دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

ہاں شہروں باغوں خصوصًا نخلستان وکوہستان کی آبادیوں جنگلوں میں جہاں اُفق نظروں سے دُور ہوتا ہے غالبًا یہ شرق سے اُٹھتی ہُوئی تاریکی خوب بلند ہوکر نظر آتی ہے اور یہ وقت خاص غروب کا ہوتا ہے بلکہ بہت جگہ اس سے بھی پہلے غروب ہوچکتا ہے کلمات علماء مثل قول امام ابوزکریا ،

قال بعد مانقلنا سابقا ، وانما جمیع بینھما لانہ قد یکون فی واد ونحوہ بحیث لایشاھد غروب الشمس فیعتمد اقبال الظلام وادبار الضیاء[1]۔

ابوزکریا نے ، بعد اس کے جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں ، کہا ہے کہ (اقبال لیل اور غروب کو) جمع اس لئے کیا ہے کہ کبھی روزہ دار کسی وادی وغیرہ میں ہوتا ہے جہاں غروب کا مشاہدہ نہیں ہوسکتا تو تاریکیوں کے آنے اور روشنی کے جانے پر اعتماد کرنا پڑتا ہے(ت)

وقول امام قاضی عیاض فی شرح صحیح مسلم :

قد لایتفق مشاھدۃ عین الغروب ویشاھد ھجوم الظلمۃ حتی یتیقن الغروب بذلک ، فیحل الافطار [2]۔

کبھی غروب کا مشاہدہ کرنے کا اتفاق نہیں ہوتا لیکن تاریکی چھا جانے کا مشاہدہ ہوجاتا ہے جس سے غروب ہونے کا یقین ہوجاتا ہے ، تو اس وقت افطار جائز ہے۔ (ت)

وقول امام عینی فی عمدۃ :

ثم بین مایعتبرہ من لم یتمکن من رؤیۃ جرم الشمس ، وھو اقبال الظلمۃ من المشرق ، فانھا لاتقبل منہ الاقدسقط القرص [3]۔

پھر اس چیز کو بیان کیا جس کو وہ آدمی بھی جان لیتا ہے جس کیلئے سورج کی ٹکیہ کو دیکھنا ممکن نہ ہو ، یعنی مشرق کی جانب تاریکی کا آجانا ، کیونکہ وہ تب ہی آتی ہی جب سورج کی ٹکیہ غائب ہوچکی ہوتی ہے۔ (ت)

وقول جامع الرموز :

ای وقت غیبۃ جرم الشمس کلہ اذاظھر الغروب ،  والا فالی وقت اقبال الظلمۃ من المشرق ، کمافی التحفۃ [4]

یعنی افطار اس وقت کرے جب سورج کی پُوری ٹکیہ غائب ہوجائے ، اگر غروب اس کیلئے ظاہر ہو ، ورنہ جب مشرق کی جانب تاریکی آجائے (تو افطاار کرلے) جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)

وامثال ذلك کہ صراحۃً اُنہیں مواضع سے متعلق ہیں جہاں افق ظاہر اور رؤیت مقدمہ ورنہ ہو ایسے ہی عدم تمکن پر محمول ورنہ جب باجماعِ اُمّت اور خود اُنہیں علماء اور اُن کے امثال کی تصریحات قطعیہ سے مدار حکم غروب جمیع جرم شمس ہے اور اصل اُفق سے ارتفاع سواد بشہادت مشاہدہ قبل غروب حاصل تو مجرد اقبال پر ادارت حکم کیونکر معقول اور حدیث مؤطا :

مالك عن ابن شہاب عن حمید بن عبدالرحمٰن ان عمر بن الخطاب وعثمٰن بن عفان رضی الله تعالٰی عنھما کانا یصلیان المغرب حین ینظر الی اللیل الاسود قبل ان یفطرا ، ثم یفطران بعد الصلاۃ ، وذلك فی رمضان [5]۔

مالک ، ابن شہاب سے ، وہ حمیدا بن عبدالرحمن سے راوی ہیں کہ عمر ابن خطاب اور عثمان ابن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَارمضان میں اس وقت مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے جب افطار سے پہلے سیاہ رات کو دیکھ لیتے تھے ، پھر نماز کے بعد افطار کیا کرتے تھے۔ (ت)

تو اُن عبارات سے بھی قریب تر ہے۔ شہر اور شہر کا بھی وسط اور وہ بھی نخلستان اور ملك کوہستان ، پھر امامین جلیلین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا حُسنِ احتیاط خود عبارتِ حدیث سے ظاہر کہ حین ینظر ان الی اللیل الاسود مجرد ذکر لیل یعنی سواد پر قناعت نہ کی بلکہ تاکیدًا صفتِ اسود بڑھائی یعنی جب سیاہ سیاہی گہری ظلمت دیکھ لیتے اُس وقت نماز پڑھتے ، حدیث صحیحین اذا رأیتم اللیل قداقبل من ھھنا فقد افطر الصائم[6]   میں اقبال لیل پر اقتصار بعض رواہ کا اقتصار ہے کہ بکثرت معہود خود اسی حدیث کی دوسری روایت میں صرف اذاغابت الشمس من ھھنا فقد افطر الصائم [7]

(جب تم رات کو دیکھو کہ ادھر سے آگئی ہے تو روزہ دار افطار کرلے۔ ت) (جب اِدھر سے سورج غائب ہوجائے تو روزہ دار افطار کرلے۔ ت) ہے ، تیسری میں اذاغابت الشمس من ھھنا وجاء اللیل من ھھنا فقدافطر الصائم [8] (جب اِدھر سے سورج غائب ہوجائے اور اُدھر سے رات آجائے تو روزہ دار افطاار کرلے۔ ت) ہےکلتاھما فی صحیح مسلم وغیرہ (دونوں صحیح مسلم اور دیگر کتابوں میں ہیں ۔ ت) اور اگر نہ بھی ہوتا تو بعد ارادہئ لیل حقیقی اصلًا مفید متو ہم نہ رہتی اور علی التنزیل یہ بھی نہ سہی تو اُنہیں مواضع سے متعلق سمجھی جاتی بالجملہ خلاف پر اصلًا کوئی لفظ ایسا بھی نہیں جسے صریح مفسر کہئے نہ کہ ایسا جس کے سبب مشاہدات وحسّیات کو باطل کردیجئے کہ اُن کے ابطال میں معاذالله  ابطال شرائع ہے تلقی کتاب ورؤیت معجزات آخر بذریعہ حاسہ سمع وبصر ہی ہوں گے فقیر غفرالله  لہ نے اس مطلب پر برہان ہندسی قائم کی ہے اگرچہ بعد بیان سابق کسی دلیل عقلی کی حاجت نہیں مگر اُس سے زیادت تایید وتشیید کے علاوہ یہ مقدار معلوم ہوگی کہ غروبِ شمس سے کتنے پہلے سیاہی چمك آئیگی نیز اُس سے مقدار بلندی سیاہی وقت غروب کے حساب میں بھی مدد ملے گی جسے اُس پر اطلاع منظور ہو فقیہ کی کتاب “ زیج الاوقات للصوم والصلوات “ کی طرف رجوع کرے وبالله التوفیق والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۲۷۸)             از شہرکُنہ مسئولہ خیاط وہابی                            ۲۹ ربیع الآخر شریف

تنگ وقت نماز ادا کرنے والے کو الله  تعالٰی ویل فرماتا ہے اور آپ خود تنگ وقت ادا فرماتے ہیں اس کی تفصیل بیان فرمادے گا۔

الجواب :

تنگ وقت نماز اداکرنے پر قرآن عظیم میں ویل کہیں نہ فرمایا ساھون کے لئے وَیل آیا ہے جو وقت کھوکر نماز پڑھتے ہیں حدیث میں اس آیت کی یہی تفسیر فرمائی ہے بزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن حاتم اور طبرانی اور ابن مردویہ تفسیر اور بہیقی سنن ومحی السنہ بغوی معالم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

قال سألت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن قول الله تعالٰی الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵)  ،  قال ھم الذین یؤخرون الصلاۃ عن وقتھا [9]۔

 



[1]   شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم حدیث اقبل اللیل مطبوعہ قدیمی کتب خانہ  ۱ / ۳۵۱

[2]   شرح صحیح مسلم للامام قاضی عیاض

[3]   عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب الصّوم فی السفر والافطار مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت۱۱ / ۴۳

[4]   جامع الرموز للقہستانی کتاب الصّلوٰۃمکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ / ۱۱۳

[5]   موطا الامام مالك ماجاء فی تعجیل الفطرمطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۲۸

[6]   الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵۱

[7]   الصحیح لمسلم باب بیان وقت انقضاء الصوم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن