30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

ہے تو آفتاب اور نگاہ میں اس کا جتنا زائد حصّہ حاصل ہوگا اتنا ہی نور کم نظر آئے گا اور نگاہ زیادہ ٹھہرے گی ہ مرکز شمس ہے ا ہ ہر طرف وہ خطّہ ہے جو نگاہ ناظر سے شمس پر گزرتا ہے پہلے نمبر پر آفتاب افقِ شرقی سے طلوع میں ہے اور دوسرے تیسرے نمبر پر چڑھتا ہوا ساتویں نمبر پر افق غربی پر غروب کے پاس پہنچا ظاہر ہے کہ جب آفتاب پہلے نمبر پر ہے تو خطہ ا ہ کا حصّہ ا ر کرہئ بخار میں گزرا اور دوسرے پر ا ح تیسرے پر ا ط چوتھے پر ا ح ، اور اقلیدس سے ثابت ہے کہ ان میں ا ر سب سے بڑا ہے اور آفتاب جتنا اُونچا ہوتا جاتا ہے ا ح ا ط وغیرہ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں کہ یہاں تك کہ نصف النہار پر خط ا ح سب سے چھوٹا رہ جاتا ہے ہم نے اپنے محاسبات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ خط ا ح یعنی دوپہر کے وقت کا خط پانسو اٹھانوے۵۹۸ میل سے بھی زائد ہے پھر جب آفتاب ڈھلکتا ہے وہ خطوط اسی نسبت پر بڑے ہوتے جاتے ہیں ا ی برابر ا ط کے پڑتا ہے اور ا ك برابر ا ح کے اور ا ل برابر ا ر کے ہے یہاں سے واضح ہوگیا کہ یہ قدرتی دائمی سبب ہے جس کے باعث آفتاب جب نصف النہار پر ہوتا ہے اپنی انتہائی تیزی پر ہوتا ہے اور اُس سے پہلے اور بعد دونوں پہلوؤں پر جتنا افق سے قریب تر ہوتا ہے اُس کی شعاع دھیمی ہوتی ہے یہاں تك کہ شرق وغرب میں ایك حد کے قرب پر اصلًا نگاہ کو خیرہ نہیں کرتی مشرق میں جب تك اس حد سے آفتاب نکل کر اونچا نہ ہوجائے اُس وقت تك نماز منع اور وقت کراہت کا ہے اور مغرب میں جب آفتاب اس حد کے اندر آجائے اُس وقت سے غروب تك نماز منع اور وقت کراہت کا ہے ، تو اس بیان سے سبب بھی ظاہر ہوگیا اور یہ بھی کھُل گیا کہ مشرق ومغرب دونوں جانب میں یہ وقت برابر ہے نہ یہ کہ مشرق کی طرف ، تو یہ وقت پندرہ بیس منٹ رہے جو تقریبًا ایك نیزہ بلندی کی مقدار ہے اور مغرب میں ڈیڑھ دو گھنٹے ہوجائے جو اُس سے کئی نیزے زائد ہے تجربہ سے یہ وقت تقریبًا بیس منٹ ثابت ہُوا ہے تو جب سے آفتاب کی کرن چمکے اُس وقت سے بیس منٹ گزرنے تك نماز ناجائز اور وقت کراہت ہوا اور ادھر جب غروب کو بیس منٹ رہیں وقتِ کراہت آجائے گا ، اور آج کی عصر کے سوا ہر نماز منع ہوجائے گی۔ ہاں یہ جو بعض کا خیال ہے کہ آفتاب متغیر ہونے سے مراد دھوپ کا مَیلا ہونا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں ، جاڑے کے موسم میں تو آفتاب ڈھلکنے کے تھوڑی ہی دیر بعد کہ ابھی سایہ ایك مثل بھی نہیں پہنچتا اور بالاجماع وقتِ ظہر باقی ہوتا ہے یقینا آفتاب بہت متغیر ہوجاتا ہے اور بین طور پر دُھوپ میں زردی پیدا ہوجاتی ہے تو چاہئے کہ عصر کا وقت آنے سے پہلے ہی وقتِ کراہت آجائے اور نماز بے کراہت مل ہی نہ سکے اور یہ صریح باطل ومحال ہے ، ابو السعود علی الکنز اور طحطاوی علی الدر میں ہے :
المراد ان یذھب الضوء فلایحصل للبصر بہ حیرۃ ولاعبرۃ لتغیر الضوء لان تغیر الضوء یحصل بعد الزوال [1]۔
یعنی تغیر آفتاب سے مراد یہ ہے کہ اُس کی روشنی جاتی رہے تو نگاہ کو اس سے خیرگی حاصل نہ ہو اور دھوپ کا تغیر کچھ معتبر نہیں کہ یہ تو زوال کے بعد ہوجاتا ہے (ت)
بالجملہ سخن تحقیق وہ ہے جو ائمہ نے کتاب الاسرار وبحرالرائق وغیرہما میں تصریح فرمائی کہ جس نماز میں تاخیر مستحب ہے جیسے فجر وعصر وغیرہما ، وہاں تاخیر کے یہ معنی ہیں کہ وقت کے دو۲ حصّے کریں نصف اول چھوڑ کر نصف آخر میں پڑھیں اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں وقت سے مراد وقتِ مستحب ہے کہ وقتِ مستحب کے نصف آخر میں پڑھیں ، جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا اب تعیین وقت کے لئے مثل ثانی کے وقت کا تخمینہ لکھیں جس سے ظہر وعصر کا اندازہ ہوسکے وہ یہ کہ ۲۱ مارچ تحویلِ حمل اور ۲۳۔ ۲۴ ستمبر تحویل میزان میں ختم مثل ثانی یعنی شروع وقت عصر حنفی سے آفتاب کے غروب شرعی تك ان بلاد میں ایك گھنٹا ۴۱ منٹ باقی ہوتے ہیں اور ۲۰۔ ۲۱۔ اپریل تحویل ثور اور ۲۳۔ ۲۴۔ اگست تحویل سنبلہ کو ایك گھنٹا ۵۰ منٹ ہوتے ہیں اور ۲۱۔ ۲۲ مئی تحویل جوزا اور ۲۳ جولائی تحویل اسد کو دو۲ گھنٹہ ایك منٹ اور ۲۳ جون تحویل سرطان کو دو۲ گھنٹے ۶ منٹ ، اور یہ سال میں سب سے بڑا وقت عصر ہے کہ اس سے زیادہ ان بلاد میں کبھی نہیں ہوتا اور ۲۴۔ اکتوبر تحویل عقرب اور ۱۹ فروری تحویل حوت کو ایك گھنٹا۳۶ منٹ اور ۲۲۔ ۲۳ نومبر تحویل قوس سے ۲۲ دسمبر تحویل جدی اور پھر ۲۰۔ ۲۱$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع