30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت مولٰنا العلام والحبر القمقام حامی السنۃ قامع البدعۃ بقیۃ السلف حجۃ الخلف مولانا الحاج المولوی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی بعد السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ واضح رائے عالی متعالی ہوکہ ان دنوں یہاں کہ علما بلکہ چار پانچ علمائے ہند مثل حضرت مولانا مولوی لطف الله صاحب علی گڈھی وجناب مولوی محمد منصور علی خان صاحب مراد آبادی وجناب مولوی محمد یعقوب صاحب اعظم گڈھی وغیرہم نے مثلین سوی الزوال کا فتوٰی دیا بعدہ ، مولوی عبدالوہاب صاحب بہاری صدر مدرس مدرسہ نظامیہ نے سب علماء کے فتوے کو رَد کردیا اور لکھا کہ امام اعظم رحمۃ الله تعالٰی قول مثلین سے رجوع کرکے قول صاحبین کی طرف آگئے ہیں اب التماس ہے کہ آپ اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ۔ خادم الطلبہ محمد عبدالخالق
الجواب :
مولانا السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ، قول سیدنا الامام الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوہی مثلین بعد فیئ الزوال ہے اور وہی احوط وہی اصح وہی من حیث الدلیل ارجح اسی پر اجماع واطباق جملہ متون متین وہی مختار ومرضی جمہور محققین شارحین اُسی پر افتاے اکثر کبراےائمہ مفتین امام کا اس سے رجوع فرمانا ثابت نہیں اجماع متون مذہب موضوعہ لنقل المذہب کے حضور بعض حکایات شاذہ خاملہ غیر محفوظہ قابلِ لحاظ کب ہوئیں بلکہ قول یك مثل ہے مرجوع عنہ ہے۔
لماصرح بہ فی البحر والخیریۃ وردالمحتار
کیونکہ بحر ، خیریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں تصریح ہے کہ
وغیرھا ان کل ماخرج عن ظاھر الروایۃ فھو مرجوع عنہ [1]۔ ھذا ولکل وجھۃ ھو مولیھا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-[2]۔ وفقناالله تعالٰی لھا وتقبلھا منا بالکرم والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جو قول ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو اس سے رجوع کیا جاچکا ہوتا ہے۔ اور ہر ایك کی ایك سمت ہے جس کی جانب وہ منہ کرتا ہے تو نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ الله تعالٰی ہمیں نیکیوں کی توفیق دے اور اپنے کرم سے انہیں قبول فرمائے۔ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ، وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ (۲۷۳) از کلکتہ فوجداری بالاخانہ نمبر ۳۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکتہ میں آج کل آفتاب 61 / 2بجے طلوع ہوتا ہے اور پونے چھ بجے غروب اور نمازِ عصر پونے چار بجے ادا کی جاتی ہے کہ اُس وقت سایہ سوائے سایہ اصلی کے دو مثل کسی طرح نہیں ہوتا اس صورت میں نماز مذہب مفتی بہ کے موافق ہوئی یا نہیں اور ایسی حالت میں جماعت میں شریك ہونا چاہیئے یا جماعت کا ترك اختیار کیا جائے صرف حکم چاہتا ہوں مجھے دلائل کی ضرورت نہیں ، بینوا توجروا۔
الجواب :
حضرت سیدنا امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك جب تك سایہ ظل اصلی کے علاوہ دو مثل نہ ہوجائے وقتِ عصر نہیں آتا اور صاحبین کے نزدیك ایك ہی مثل کے بعد آجاتا ہے اگرچہ بعض کتب فتاوٰی وغیرہ تصانیف بعض متاخرین مثل برہان طرابلسی وفیض کرکی ودرمختار میں قول صاحبین کو مرجح بتایا مگر قولِ امام ہی احوط واصح اور ازروئے دلیل ارجح ہے ، عمومًا متون مذہب قولِ امام پر جزم کیے ہیں اور عامہ اجلہ شارحین نے اُسے مرضی ومختار رکھا اور اکابرائمہ ترجیح وافتا بلکہ جمہور پیشوایانِ مذہب نے اُسی کی تصحیح کی ، امام۱ ملك العلما ابوبکر مسعود نے بدائع اور امام۲ سرخسی نے محیط میں فرمایا : ھو الصحیح [3] (یہی صحیح ہے)۔ امام۳ اجل قاضیخان نے اسی کو تقدیم دی اور وہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو اظہر من حیث الدرایۃ اور اشہر من حیث الروایۃ ہو [4]۔ کمانص علیہ فی خطبۃ الخانیۃ (جیسا کہ خانیہ کے خطبہ میں یہ بات صراحۃً مذکور ہے۔ ت) اور وہی قول معتمد ہوتا ہے کمافی الطحطاوی والشامی (جیسا کہ شامی اور طحطاوی میں ہے۔ ت) یونہی۴ امام طاہر بخاری نے خلاصہ میں اسے تقدیم دی۔ امام اجل۵ برہان الدین صاحبِ ہدایۃ نے ہدایہ اور امام۶ اجل ابوالبرکات نسفی نے کافی اور امام۷ زیلعی نے تبیین الحقائق میں اسی کی دلیل مرجح رکھی ، امام۸ اجل محبوبی نے اسی کو اختیار فرمایا۔ امام۹ صدرالشریعۃ نے اسی پر اعتماد کیا وہ چند متأخرین اعنی مصنفین برہان وفیض ودرمختار ان اکابر میں ایك کی بھی جلالتِ شان کو نہیں پہنچتے۔ فتاوٰی۱۰ غیاثیہ وجواہر۱۱ اخلاطی میں فرمایا : ھو المختار یہی مختار ہے) علامہ۱۲ قاسم نے تصحیح قدوری میں اسی کی تحقیق کی ، امام۱۳ سمعانی نے خزانۃ المفتین میں اسی پر اقتصار فرمایا قول خلاف کا نام بھی نہ لیا ، امام۱۴ محمود عینی نے اسی کی تائید فرمائی ، ملتقی۱۵ الابحر میں اسی کو مقدم رکھا اور وہ اسی کو تقدیم دیتے ہیں جو ارجح ہو کماذکر فی خطبتہ جیسا کہ اس کے خطبے میں ذکر کیا گیا ہے۔ ت) اور وہی مختار للفتوٰی ہوتا ہے کمافی شرحہ[5] مجمع الانھر (جیسا کہ اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے ت) مراقی۱۶ الفلاح میں ہے ھو الصحیح وعلیہ جل المشایخ والمتون [6] (یہی صحیح ہے اور اسی پر بزرگ مشایخ ومتون مذہب ہیں )طحطاوی۱۷ علی المراقی میں ہے صححہ جمھور اھل المذھب [7] (جمہور ائمہ مذہب نے اسی کی تصحیح فرمائی) نقایہ۱۸ میں روایت خلاف کی تضعیف فرمائی شرح۱۹ المجمع للمصنف میں ہے انہ المذھب واختارہ اصحاب المتون وارتضاہ الشارحون [8] (مذہب یہی ہے اور اسی کو اصحابِ متون نے اختیار فرمایا اور اسی کو شارحین نے مرضی وپسندیدہ رکھا)ینابیع۲۰ وعلمگیری۲۱ میں ہے ھو الصحیح [9] (یہی صحیح ہے) جامع۲۲ الرموز میں اسی کو مفتٰی بہ بتایا ، السراج۲۳ المنیر میں ہے علی قولہ الفتوی [10](امام ہی کے قول پر فتوٰی ہے)بحر۲۴الرائق پھر ردالمحتار۲۵$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع