دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

الفضلاء الحقانیین حامی السنن السنیہ ماحی الفتن الدنیہ بقیہ السلف المصلحین حجۃ الخلف المفلحین آیۃ من آیات رب العٰلمین معجزۃ من معجزات سیدالمرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وبارك وسلم اجمعین ذی التصنیفات الرائقہ والتحقیقات الفائقہ والتدقیقات الشائقہ تاج المحققین سراج المدققین اکمل الفقہاء المحدثین حضرت سیدنا الواجد امجد الاماجد اطیب الاطائب مولانا مولوی محمد نقی علی خان صاحب محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی قدس الله سرہ ، وعم برّہ وثم نورہ واعظم اجرہ واکرم نزلہ وانعم منزلہ ولاحرمنا سعدہ ولم یفتنا بعدہ والحمدالله دہرالداہرین ہاں ہاں یہ ادنٰی خاکبوسی آستان رفیع غلمان منیع بندگان بارگاہ عرفان پناہ اقدس حضرت آقائے نعمت دریائے رحمت اعرف العرفاء الکرام مرجع الاولیاء العظام السحاب الہا مربفیض القادر والعباب الزاخر بالفضل الباھر ذوالقرب الزاہر والعلو الظاہر والنسب الطاہر ملحق الاصاغر بالجلۃ الاکابر معدن البرکات مخزن الحسنات من آل محمد سید الکائنات علیہ وعلیہم افضل الصلوات وارث النجدات من حمزۃ الحمزات القمر المستبین بالنور المبین من شمس الدین ابی الفضل العظیم والشرف الکریم سیدنا ومولٰنا وملجانا وماوانا  شیخی ومرشدی کنزی وذخری لیومی وغدمی اعلحٰضرت سیدنا السید الشاہ آل رسول الاحمدی فاطمی حسینی قادری برکاتی واسطی بلجرامی مارہری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُواجرل واعظم قربہ منہ واشرق علینا من نورہ التام وافاض علینا من بحرہ الطام وجعلنا من خدمہ فی دارالسلام بفضل رحمۃ علیہ وعلٰی آبائہ الکرام والحمدالله ابدالآبدین۔ ؎

عہد مابالب شیریں دہنان بست خداے
ماہمہ  بندہ  وایں  قوم خداوند   ا نند

(خدا نے شیریں دہنوں کے لبوں سے ہمارا عہد باندھ دیا ہے ، ہم سب بندے ہیں اور یہ لوگ ہمارے آقا ہیں ۔ ت)

خیر کہنا یہ تھا کہ یہاں بھی اِن شاء الله تعالٰی یہی طریقہ رعایت عــہ پائے گا ولہذا ایك آدھ بحث کہ بقدر کافی طے کردی گئی اس سے تعرض اطناب سمجھا جائے گا کہ مقصود اظہار احقاق ہے نہ اکثار اوراق۔ ان چار فصل میں ملّا جی کے ادعائی بول یکسر برعکس ہیں سایہ بخت سے سب قابل نکس ہیں جابجا ثابت کو ناثابت ناثابت کو ثابت ساکت کو ناطق ناطق کو ساکت ضعیف کو صحیح صحیح کو ضعیف تحریف کو توجیہ توجیہ کو تحریف مؤول کو مفسر مفسر کو مؤول محتمل کو صریح صریح کو محتمل کہا اول تا آخر کوئی دقیقہ تحکم ومکابرہ وتعصب مدابرہ کا نامرعی نہ رہا یہاں بعونہٖ تعالٰی عز مجدہ ہر فصل میں قول فصل وحق اصل بدلائل قاہرہ وبیانات باہرہ ظاہر کیجئے کہ اگر زبان انصاف سالم وصاف ہوتو مکالف منکر مدعی مُصر کو بھی معترف ومقر لیجئے۔

 

عــہ : لاسیما اذاکان فيئی لاترتضیہ لوھن اوضعف نعلم فیہ ۱۲۔ (م)    (حاشیہ کی اس عبارت سے غالبًا اعلٰحضرت کی اپنی عبارت گزشتہ صفحہ ۱۶۴ کی طرف اشارہ ہے : فقیر حقیر غفرلہ المولی القدیر کو اپنی تصانیف مناظرہ بلکہ اکثر ان کے ماورا میں بھی حتی الوسع اپنے ہی فائضات قلب کو جلوہ دیا جائے ، ملخصًا (نذیر احمد سعیدی)

وماذلك علی الله بعزیز ، ان ذلك علی الله یسیر ،  ان الله علٰی کل شیئ قدیر۔

اور یہ الله  کیلئے مشکل نہیں ہے ، یہ الله  پر آسان ہے ، الله  ہر شیئ پر قادر ہے۔ (ت)

یہ معارك جلیلہ تو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں رسالہ آپ کے پیشِ نظر ہے ملاحظہ کیجئے داد انصاف دیجئے ع فی طلعۃ الشمس مایغنیك عن خبر (سُورج طلوع ہوجائے تو اس کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ت)

اس کے سوا نفس مسئلہ میں ملّا جی نے اپنے موافق کہیں چودہ۱۴ کہیں پندرہ۱۵ صحابیوں سے روایات آنا بیان کیا اور خود ہی اُسے بگاڑ کر کمی کی طرف پلٹے اور چار سے زیادہ ظاہر نہ کرسکے اُن میں بھی عندالانصاف اگر کُچھ لگتی ہوئی بات ہے تو صرف ایك سے۔ میں بعونہٖ تعالٰی اپنے موافق روایات تئیس۲۳ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے لاؤں گا ، ملّا جی صرف چار حدیثیں پیش خویش اپنے مفید دکھاسکے جن میں حقیقۃً کوئی بھی ان کے مفید نہیں اور آیت کا تو اُن کی طرف نام بھی نہیں ، میں بحول الله  تعالٰی اُن سے دُونی آیتیں اور دس گنی حدیثیں اپنی طرف دکھاؤں گا ، میں یہ بھی روشن کردوں گا کہ حنفیہ کرام پر غیر مقلدوں کی طعنہ زنی ایسی پوچ ولچر بے بنیاد ہوتی ہے ، میں یہ بھی بتادُوں گا کہ ان صاحبوں کے عمل بالحدیث کی حقیقت اتنی ہے ، میں یہ بھی دکھادوں گا کہ ملّا جی صاحب جو آج کل مجتہد العصر اور تمام طائفہ کے استاد مانے گئے ہیں اُن کی حدیث دانی ایك متوسط طالب علم سے بھی گرے درجہ کی ہے کل ذلك بعون الملك العزیز القریب المجیب وماتوفیقی الاّ بالله علیہ توکّلت والیہ انیب وھذا اوان الشروع فی المقصود متوکلا علی واھب الفیض والجود والحمدلله العلی الودود والصّلاۃ والسلام علٰی احمد محمود محمد واٰلہ الکرام السعود امین۔

فصل اول طلوع فجر نوری بہ اثبات جمع صوری:

حضور پُرنور سید یوم النشور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے جمع صوری کا ثبوت اصلًا محل کلام نہیں اور وہی مذہب مہذب ائمہ حنفیہ ہے اس میں صاف صریح جلیل وصحیح احادیث مروی مگر ملّا جی تو انکارِ آفتاب کے عادی ، بکمال شوخ چشمی بے نقط سُنادی کہ کوئی حدیث صحیح ایسی نہیں جس سے ثابت ہوکہ آنحضرت عـــہ جمع صوری سفر میں کیا کرتے تھے [1] ، بہت اچھا ذرانگاہ رُوبرُو۔

عــہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموعلٰی آلہٖ وصحبہ وبارك وکرم ۱۲ منہ (م) 

حدیث ۱ : جلیل وعظیم حدیث سیدنا عبدالله  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکہ اُس جناب سے مشہور ومستفیض ہے جسے امام بخاری وابوداؤد ونسائی نے اپنی صحاح اور امام عیسٰی بن ابان نے کتاب الجج علٰی اہلِ مدینہ اور امام طحاوی نے شرح معانی الآثار اور ذہلی نے زہریات اور اسمٰعیل نے مستخرج صحیح بخاری میں بطرق عدیدہ کثیرہ روایت کیا :

فالبخاری والاسمعیلی والذھلی من طریق اللیث بن سعد عن یونس عن الزھری ، والنسائی من طریقی یزید بن زریع والنضربن شمیل عن کثیر بن قاروندا کلاھما عن سالم۔ والنسائی عن قتیبۃ والطحاوی عن ابی عامر العقدی والفقیہ فی الحجج ثلثتھم عن العطاف ، وابوداؤد عن فضیل بن غزوان ، وعن عبدالله بن العلاء ، وایضا ھوعیسٰی والنسائی عن الولید والطحاوی عن بشر بن بکر ، ھؤلاء الثلثۃ عن ابن جابر ، والطحاوی عن اسامۃ بن زید ،  خمستھم اعنی العطاف وفضیلا وابن العلاء وجابر واسامۃ عن نافع۔ وابوداؤد عن عبدالله بن واقد۔  والطحاوی عن اسمٰعیل بن عبدالرحمٰن اربعتھم عن عبدالله بن عمر رضی الله عنھما۔                                            

بخاری ، اسمٰعیل اور ذہلی نے لیث ابن سعد کے طریقے سے یونس سے ، اس نے زہری سے روایت کی ہے۔ اور نسائی نے یزید ابن زریع اور نضر ابن شمیل کے دو۲ طریقوں سے کثیر ابن قاروندا سے روایت کی ہے۔ دونوں (زہری اور کثیر) سالم سے راوی ہیں ۔ نسائی نے قتیبہ سے ، طحاوی نے ابوعامر عقدی سے اور فقیہ نے حجج میں یہ تینوں عطاف سے روایت کرتے ہیں ۔ اور ابوداؤد نے فضیل ابن غزوان سے اور عبدالله  ابن علاء سے روایت کی ہے۔ اور ابوداؤد نے ہی عیسٰی سے ، نسائی نے ولید سے ، طحاوی نے بشر ابن بکر سے ، یہ تینوں (عیسٰی ، ولید ، بشر) جابر سے روایت کرتے ہیں ۔ اور طحاوی نے اسامہ ابن زید سے روایت کی ہے۔ یہ پانچوں یعنی عطاف ، فضیل ، عبداللہ ، جابر اور اسامہ نافع سے راوی ہیں ، نیز ابوداؤد عبدالله  ابن واقد سے راوی ہیں اور طحاوی اسمٰعیل ابن عبدالرحمن سے راوی ہیں ۔ چاروں (سالم ، نافع ، عبدالله   ابن واقد ، اسمٰعیل) عبدالله  ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے (ناقل ہیں ) (ت)

فقیر غفرالله  تعالٰی نے جس طرح یہاں جمع وتلخیص طرق کی اکمال المحجہ وایضاح الحجہ کیلئے اُن کے اکثر نصوص والفاظ بھی وارد کرے وبالله  التوفیق ، سنن ابوداؤد میں بسند صحیح ہے :

حدثنا محمد بن عبید المحاربی نامحمد بن فضیل عن ابیہ عن نافع وعبدالله بن واقد ان مؤذن ابن عمر

یعنی نافع وعبدالله  بن واق

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن