30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انتظام کلام اُسی اعلیٰ جلالت پر جلوہ فرماہے جو صاحبِ جوامع الکلم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شان رفیع بلاغت بے مثل کو شایاں وبجا ہے کلماتِ علمائے کرام بھی ان نفیس معنی کے ایما سے خالی نہ رہے امام ابنِ حجر مکّی شرح مشکوٰہ المصابیح میں اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ای وقدیقبل اللیل ولاتکون غربت حقیقۃ ، فلابدمن حقیقۃ الغروب [1]۔
یعنی کبھی رات آجاتی ہے اور ابھی حقیقۃً غروب نہیں ہوا ہوتا ، اس لئے حقیقی غروب ضروری ہے (ت)
حفنی علی الجامع الصغیر میں ہے :
قولہ ، وغربت الشمس ، لم یکتف بماقبلہ عن ذلک ، اشارۃ الی انہ قدیوجد اقبال الظلمۃ وادبار الضوء ولم یوجد غروب الشمس[2]۔
نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمان “ اور سورج ڈوب جائے “ آپ نے سیاہی کے آنے اور روشنی کے جانے پر اکتفا نہیں کیا اور غروب کی تصریح فرمائی کیونکہ کبھی سیاہی آجاتی ہے اور روشنی چلی جاتی ہے مگر غروب آفتاب نہیں ہوتا۔ (ت)
اور اگر حدیث میں لیل ونہار معنی حقیقی پر رکھئے تو اگرچہ اتنا ضرور ہے کہ مجاز مرسل کی جگہ مجاز عقلی ہوگا۔
لماعلمت ان اسناد الاقبال والادبار من ھھنا وھھنا لیس الیھما علی الحقیقۃ۔
کیونکہ تم جان چکے ہوکہ اِدھر سے اُدھر آنے جانے کی نسبت لیل ونہار کی طرف حقیقۃً نہیں ہے۔ (ت)
مگر اب تین۳ الفاظ کریمہ کے جمع ہونے سے سوال متوجہ ہوگا شك نہیں کہ اس معنی پر امور ثلثہ متلازم ہیں اور ایك کا ذکر باقی سے۔ مغنی ،
وھذا ماقالہ الامام النووی فی المنھاج ، قال العلماء ، کل واحد من ھذہ الثلثۃ یتضمن الاٰخرین ویلازمھما [3]۔
یہ وہی بات ہے جو امام نووی نے منہاج میں کہی ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ان تین میں سے ہر ایک ، باقی دو۲ کو یا تو متضمن ہوتا ہے یا ان کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ (ت)
اس کی اطیب توجیہ وہ ہے کہ علّامہ طیبی نے شرح مشکوٰۃ میں افادہ کی کہ :
انما قال وغربت الشمس ، مع الاستغناء عنہ لبیان کمال الغروب؛ کیلا یظن انہ اذاغرب بعض الشمس جاز الافطار[4]۔
آپ نے فرمایا “ اور سورج ڈوب جائے “ حالانکہ بظاہر اس کی ضرورت نہیں تھی ، تاکہ مکمل غروب کا بیان ہوجائے اور کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوکہ سورج کا کچھ حصّہ غروب ہونے سے افطار جائز ہوجاتا ہے۔ (ت)
علّامہ مناوی وغیرہ نے بھی اُن کی تبعیت کی۔ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے :
وزاد (وغربت الشمس) مع ان ماقبلہ کاف اشارۃ الی اشتراط تحقق کمال الغروب [5]۔
آپ نے فرمایا “ اور سورج ڈوب جائے “ فرمایا حالانکہ پہلے الفاظ کافی تھے ، اس میں اشارہ ہے کہ کامل غروب کا پایا جانا شرط ہے۔ (ت)
اقول : یہ توجیہ وجیہ صراحۃً ہمارے مدعائے مذکور کی طرف ناظر ہے نظر غائر میں بروجہ جلی اور قلت تدبر میں من طرف خفی یعنی اگرچہ لیل ونہار حقیقی مراد ہونے پر ذکرِ غروب کی حاجت نہ تھی کہ رات جبھی آئے گی کہ سُورج ڈوب چکے گا مگر سوا دو ضیا پر اُن کا حمل بعید نہیں خصوصًا جبکہ اقبال من ھھنا وادبار من ھھنا اُس پر قرینہ ظاہرہ ہیں تو اگر اس قدر پر قناعت فرمائی جاتی احتمال تھا کہ مجرد اقبال سواد وادبار ضیا پر وقت افطار سمجھ لیا جاتا حالانکہ اقبال لیل درکنار ہنوز بعض قرص غروب کو باقی ہوتا ہے کہ ضیا بھی معدوم ہوجاتی ہے لہذا وغربت الشمس (اور سورج ڈوب جائے۔ ت) زائد فرمایا کہ کوئی غروب بعض قرص کو کافی نہ سمجھ لے پُر ظاہر کہ اگر یہ اقبال وادبار اُسی وقت ہوتے جب پُورا قرض ڈوب لیتا تو اس احتمال وظن کا کیا محل تھا ذکر غروب سے استغنا بدستور باقی رہتا اور جواب محض مہمل جاتا تو صاف ثابت ہوا کہ سیاہی اٹھنا اور شعاع چھپنا دونوں غروب شمس سے پہلے ہو لیتے علامہ علی قاری نے بھی اس کلام طیب طیبی کو تحقیق بتایا اور حُسنِ قبول سے تلقی رمایا ،
حیث قال بعد نقلہ ، وقال بعض العلماء ، انما ذکر ھذین لیبین ان غروبھا عن العیون لایکفی لانھا قدتغیب ولاتکون غربت حقیقۃ ، فلابدمن اقبال اللیل [6]۔ اھ ثم ردہ بقولہ ، فیہ ان القید الثانی مستغن عنہ حینئذ ، وانما کان یتم کلامھم لوکان غربت مقدما [7]اھ ای انما کان یحتاج اذذاك الی دفع ذلك الوھم بذکر اقبال اللیل ، اما اذاذکر اولا ما ھو القاطع للوھم فای حاجۃ بعدہ الی ذکر الغروب الموھم؟ ثم قال : فیرجع الحکم الی ماحققہ الطیبی[8]۔ اھ فقدرجع الی مایفید تحقیق کلام الامام ابن حجر کماعلمت ، غیران المولی الفاضل رحمہ الله تعالٰی شدید الایلاع بالرد علیہ فی شرحیہ للمشکٰوۃ والشمائل ، حتی فی الواضحات الجلائل ، مع انہ من تلامذتہ ، رحمۃ الله تعالٰی علیہما وعلی سائر العلماء الکرام۔
چنانچہ علی قاری نے طیبی کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا ہے “ بعض علماء نے کہا ہے کہ آپ نے اقبال لیل اور ادبار نہار کا اس لئے ذکر کیا ہے تاکہ واضح کردیں کہ سورج کا آنکھوں سے غروب ہوجانا کافی نہیں ہے ، کیونکہ کبھی آنکھوں سے تو غائب ہوجاتا ہے مگر حقیقۃً ڈُوبا نہیں ہوتا “ ۔ پھر علی قاری نے اس کو یہ کہہ کر رَد کیا ہے کہ اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں دُوسری قید (یعنی وغربت الشمس) کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ علماء کی یہ بات تو تب تام ہوسکتی تھی جب “ غَربت “ (اقبال وادبار سے) پہلے مذکور ہوتا۔ علی قاری کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ آنکھوں سے غائب ہونا کافی نہیں ہے اس لئے اس تو ہّم کو دُور کرنے کیلئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بعد میں اقبال لیل کا ذکر کیا ہے مگر جب توہّم کو قطع کرنے والی چیز (یعنی اقبال لیل) کا ذکر پہلے ہی ہوچکا تھا ، تو پھر اس کے بعد توہّم پیدا کرنیوالی چیز(یعنی غروب) کو لانے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر علی قاری نے کہا ہے کہ آخر کار بات ادھر ہی لوٹ جاتی ہے جس کی تحقیق طیبی نے کی ہے۔ اس طرح علی قاری اسی فائدے کی طرف لوٹ آئے جو امام ابن حجر کے کلام کی تحقیق سے حاصل ہوتا ہے ، جیسا کہ تم جان چکے ہو۔ لیکن علی قاری مشکوٰۃ اور شمائل کی دونوں شرحوں میں ابنِ حجر کی ہر بات کی تردید کرنے سے خصوصی شغف رکھتے ہیں ، حتی کہ انتہائی واضح باتوں میں بھی (ابن حجر کی تردید کردیتے ہیں ) حالانکہ وہ ابن حجر کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ الله تعالٰی ان دونوں پر اور تمام علماء کرام پر رحمت نازل فرمائے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع