30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے پوچھا وہ کون لوگ ہیں جنہیں الله عزّوجل قرآنِ عظیم میں فرماتا ہے “ خرابی ہے اُن نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں “ ۔ فرمایا وہ لوگ جو نماز وقت گزار کر پڑھیں ۔
بغوی کی روایت یوں ہے :
عن مصعب بن سعد عن ابیہ رضی الله تعالٰی عنھما انہ قال سئل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن الذین ھم فی صلوتھم ساھون ، قال : اضاعۃ الوقت [1]۔
مصعب بن سعد سے انکے والد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا : اس سے مراد وقت کھونا ہے۔ (ت)
کھونا ہے۔ بعینہٖ یہی معنی ابن جریر نے عبدالله بن عباس اور ابن ابی حاتم نے مسروق اور عبدالرزاق وابن المنذر نے بطریق مالك بن دینار امام حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت کیے روایت اخیرہ یوں ہے کہ ابو العالیہ نے کہا ساھون وہ لوگ ہیں جنہیں یاد نہ رہے کہ رکعتیں دو۲ پڑھیں یا تین۳۔ اس پر امام حسن نے فرمایا : ھو الذی یسھوعن میقاتھا حتی تفوت (ہائیں وہ وہ ہیں جو اُس وقت سے غافل رہیں یہاں تك کہ وقت نکل جائے۔ م) فقیر کے یہاں بحمدالله نماز تنگ وقت نہیں ہوتی بلکہ مطابق مذہب حنفی ہوتی ہے ، عوام بیچارے اپنی ناواقفی سے غلط سمجھتے ہیں ، مذہب حنفی میں سوا مغرب اور جاڑوں کی ظہر کے سب نمازوں میں تاخیر افضل ہے اُس حد تك کہ وقتِ کراہت نہ آنے پائے اور وہ عصر میں اُس وقت آتا ہے جب قرصِ آفتاب پر بے تکلّف نگاہ جمنے لگے اور تجربے سے ثابت کہ یہ بیس منٹ دن رہے ہوتا ہے اس سے پہلے پہلے جو نماز عَصر اُس کے وقت کا نصف اول گزار کر نصف آخر میں ہو وہ وقت مستحب ہے مثلًا آج کل تقریبًا سات۷ بجے غروب ہے اور قریب پانچ کے عصر کا وقت ہوجاتا ہے تو وقت مستحب یہ ہے کہ پانچ بج کر پچاس منٹ سے چھ بج کر چالیس منٹ تك نمازِ عصر پڑھیں اور عشا میں وقتِ کراہت آدھی رات کے بعد ہے یہ حالتیں بحمدالله تعالٰی میرے یہاں نہیں مجھے پابندی امام ابُوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے احکام کی ہے نہ جاہلوں کے خیالات واوہام کی دارقطنی سنن اور حاکم صحیح مستدرك میں بطریق عباس بن ذریح ، زیاد بن عبدالله نخعی سے راوی :
قال کنا جلوسا مع علی رضی الله تعالٰی عنہ فی المسجد الاعظم فجاء المؤذن فقال : یاامیر المؤمنین! فقال : اجلس ، فجلس ثم عاد فقال لہ ذلک ، فقال رضی الله تعالٰی عنہ ، ھذا الکلب یعلمنا السنۃ ، فقام علی فصلی بنا العصر ، ثمّ انصرفنا ، فرجعنا الی المکان الذی کنافیہ جلوسا ، فجثونا للرکب لنزول الشمس للغروب نترااٰھا [2]۔
ہم کُوفہ کی جامع مسجد میں مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمالکریم کے پاس بیٹھے تھے ، مؤذن آیا اور عرض کی : یاامیرالمومنین (یعنی نمازِ عصر کو تشریف لے چلیے) امیرالمومنین نے فرمایا : بیٹھ۔ وہ بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ حاضر ہُوا اور وہی عرض کی۔ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، نے فرمایا : یہ کُتّا ہمیں سُنّت سکھاتا ہے۔ بعدہ مولا علی کھڑے ہوئے اور ہمیں عصر پڑھائی پھر ہم نماز کا سلام پھیر کر مسجد میں جہاں بیٹھے تھے وہیں آئے تو گھُٹنوں کے بل کھڑے ہوکر سورج کو دیکھنے لگے اس لئے کہ وہ ڈوبنے کو اُترگیا تھا۔
حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے
اما ان زیاد الم یرو عنہ غیر العباس [3] ،
قالہ الدارقطنی ، فاقول : عباس ثقۃ ، وغایتہ جھالۃ عین ، فلا تضر عندنا ، لاسیما فی اکابر التابعین۔ قال فی المسلّم ، لاجرح بان لہ راویا فقط وھومجھول العین باصطلاح [4]۔ قال فی الفواتح ، وقیل لایقبل عند المحدثین ، وھو تحکم [5]۔
رہی یہ بات کہ زیاد سے سوائے عباس کے کسی نے روایت نہیں کی ، جیسا کہ دارقطنی نے کہا ہے ، تو میں کہتا ہوں : عباس ثقہ ہے ، زیادہ سے زیادہ اس میں “ جہالت عین “ پائی جاتی ہے اور یہ ہمارے نزدیك مضر نہیں ہے ، خصوصًا اکابر تابعین میں ۔ مسلّم میں ہے کہ یہ کوئی جرح نہیں ہے کہ فلاں سے ایك ہی راوی ہے اور وہ اصطلاحی طور پر “ مجہول العین “ ہے ، فواتح میں ہے کہ بعض نے کہا کہ ایسا راوی قابل قبول نہیں ہے ، لیکن یہ بے دلیل بات ہے۔ (ت)
اگر یہ مولیٰ علی کا صرف اپنا فعل ہوتا جب بھی حجت شرعی تھا نہ کہ وہ اسے صراحۃً سنّت بتارہے اور مؤذن پر جو جلدی کا تقاضا کرتا تھا ایسا شدید غضب فرمارہے ہیں ، اسی کی مثل امیرالمومنین کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، سے نمازِ صبح میں مروی امام طحاوی بطریق داود بن یزید الاودی عن ابیہ روایت فرماتے ہیں :
قال کان علی ابن ابی طالب رضی الله تعالٰی عنہ یصلی بناالفجر ونحن نتراای الشمس مخافۃ ان تکون قدطلعت [6]۔
مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمہمیں نماز صبح پڑھایاکرتے اور ہم سورج کی طرف دیکھا کرتے تھے اس خوف سے کہ کہیں طلوع نہ کر آیاہو۔
مناقب سیدنا امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُللامام حافظ الدین الکردری میں ہے :
ذکر الامام الدیلمی عن زھیر ابن کیسان قال صلیت مع الرصافی العصر ثم انطلقت مسجد الامام فاخر العصر حتّٰی خفتُ فوات الوقت ثم انطلقت الٰی مسجد سفین فاذاھو لم یصل العصر فقلت رحم الله اباحنیفۃ مااخرھا مثل اخر سفین [7]
یعنی امام دیلمی نے زہیربن کیسان سے روایت کی کہ میں رصافی کے ساتھ نماز عصر پڑھ کر مسجد امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں گیا امام نے عصر میں اتنی تاخیر فرمائی کہ مجھے خوف ہُوا کہ وقت جاتا رہے گا پھر میں مسجد امام سفین ثوری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی طرف گیا تو کیا دیکھوں کہ اُنہوں نے ابھی نماز پڑھی بھی نہیں میں نے کہا الله ابوحنیفہ پر رحمت فرمائے انہوں نے تو اتنی تاخیر کی بھی نہیں جتنی سفیٰن نے۔
فقیر کے یہاں سَوا گھنٹا دن رہے اذانِ عصر ہوتی ہے اور گھنٹا بھر دن رہے نماز ہوتی ہے اور پون گھنٹا دن رہے سے پہلے ہوچُکی ہے۔ والله تعالٰی اعلم
مسئلہ (۲۷۹) از ریاست رام پور متصل تالاب کنڈا محلہ میاں نگاناں مکان جناب سیدغلام چشتی صاحب مرسلہئ جناب مولٰنا مولوی محمد یحییٰ صاحب ۱۲ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قطع نظر شفق سُرخ وسپید کے باتفاق علمائے حنفیہ بعد غروبِ آفتاب کے ایك گھنٹے بیس منٹ کے بعد ہمیشہ وقت عشاء کا آجاتا ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع