دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

یہاں تك کہ شفق ڈوبنے سے پہلے اُتر کر مغرب پڑھی پھر انتظار فرمایا یہاں تك کہ شفق ڈوب گئی اُس وقت عشا پڑھی پھر فرمایا : حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو جب کوئی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے جیسا میں نے کیا۔ ابن عمر نے اس دن رات میں تین رات دن کی راہ قطع کی (م)

ابوداود نے فرمایا :

رواہ ابن جابر عن نافع نحو ھذا باسنادہ حدثنا ابراھیم بن موسٰی الرازی انا عیسٰی ابن جابر بھذا المعنی ورواہ عبدالله بن العلاء عن نافع ، قال :  حتی اذاکان عندذھاب الشفق نزل فجمع بینھما [1]۔

اس کو ابن جابر نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے مع اسناد کے حدیث بیان کی ہم سے ابراہیم ابن موسٰی رازی نے ، اس نے کہا کہ خبر دی ہمیں عیسٰی ابن جابر نے اس مفہوم کے ساتھ اور روایت کیا ہے اسکو عبدالله  بن علاء نے نافع سے کہ انہوں نے کہا : جب شفق ڈوبنے کے نزدیك ہُوئی اتر کر دونوں نمازیں جمع کیں ۔ (ت)

نسائی کی روایت بسند صحیح یوں ہے :

اخبرنا محمود بن خالدثنا الولید ثنا ابن جابرثنی نافع قال :  خرجت مع عبدالله بن عمر فی سفر ، یرید ارضالہ ، فاتاہ آتٍ فقال :  ان صفیۃ بنت ابی عبید لمابھا ،  فانظران تدرکھا۔ فخرج مسرعا ، ومعہ رجل من قریش یسایرہ ، وغابت الشمس فلم یصل الصلاۃ ، وکان عھدی بہ وھو یحافظ علی الصلاۃ ، فلما ابطاء قلت :  الصلاۃ ، یرحمك الله ،  فالتفت ای ومضی ، حتی اذاکان فی اٰخر الشفق نزل فصلی المغرب ، ثم اقام العشاء وقد تواری الشفق فصلی بنا ، ثم اقبل علینا ، فقال :  ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان اذاعجل بہ السیر صنع ھکذا [2]۔                                                                                                                                                                                                                                                                    

یعنی نافع فرماتے ہیں عبدالله  بن عمر اپنی ایك زمین کو تشریف لیے جاتے تھے کسی نے آکر کہا آپ کی زوجہ صفیہ عــہ بنت ابی عبید اپنے حال میں مشغول ہیں شاید ہی آپ انہیں زندہ پائیں ۔ یہ سُن کر بہ سُرعت چلے اور اُن کے ساتھ ایك مرد قریشی تھا سُورج ڈوب گیا اور نماز نہ پڑھی اور میں نے ہمیشہ اُن کی عادت یہی پائی تھی کہ نماز کی محافظت فرماتے تھے جب دیر لگائی میں نے کہا نماز خدا آپ پررحم فرمائے میری طرف پھر کر دیکھا اور آگے روانہ ہُوئے جب شفق کا اخیر حصّہ رہا اُتر کر مغرب پڑھی پھر عشا کی تکبیر اس حال میں کہی کہ شفق ڈوب چکی اُس وقت عشا پڑھی پھر ہماری طرف منہ کرکے کہا رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو جب سفر میں جلدی ہوتی ایسا ہی کرتے۔ (م)

عـــہ :  ھی اخت مختار الکذاب المشہور ، وابوھا ابوعبید رضی الله تعالٰی عنہ من الصحابۃ ، استشھد فی خلافۃ امیرالمؤمنین ، اما

صفیہ ، مشہور مختار کذاب کی بہن تھیں ۔ ان کے والد ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُصحابہ میں سے تھے ، امیرالمومنین کی خلافت کے دوران شہید ہوگئے تھے۔                (باقی برصفحہ آئندہ)

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

ھی ، ففی عمدۃ القاری ، ادرکت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وسمعت منہ۔ اھ وفی ارشاد الساری ، الصحابیۃ الثقفیۃ اخت المختار ، وکانت من العابدات۔ اھ لکن قال الحافظ فی التقریب :  قیل لھا ادراک ، وانکرہ الدارقطنی ، وقال العجلی :  ثقہ فھی من الثانیۃ۔ اھ وحقق فی الاصابۃ نفی السماع واثبات الادراك ظنا ، فراجعہ۔ وقدحدث عن ازواج النبی صلی الله تعالٰی علیہ وعلیھن وسلم ۱۲ منہ (م)

صفیہ کے بارے میں عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ انہوں نے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا زمانہ پایا تھا۔ اور ارشاد الساری میں ہے کہ یہ بنی ثقیف سے تعلق رکھنے والی صحابیہ تھیں اور مختار کی بہن تھیں ، عبادت گزار خواتین میں سے تھیں۔ لیکن حافظ نے تقریب میں لکھا ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ صفیہ نے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا زمانہ پایا تھا لیکن دارقطنی نے اس کا انکار کیا ہے اور عجلی نے کہا ہے کہ ثقہ تھیں ۔ اس لحاظ سے یہ طبقہ ثانیہ میں ہوں گی (یعنی تابعیات سے) اصابہ میں ثابت کیا ہے کہ صفیہ نے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا کلام تو نہیں سنا البتہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا زمانہ پایا ہو۔ اس سلسلے میں اصابہ کی طرف رجوع کرو۔ صفیہ نے ازواجِ مطہرات سے احادیث بیان کی ہیں ۔ (ت)

اسی طرح امام طحاوی نے روایت کی فقال حدثنا ربیع المؤذن ثنا بشربن بکرثنی ابن جابر ثنی نافع [3] فذکرہ۔ نیز نسائی نے بسند حسن بطریق اخبرنا قتیبۃ بن سعید حدثنا العطاف [4] اور ابوجعفر نے بطریق حدثنا یزید بن سنان ثنا ابوعامر العقدی ثنا العطاف بن خالد المخزومی [5] اور امام فقیہ نے حجج میں بلاواسطہ روایت کی کہ اخبرنا عطاف بن خالد المخزومی المدینی قال اخبرنا نافع قال اقبلنا مع ابن عمر من مکۃ ، حتی اذاکان ببعض الطریق استصرخ علی زوجتہ ، فقیل لہ انھا فی الموت ، فاسرع السیر ، وکان اذانودی بالمغرب نزل مکانہ فصلی ، فلما کان تلك اللیلۃ نودی بالمغرب فسار حتی امسینا فظننا انہ نسی ، فقلنا :  الصلاۃ ، فسار حتی اذاکان الشفق قرب ان یغیب نزل فصلی المغرب ، وغاب الشفق فصلی العشاء ثم اقبل علینا فقال :  ھکذا کنا نصنع مع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاجدبنا السیر۔ (یعنی امام نافع فرماتے ہیں راہِ مکّہ میں ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے جب شفق ڈوبنے کے قریب ہُوئی اُتر کر مغرب پڑھی اور شفق ڈوب گئی اب عشاء پڑھی پھر ہماری طرف مُنہ کرکے کہا ہم رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے جب چلنے میں کوشش ہوتی تھی) امام عیسٰی بن ابان نے اسے روایت کرکے فرمایا : وھکذا قال ابوحنیفۃ فی الجمع بین الصلاتین ان یصلی الاول منھما فی اٰخر وقتھا ، والاخری فی اول وقتھا ، کما فعل عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنھا ، ورواہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن