30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یفعلہ اذاعجلہ السیر تك روایت کرکے فرمایا [1]وزاد اللیث قال حدثنی یونس عن ابن شھاب قال سالم کان ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما یجمع بین المغرب والعشاء بالمزدلفۃ۔ قال سالم : واخر ابن عمرالمغرب ، وکان استصرخ علٰی امرأتہ صفیۃ بنت ابی عبید ، فقلت لہ : الصلاۃ ، فقال : سر ، فقلت لہ : الصلاۃ ، فقال : سر ، حتی سارمیلین اوثلٰثۃ ، ثمّ نزل فصلی ، ثم قال : ھکذا رأیت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذااعجلہ السیر یؤخر المغرب فیصلیھا ثلثا ثم یسلم ، ثم قلما یلبث حتی یقیم العشاء فیصلیھا رکعتین [2] الحدیث۔ (ان دونوں روایتوں کا حاصل یہ کہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاایامِ حج میں ذی الحجہ کی دسویں رات مزدلفہ میں مغرب وعشاء جمع کرکے پڑھتے اور جب اپنی بی بی کی خبر گیری کو تشریف لے گئے تھے تو یوں کیا کہ مغرب کو آخر کیا ، میں نے کہا نماز ، فرمایا چلو ، میں نے پھر کہا نماز۔ فرمایا چلو ، دو۲ تین۳ میل چل کر اُترے اور نماز پڑھی ، پھر فرمایا میں نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ جب سفر میں جلدی ہوتی ایسا ہی کرتے ، مغرب اخیر کرکے تین۳ رکعت پڑھتے پھر سلام پھیر کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے پھر عشا کی اقامت فرماکر دو۲ رکعت پڑھتے) نسائی کے یہاں یوں ہے : اخبرنی محمد بن عبدالله بن بزیع حدثنا یزید بن ذریع حدثنا کثیر بن قارَوَنْدا قال : سألت سالم بن عبدالله عن صلاۃ ابیہ فی السفر وسألناہ ھل کان یجمع بین شیئ من صلاتہ فی سفرہ؟ فذکر ان صفیۃ بنت ابی عبید کانت تحتہ فکتبت الیہ ، وھو فی زراعۃ لہ ، انی فی اٰخر یوم من ایام الدنیا واول یوم من الاخرۃ ، فرکب فاسرع السیر الیھا ، حتی اذاحانت صلاۃ الظھر قال لہ المؤذن : الصلاۃ یاابا عبدالرحمٰن! فلم یلتفت ، حتی اذاکان بین الصلاتین نزل ، فقال : اقم ، فاذا سلمت فاقم ، فصلی ثم رکب حتی اذاغابت الشمس ، قال لہ المؤذن : الصلاۃ ، فقال : کفعلك فی صلاۃ الظھر والعصر ، ثم سار حتی اذا اشتبکت النجوم نزل ، ثم قال المؤذن : اقم فاذاسلمت فاقم ، فصلی ثم انصرف فالتفت الینا فقال ، قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاحضر احدکم الامر الذی یخاف فوتہ فلیصل ھذہ الصلاۃ[3]۔
(خلاصہ یہ کہ جب صفیہ کا خط پہنچا کہ اب میرا دمِ واپسیں ہے ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاشتاباں چلے ، نماز کیلئے ایسے وقت اُترے کہ ظُہر کا وقت جانے کو تھا اور عصر کا وقت آنے کو ، اُس وقت ظہر پڑھ کر عصر پڑھی اور مغرب کے لئے اُس وقت اُترے جب تارے خُوب کھِل آئے تھے (جس وقت تك بلاعذر مغرب میں دیر لگانی مکروہ ہے ، اُسے پڑھ کر عشاء پڑھی اور کہا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جب تم میں کسی کو ایسی ضرورت پیش آئے جس کے فوت کا اندیشہ ہوتو اس طرح نماز پڑھے) نیز اسی حدیث میں دوسرے طریق سے یوں زائد کیا : اخبرنا عبدۃ بن عبدالرحیم ثنا ابن شمیل ثنا کثیر بن قارَوَندا قال سألنا سالم بن عبدالله عن الصلاۃ فی السفر ، فقلنا اکان عبدالله یجمع بین شیئ من الصلاۃ فی السفر؟ فقال لا الا یجمع [4] یعنی ہم نے سالم بن عبدالله بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے سوال کیا کہ حضرت عبدالله بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسفر میں کسی نماز کو دُوسری کے ساتھ جمع فرماتے تھے کہا نہ سوا مزدلفہ کے) (جہاں کا ملانا سب کے نزدیك بالاتفاق ہے) پھر وہی حدیث بیان کی کہ اُس سفر میں اُس طریق سے نمازیں پڑھی تھیں ۔ اس حدیث جلیل کے اتنے طُرق کثیرہ ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے سفر میں بحال شتاب وضرورت جمع صوری فرمائی ہے اور یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب ہے۔
حدیث ۲ : امام اجل احمد بن حنبل مسند اور ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم مصنف میں بسند حسن بطریق اپنے شیخ وکیل بن الجراح کے اور امام طحاوی معانی الآثار میں بطریق حدثنا فھدثنا الحسن بن البشیر ثنا المعافی بن عمران کلاھما عن مغیرہ بن زیاد الموصلی عن عطاء بن ابی رباح ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا سے راوی قالت کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی السفر یؤخر الظھر ویقدم العصر ، ویؤخر المغرب ویقدم العشاء [5] (حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسفر میں ظہر کو دیر فرماتے عصر کو اول وقت پڑھتے مغرب کی تاخیر فرماتے عشاء کو اوّل وقت پڑھتے)
حدیث ۳ : ابوداؤد اپنی سنن باب متی یتم المسافر اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنّف میں بسند حسن جید متصل حضرت عبدالله بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب وہ اپنے والد ماجد محمد بن عمر بن علی وہ اپنے والد ماجد عمر بن علی مرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، سے روایت کرتے ہیں : ان علیًا کان اذاسافر سار بعد ما تغرب الشمس حتی تکاد ان تظلم ، ثم ینزل فیصلی المغرب ، ثم یدعو بعشائہ فیتعشی ، ثم یصلی العشاء ، ثم یرتحل۔ ویقول : ھکذا کان رسول الله صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصنع [6]۔ (یعنی امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضٰی کرم الله تعالٰی وبہہ الاسنی جب سفر فرماتے سورج ڈوبے پر چلتے رہتے یہاں تك کہ قریب ہوتا کہ تاریکی ہوجائے پھر اُتر کر مغرب پڑھتے پھر کھانا منگا کر تناول فرماتے پھر عشا پڑھ کر کُوچ کرتے اور کہتے اسی طرح حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکیا کرتے تھے)۔ امام عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کی سند کو فرمایا : لاباس بہ (اس میں کوئی نقص نہیں )۔
حدیث ۴ : طحاوی بطریق ابی خثیمہ عن عاصم الاحول عن ابی عثمٰن راوی قال وفدت انا وسعد بن مالك ونحن بنادر للحج ، فکنا نجمع بین الظھر والعصر ، نقدم من ھذہ ونؤخر من ھذہ ، ونجمع بین المغرب والعشاء ، نقدم من ھذہ ونؤخر من ھذہ ، حتی قدمنا مکۃ [7] (یعنی میں اور حضرت سعد بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحج کی جلدی میں مکہ معظمہ تك ظہر وعصر اور مغرب وعشا کو یوں جمع کرتے گئے کہ ظہر ومغرب دیر کرکے پڑھتے اور عصر وعشا جلد)
حدیث ۵ : نیز امام ممدوح عبدالرحمن بن یزید سے راوی صحبت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ فی حجہ فکان یؤخر الظھر ویعجل العصر ، ویؤخذ المغرب ویعجل العشاء$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع