30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز مغرب کا وقت افق شرقی کی جڑ سے سیاہی نمودار ہوتے ہی معًا ہوجاتا ہے یا جب سیاہی بلند ہوجاتی ہے اُس وقت آفتاب ڈوبتا ہے برتقدیر ثانی وہ بلندی کتنے گز ہوتی ہے اور آبادیوں میں سیاہی شرق سے نظر آنے پر نماز کا وقت سمجھا جائے گا یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب : اقول : وبالله التوفیق (الله تعالٰی کی مدد سے کہتا ہوں ۔ ت) افق شرقی سے سیاہی کا طلوع قرص شمس کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہوتا ہے سیاہی کئی گز بلند ہوجاتی ہے اُس وقت آفتاب ڈوبتا ہے جس طرح قرض شمسی کے شرعی طلوع سے سیاہی غربی کا غروب بہت بعد ہوتا ہے آفتاب مرتفع ہوجاتا ہے اُس وقت تك سواد مرئی رہتا ہے اس پر عیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : لیس الخبر کالمعاینۃ [1](خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ۔ ت)جسے شك ہو طلوع وغروب کے وقت جنگل میں جاکر جہاں سے دونوں جانب افق صاف نظر آئیں مشاہدہ کرے جو کچھ مذکور ہُوا آنکھوں سے مشاہدہ ہوجائے گا الحمدالله عجائبِ قرآن منتہی نہیں ۔
کما فی حدیث الترمذی عن امیرالمؤمنین علی عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاتنقضی عجائبہ [2]۔
جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں امیرالمومنین علی ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ (ت)
ایك ذرا غور سے نظر کیجئے تو آیہ کریمہ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ٘-[3] (تُو ، رات کو دِن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ ت)کے مطالعہ رفیعہ سے اس مطلب کی شعاعیں صاف چمك رہی ہیں رات یعنی سایہ زمین کی سیاہی کو حکیمِ قدیر عزجلالہ ، دن میں داخل فرماتا ہے ہنوز دن باقی ہے کہ سیاہی اٹھائی اور دن کو سواد مذکور میں لاتا ہے ابھی ظلمتِ شبینہ موجود ہے کہ عروس خاور نے نقاب اٹھائی ،
فان ایلاج شیئ فی شیئ یقتضی وجودھما ، لاان یعدم احدھما فیعقبہ الاٰخر ، واللیل والنھار بمعنی الملوین متضادان لایجتمعان ، فلابد من التجوز۔ ومن اقرب وجوھہ ماذکر العبد ، من حمل اللیل علی السواد ، فیبقی النھار علٰی حقیقتہ ویظھر الایلاج من دون کلفۃ ، ولایتجاوز التجوز قدر الحاجۃ۔ ویمکن العکس ایضا ، بان یحمل النھار علی الاشعۃ الشمسیۃ واللیل علی حقیقتہ ، فیکون اشارۃ الٰی ظھور نور الشمس فی الافق الشرقی واللیل باق بعد ، کمافی الصبح الاول۔ وان ارید اللیل العرفی فاظھرو اکمل۔ والی حصول اللیل مع بقاء الضوء الشمسی فی الافق الغربی من الشفقین الاحمر والابیض وان کان الامام الفخر الرازی رحمہ الله تعالٰی لایرضی ان یجعل تلك الانوار من الشمس حتی الصبح الصادق ایضا ، کمااطال الکلام فیہ فی سورۃ الانعام ، تحت قولہ عزوجل فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ- [4] ولیس الامر کماظن ، واغتر بقولہ العلامۃ الزرقانی فظن ان ھذا مذھب منقول ، فنسبہ لاھل السنۃ ، مع انہ لیس الامن توسعات الامام فی البحث والکلام ولم یستدل لہ الاببحث عقلی ، لاتام ولاجلی۔ ومن البدیھی عندکل احدان الشفق والصبح اختان ، وماامرھما الاواحدا۔ وقداخرج ابی شیبۃ عن العوام بن حوشب قال : قلت لمجاھد ، ماالشفق؟ قال : ان الشفق من الشمس[5]۔ ذکرہ فی الدر المنثور ، تحت قولہ تعالٰی فلااقسم بالشفق ، بل فی التفسیر الکبیر تحت الکریمۃ ، اتفق العلماء علی انہ اسم للاثر الباقی من الشمس فی الافق بعد غروبھا [6]۔ اما دلیلہ العقلی فقدردہ العبد الضعیف بکلام لطیف ذکرتہ علی ھامشہ وبالله التوفیق۔
کیونکہ ایك چیز دوسری میں تبھی داخل کی جاسکتی ہے جب دونوں موجود ہوں ، نہ کہ ایك ختم ہوجائے اور اس کے بعد دوسری آئے۔ اور دلیل ونہار بمعنی رات دن ، آپس میں متضاد ہیں ، اکٹھے نہیں ہوسکتے ، تو مجازی معنی مراد لینا ضروری ہے۔ اور اس کا اقرب طریقہ وہی ہے جو بندے نے بیان کیا ہے کہ لیل سے مراد تاریکی لی جائے اور نہار اپنے حقیقی معنی میں ہو۔ اس طرح داخل کرنے کا مفہوم بغیر کسی تکلف کے ظاہر ہوجائے گا اور مجاز کی طرف ضرورت سے زیادہ نہیں جانا پڑے گا۔ اور اس کا عکس بھی ممکن ہے ، یعنی نہار سے مراد سورج کی شعاعیں لی جائیں اور لیل اپنی حقیقی معنی میں ہو۔ اس صورت میں آیت کے اندر اشارہ ہوگا کہ مشرقی افق میں سورج کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے اور رات ابھی باقی ہوتی ہے جیسا کہ صبح کاذب کے وقت ہوتا ہے۔ اور اگر لیل سے مراد لیل عرفی لی جائے تو یہ مفہوم مزید واضح اور کامل ہوجاتا ہے۔ نیز اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہوگا کہ مغربی افق میں شفق احمر اور ابیض کے دوران سورج کی روشنی باقی ہوتی ہے ، اس کے باوجود رات ہوجاتی ہے اگرچہ امام فخرالرازی ان روشنیوں کو ، حتی کہ صبح صادق کی روشنی کو بھی سو رج کی روشنی ماننے پر بھی راضی نہیں ہیں ، جیسا کہ سورہئ انعام کی تفسیر میں الله تعالٰی کے فرمان “ فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ- “ کے تحت انہوں نے اس موضوع پر لمبی گفتگو کی ہے ، حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح انہوں نے سمجھا ہے۔ ان کی گفتگو سے علامہ زرقانی کو دھوکہ ہُوا اور انہوں نے رازی کی رائے کو مذہبِ منقول سمجھ کر اہل سنّت کی طرف منسوب کردیا حالانکہ یہ ان توسعّات میں سے ہے جو امام رازی بحث اور کلام میں اختیار کرتے رہتے ہیں ۔ امام رازی نے اس پر کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی صرف ایك عقلی بحث کی ہے ، جو نہ تام ہے نہ واضح۔ اور یہ تو سب کے لئے بدیہی ہے کہ شفق اور صبح دونوں بہنیں ہیں اور ان کا معاملہ ایك جیسا ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے عوام ابن حوشب سے تخریج کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے پوچھا : “ شفق کیا ہے؟ “ انہوں نے جواب دیا : “ شفق سورج سے ہے “ ۔ یہ روایت دُرمنثور میں الله تعالٰی کے فرمان “ فلااقسم بالشفق “ کے تحت مذکور ہے۔ بلکہ تفسیر کبیر میں اسی آیت کے تحت لکھا ہے کہ علما کا اتفاق ہے کہ شفق سورج کے اس اثر کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے بعد افق پر باقی رہتا ہے۔ رہی امام رازی کی عقلی دلیل ، تو اس کو عبدِ ضعیف نے ایك لطیف کلام کے ساتھ رد کردیا ہے ، جو تفسیر کبیر کے حاشیے پر مرقوم ہے ، وبالله التوفیق۔ (ت)
قرآن عظیم کا نائب کریم کلام صاحبِ جوامع الکلم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہے صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومسند امام احمد میں امیرالمومنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
اذااقبل اللیل من ھھنا وادبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد افطر الصائم [7]۔
جب ادھر سے رات آئے اور اُدھر سے دن پیٹھ دکھائے اور سورج پُورا ڈوب جائے تو روزہ دار کا روزہ پُورا ہوچکا۔ (ت)
لیل سے مراد سیاہی ہے اور نھار سے مقصود ضوء فان الاقبال من ھھنا والادبار من ھھنا انما یکون لھما (کیونکہ تاریکی اور روشنی ہی ادھر سے آتی ہیں اور اُدھر جاتی ہیں ۔ ت) تیسیر میں ہے : اذا اقبل اللیل ، یعنی ظلمتہ ، وادبر النھار ، ای ضوؤہ[8]۔ جب کہ رات آئے ، یعنی اس کی تاریکی ، اور دن واپس جائے ، یعنی اس کی روشنی۔ تعالمِ ماکان ومایکون صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے تینوں لفظ اُسی ترتیب سے ارشاد فرمائے جس ترتیب سے واقع ہوتے ہیں ، پہلے سیاہی اُٹھتی ہے اُس وقت تك اگر اُفق صاف اور غبار وبخار سے پاك ہو آفتاب کی چمك باقی رہتی بلکہ قلل جبال واعالی اغصان شجر پر عکس ڈالتی ہے پھر جب قرص چھپنے پر آیا تکاثفِ ابخرہ افقیہ وکثرت بعد عن الابصار وطول مرور شعاع البصر فی ثخن کرۃ البخار کے باعث روشنی بالکل محتجب ہوجاتی ہے مگر ہنوز قدرے قرص بالائے افقِ مرئیِ شرعی باقی ہے اس کے بعد آفتاب ڈوبتا اور وقت افطار ونماز آتا ہے اس صاف ونفیس وبے تکلف معنی پر بحمدالله تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع