا۔ ابن مدینی نے کہا کہ اس کے پاس بہت علم ہے۔ ابومسہر نے کہا ہے کہ ولید مدلّس ہے۔ میں نے کہا : جب ولید عن ابن جریج یا عن الاوزاعی کہے تو قابلِ اعتماد نہیں ہے لیکن جب حدثنا کہے تو مستند ہے اھ ملخصًا۔ (ت)
مُلّاجی! ؎
دربساط نکتہ داناں خود فروشی شرط نیست
یا سخن دانستہ گو اے مرد غافل یاخموش
(نکتہ دانوں کی مجلس میں اپنے آپ کو بیچ دینا ضروری نہیں ہے اے مردِ غافل! یا تو سوچ سمجھ کر بات کریاخاموش رہ )
تم نے جاناکہ آپ کے کید پر کوئی آگاہ نہ ہوگا ذرا بتائیے تاکہ آپ نے ولید کا ولید بن قاسم کس دلیل سے متعین کرلیا ، کیا اس طبقہ میں اس نام کا رواۃ نسائی میں کوئی اور نہ تھا اگر اب عاجز آکر ہم سے پوچھنا ہوکہ تم نے ولیدبن مسلم کیسے جانا اوّل تو بقانون مناظرہ جب آپ غاصب منصب ہیں ہم سے سوال کا محل نہیں اور استفادۃً پُوچھو تو پہلے اپنی جزاف کا صاف صاف اعتراف کرو پھر شاگردی کیجئے تو ایك یہی کیا بعونہٖ تعالٰی بہت کچھ سکھادیں وہ قواعد بتادیں جس سے اسمائے مشترکہ میں اکثر جگہ تعین نکال سکو۔
ثانیا : بفرض غلط ابن قاسم ہی سہی پھر وہ بھی کب مستحقِ رَد ہیں امام احمد نے اُن کی توثیق فرمائی ، اُن سے روایت کی ، محدثین کو حکم دیا کہ اُن سے حدیث لکھو۔ ابنِ عدی نے کہا : اذاروی عن ثقۃ فلاباس بہ [3](وہ جب کسی ثقہ سے روایت کریں تو اُن میں کوئی عیب نہیں ) اور ابن جابر کا ثقہ ہونا خود ظاہر۔
ثالثا : ذرا رواۃ صحیح بخاری ومسلم پر نظر ڈالے ہُوئے کہ اُن میں کتنوں عـــہ کی نسبت تقریب میں یہی صدوق یخطئ بلکہ اس سے زائد کہا ہے کیا قسم کھائے بیٹھے ہوکہ صحیحین کا رَد ہی کردوگے!
عــہ : مثلًا اسمٰعیل بن مجالد ، اشھل بن حاتم ، بشربن عبیس ، حارت بن عبید ، حبیب بن ابی حبیب ، حجاج بن ابی زینب ، حسان بن ابرھیم ، حسان بن حسان بصری ، حسان بن عبدالله کندی ، حسن بن بشربن سلم ، حسن بن ذکوان ورمی بالقدر ، خالد بن خداش ، خالد بن عبدالرحمٰن السلمی ، شریك بن عبدالله بن ابی بر ، عبدالرحمٰن بن عبدالله بن دینار ، عبدالمجیدبن عبدالعزیز ، مسکین بن بکیر ، معقل بن عبیدالله وغیرھم ان سب پر وہی حکم صدوق یخطئ لگایا ہے خلیفۃ بن خیاط ، عبدالله بن عمر نمیری ، عبدالرحمن بن حرملہ اسلمی ، عبدالرحمن بن عبدالله بن عبید ، یحيٰی بن ابی اسحٰق حضرمی وغیرھم صدوق ربما اخطأ ہیں ، اب زیادہ کی بعض مثالیں لیجئے حجاج بن ارطاۃ صدوق کثیر الخطاء والتدلیس ، شریك بن عبدالله نخعی صدوق یخطئ کثیرا تغیر حفظہ ، صالح بن رستم المزنی صدوق کثیرالخطاء ، عبدالله بن صالح صدوق کثیرالغلط ثبت فی کتابہ وکانت فیہ غفلۃ ، فلیح بن سلیمان صدوق کثیرالخطاء ، مطرالوراق صدوق کثیرالخطاء وحدیثہ عن عطاء ضعیف ، نعیم بن حماد صدوق یخطئ کثیرا ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
رابعًا : صحیح بخاری میں حسان بن حسان بصری سے روایت کی تقریب میں انہیں صدوق یخطئ [4] پھر حسان بن حسان واسطی کی نسبت لکھا خلطہ ابن مندۃ بالذی قبل فوھم ، وھذا ضعیف [5](ابن مندہ نے اسے پہلے کے ساتھ ملادیا ہے یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ یہ ضعیف ہے۔ ت) دیکھو صاف بتادیا کہ جسے صدوق یخطی کہا وہ ضعیف نہیں ، مُلّاجی اپنی جہالت سے مردود واہیات گارہے ہیں ۔
لطیفہ ۵ : حدیث صحیح نسائی وطحاوی وعیسٰی بن ابان بطریق عطاف عن نافع کو عطاف سے معلول کیا ف کہ وہ وہمی ہے کہا تقریب میں صدوق یھم۔
اقول اوّلا : عطاف کو امام احمد وامام ابن معین نے ثقہ کہا وکفی بھما قدوۃ میزان میں ان کی نسبت کوئی جرح مفسّر منقول نہیں ۔
ثانیًا : کسی سے پڑھو کہ وہمی اور صدوق یھم میں کتنا فرق ہے۔
ثالثًا : صحیحین سے عداوت کہاں تك بڑھے گی تقریب ملاحظہ ہوکہ آپ کے وہم کے ایسے وہمی عـــہ اُن میں کس قدر ہیں ۔
رابعًا : بالفرض یہ سب رواۃ مطعون ہی سہی مگر جب بالیقین اُن میں کوئی بھی درجہ سقوط میں نہیں تو تعدّد طرق سے پھر حدیث حجت تامہ ہے ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون (لیکن وہابی جاہل لوگ ہیں ۔ ت)
عـــہ : مثل ابرھیم بن یوسف بن اسحاق ، اسامہ بن زید اللیثی ، اسمٰعیل بن عبدالرحمٰن السدی$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع