دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

لطیفہ ۱ : ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی حدیث جلیل وعظیم کے پہلے طریق صحیح مروی سنن ابی داود کو محمد بن فضیل کے سبب ضعیف کیا۔

اقول اوّلًا : یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضیل صحیح بخاری وصحیح مسلم کے رجال سے ہے۔

ثانیًا : امام ابن معین جیسے شخص نے ابن فضیل کو ثقہ امام احمد نے حسن الحدیث ، امام نسائی نے لاباس بہ (اس میں کوئی نقص نہیں ۔ ت) کہا ، امام احمد نے اُس سے روایت کی اور وہ جسے ثقہ نہیں جانتے اُس سے روایت نہیں فرماتے میزان میں اصلًا کوئی جرح مفسّر اُس کے حق میں ذکر نہ کی۔ ثالثًا : یہ بکف چراغی قابل تماشا کہ ابن فضیل کے منسوب برفض ہونے کا دعوٰی کیا اور ثبوت میں عبارت تقریب رمی بالتشیع ملّاجی کو بایں سالخوردی ودعوٰی محدثی آج تك اتنی خبر نہیں کہ محاوراتِ سلف و اصطلاح محدثین میں تشیع ورفض میں کتنا عـــہ فرق ہے۔

زبان متاخرین میں شیعہ روافض کو کہتے ہیں خذلہم الله  تعالٰی جمیعا بلکہ آج کل کے بیہودہ مہذبین روافض کو رافضی کہنا خلافِ تہذیب جانتے اور انہیں شیعہ ہی کے لقب سے یاد کرنا ضروری مانتے ہیں خود مُلّاجی کے خیال میں اپنی مُلّائی کے باعث یہی تازہ محاورہ تھا یا عوام کو دھوکا دینے کیلئے متشیع کو رافضی بنایا حالانکہ سلف میں جو تمام خلفائے کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ساتھ حُسنِ عقیدت رکھتا اور حضرت امیرالمومنین مولی علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمالکریم کو اُن میں افضل جانتا شیعی کہا جاتا بلکہ جو صرف امیرالمومنین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر تفضیل دیتا اُسے بھی شیعی کہتے ہیں حالانکہ یہ مسلك بعض علمائے اہلسنّت کا تھا اسی بناء پر متعدد ائمہ کوفہ کو شیعہ کہاگیا بلکہ کبھی محض غلبہ محبت اہل بیت کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو شیعیت سے تعبیر کرتے حالانکہ یہ محض سنیت ہے امام ذہبی نے تذکرۃ الحفّاظ میں خود انہیں محمد بن فضیل کی نسبت تصریح کی کہ ان کا تشیع صرف موالات تھا وبس۔

حیث قال :  محمد بن فضیل بن غزوان ،  المحدث الحافظ ، کان من علماء ھذا الشان ،  و ثقہ یحيٰی بن مَعین ، وقال احمد :  حسن الحدیث ،  شیعی۔ قلت :  کان متوالیا فقط[1]۔

چنانچہ ذہبی نے کہا ہے کہ محمد ابن غزوان ، جوکہ محدّث اور حافظ ہے ، حدیث کے علماء میں سے تھا یحیٰی ابن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اور احمد نے کہا ہے کہ اچھی حدیثیں بیان کرتا ہے مگر شیعہ ہے۔ میں نے کہا “ صرف اہلِ بیت سے محبت رکھتا تھا “ ۔ (ت)

رابعًا : ذرا رواۃ صحیحین دیکھ کر شیعی کو رافضی بناکر تضعیف کی ہوتی ، کیا بخاری ومسلم سے بھی ہاتھ دھونا ہے ان کے رواۃ  عــہ میں تیس۳۰ سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اصطلاحِ قدماء پر بلفظ تشیع ذکر کیا جاتا یہاں تك کہ تدریب میں حاکم سے نقل کیا کتاب مسلم ملاٰن من الشیعۃ [2] (مسلم کی کتاب شیعوں سے بھری ہوئی ہے۔ ت) دُور کیوں جائیے خود یہی ابن فضیل کہ واقع کے شیعی صرف بمعنی محب اہل بیت کرام اور آپ کے زعم میں معاذالله  رافضی صحیحین کے راوی ہیں ۔

عـــہ :   کماصرحوا بہ وتدل علیہ محاوراتھم ، منھا مافی المیزان فی ترجمۃ الحاکم بعد ماحکی القول برفضہ ، الله یحب الانصاف ، ماالرجل برافضی بل شیعی فقط اھ ۱۲ منہ (م)

جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے اور ان کے محاورات سے بھی واضح ہے۔ مثلًا میزان میں حاکم کے حالات میں کسی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ رافضی تھا۔ اس کے بعد کہا ہے “ الله  انصاف کو پسند کرتا ہے ، یہ آدمی رافضی نہیں ہے ، صرف شیعہ ہے “ ۔ (ت)

خامسًا :  اُس کے ساتھ ہی حدیث کی متابعتین دو۲  ثقات عدول ابن جابر وعبدالله  بن العلا سے ابوداود نے ذکر کردیں اور سنن نسائی وغیرہ میں بھی موجود تھیں پھر ابن فضیل پر مدار کب رہا ولکن الجھلۃ لایعلمون (لیکن جاہل جانتے نہیں ہیں ۔ ت) اور یہ تو ادنٰی نزاکت ہے کہ تقریب میں ابن فضیل کی نسبت صدوق عارف لکھا تھا ملّاجی نے نقل میں عارف اُڑادیا کہ جو کلمہ مدح کم ہو وہی سہی۔

لطیفہ ۲ :  طرفہ تماشا کہ متابعت ابن جابر جو امام داؤد نے ذکر کی آپ اسے یوں کہہ کر ٹال گئے کہ وہ تعلیق ہے اور تعلیق حجت نہیں اب کون کہے کہ کسی سے آنکھیں قرض ہی لے کر دیکھیے کہ ابوداؤد نے رواہ ابن جابر عن نافع کہہ کر اُسے یوں ہی معلق چھوڑدیا یا وہیں حدثنا ابرھیم بن موسٰی الرازی اناعیسی عن ابن جابر [3]  فرماکر موصول کردیا ہے ولکن النجدیۃ لایبصرون ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف قالہ الحافظ فی التقریب۔

لطیفہ ۳ : امام طحاوی کی حدیث بطریق ابن جابر عن نافع پر بشر بن بکر سے طعن کیا کہ وہ ف غریب الحدیث ہے

عـــہ :  مثلًا ابان بن تغلب ، اسمٰعیل بن ابان ورّاق ، اسمٰعیل بن زکریا ، اسمٰعیل بن عبدالرحمٰن سُدی صدوق یھم ، بکیر بن عبداللّٰہ ، جریر بن عبدالحمید ، جعفر بن سلیمٰن ، حسن بن صالح ، خالد بن مخلد قطوانی ، ربیئع بن انس صدوق لہ اوھام ، زاذان کندی ، سعید بن فیروز ، سعید بن عمرو ھمدانی ، عباد بن یعقوب رواجنی ، عبادبن عوام کلابی ، عبدالله بن عمر مشکدانہ ، عبدالله بن عیسٰی کوفی ،  عبدالرزاق ،  صاحبِ مصنّف ، عبدالملك بن اعین ، عبیدالله بن موسٰی ، عدی بن ثابت ، علی بن الجعد ،  علی بن ھاشم بن البرید ، فضل بن دُکین ابونعیم ، فضیل بن مرزوق ، فطربن خلیفۃ ، مالك بن اسمٰعیل نھدی ، محمد بن اسحٰق صاحبِ مغازی ، محمد بن جحادہ اور یہی محمد بن فضیل ، ھشام بن سعد ، یحیی بن الجزار وغیرھم ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)

اقول اوّلًا : ذرا شرم کی ہوتی کہ یہ بشر بن بکر رجال صحیح بخاری سے ہیں صحیح حدیثیں رَد کرنے بیٹھے تو اب بخاری بھی بالائے طاق ہے۔

ثانیًا : اس صریح خیانت کو دیکھئے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا [4]تھا وہ ہضم کرگئے۔

ثالثًا : محدث جی! تقریب میں $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن