30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نماز کی حاضری لینے اور جرمانہ کرنے کا کہاں تك ازروئے شرع جائز ہے اس لحاظ سے کہ طالب علم خصوصا انگریزی کے نماز کی طرف شاید بوجہ اثر نئی روشنی کے رجوع نہ ہوں لہذا ضرورۃً اس قسم کی کارروائی مناسب ہے اور ایسا کیا جاسکنے میں چنداں حرج نہیں ہے آیا یوں صحیح ہے۔ فقط
الجواب :
تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں ۔ درمختار میں ہے :
لاباخذ مال فی المذھب [1] بحر۔
مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ بحر (ت)
اُسی میں ہے :
وفی المجتبٰی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ [2]۔
اور مجتبٰی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھا ، پھر منسوخ کردیا گیا۔ (ت)
ردالمحتار میں بحر سے ہے :
وافاد فی البزازیۃ ، ان معنی التعزیر باخذ المال ، علی القول بہ ، امساك شیئ من مالہ عندہ مدۃ لینزجر ، ثم یعیدہ الحاکم الیہ ، لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال ، کمایتوھمہ الظلمۃ ، اذلایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی[3]
اور بزازیہ میں افادہ کیا ہے کہ مالی تعزیر کا قول اگر اختیار کیا بھی جائے تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ اس کا مال کچھ مدّت کے لئے روك لینا تاکہ وہ باز آجائے ، اس کے بعد حاکم اس کا مال لوٹادے ، نہ یہ کہ حاکم اپنے لیے لے لے یا بیت المال کیلئے ، جیسا کہ ظالم لوگ سمجھتے ہیں ، کیونکہ شرعی بسبب کے بغیر کسی کا مال لینا مسلمان کے لئے روا نہیں ۔ (ت)
ہاں وہ طلبہ جن کو وظیفہ دیا جاتا ہے اُن کے وظیفہ سے وضع کرلینا جائز ہے فانہ لیس اخذ شیئ من ملکھم بل امتناع تملیك شیئ منھم (کیونکہ یہ ان کی ملکیت سے کوئی چیز لینا نہیں ہے بلکہ اس چیز کو ان کے ملك میں جانے سے روکنا ہے۔ ت) یا جو طلبہ فیس نہیں دیتے جس روز جماعت میں حاضر نہ ہوں دوسرے روز ان سے کہا جائے کل تم نے جماعت قضا کی آج بغیر اتنی فیس دیے تم کو سبق نہ دیا جائیگا اور جو ماہوار فیس دیتے ہیں اُس مہینے تو اُن سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، دوسرے مہینے کے شروع پر اُن سے کہا جائے کہ گزشتہ مہینے میں تم نے اتنی جماعتیں قضا کیں آئندہ مہینے تمہیں تعلیم نہ دی جائے گی جب تك اس قدر زائد فیس نہ داخل کرو وذلك لان الاجارۃ تنعقد شیئا فشیئا (اور یہ اس لئے کہ اجارہ بتدریج منعقد ہوتا ہے۔ ت) یا یہ صورت ممکن ہے کہ ہر مہینے کے شروع میں طلبہ کو کوئی خفیف قیمت کی چیز مثلًا قلم یا تھوڑی سی روشنائی یا کاغذ تقسیم کیا جائے اور یہ تقسیم بطور بیع ہو اُس قیمت کو جو انتہائی جرمانہ قضائے جماعت کا اُن کے ذمّے ہوسکے مثلًا یہ قلم سات روپے کو ہم نے تمہارے ہاتھ بیع کیا اور اُن سے کہہ دیا جائے کہ یہ بیع قطعی ہے اس میں کوئی شرط نہیں ہم اس سے جدا ایك وعدہ احسانی تم سے کرتے ہیں کہ اگر تم نے اس مہینے میں بلاعذر صحیح شرعی کوئی جماعت قضا نہ کی تو سرماہ پر یہ زرثمن تمام وکمال تمہیں معاف کردیں گے اس صورت میں بھی قضائے جماعت کی حالت میں وہ ثمن کل یا بعض اُن سے وصول کرلینا جائز ہوگا۔
ولایلزم فساد البیع بالشرط المعھود القائم مقام الملفوظ ، لتقدم التصریح بنفیہ ، و الصریح یفوق الدلالۃ[4] ، کماافادہ الامام قاضیخان فی فتاواہ۔ والله تعالٰی اعلم۔
اور شرط معہود سے ، جوکہ ملفوظ کے قائم مقام ہو ، بیع کا فاسد ہونا لازم نہیں آتا ، کیونکہ پہلے اس کی صراحۃً نفی ہوچکی ہے اور صراحت کو دلالت پر ترجیح حاصل ہے جیسا کہ امام قاضیخان نے اپنے فتاوٰی میں افادہ کیا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۶ : از بشارت گنج مرسلہ فتح محمد صاحب ۱۲ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا جہاز پر یا چلتی ریل گاڑی میں نماز کی بابت کیا حکم ہے اگر سنّت وفرض ونفل ادا کیے جائیں تو ہوتے ہیں یا نہیں ۔ بینوا توجروا۔
الجواب
چلتے جہاز خواہ لنگر کیے ہوئے اور کنارے سے میلوں دُور ہو اُس پر نماز جائز ہے اور ناؤ اگر کنارے پر ٹھہری ہے اور جہاز کی طرح زمین پر نہیں بلکہ پانی پر ہے اور یہ اُتر کر کنارے پر نماز پڑھ سکتا ہے تو ٹھہری ہُوئی ناؤ میں بھی فرض اور وتر اور صبح کی سُنتیں نہ ہوسکیں گے اور چلتی ہوئی میں بدرجہ اولٰی نہ ہوں گے جیسے سیر دریا کے بجرے کنارے کنارے جاتے ہیں اور انہیں روك کر زمین پر نماز پڑھ سکتے ہیں اور اگر اُتر کر کنارے پر نماز نہ پڑھ سکنا اپنی ذاتی معذوری سے ہے تو ہر نماز ہوجائے گی اور اگر کسی کی ممانعت کے سبب ہے تو پڑھ لے اور پھر پھیرے یہی حکم ریل کا ہے ٹھہری ہُوئی ریل میں سب نمازیں جائز ہیں اور چلتی ہوئی میں سنّتِ صبح کے سوا سب سنّت ونفل جائز ہیں مگر فرض ووتر یا صبح کی سنتیں نہیں ہوسکتیں اہتمام کرے کہ ٹھہری میں پڑھے اور دیکھے کہ وقت جاتا ہے پڑھ لے اور جب ٹھہرے پھر پھیرے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷ تا ۲۵۹ : از گوری ڈاج نہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب ۳۰رجب ۱۳۳۶ھ
زید پیکر اشیاء مسکرہ حالت حواس خمسہ وطہارت جسم وجامہ وعدم موجودگی بدبو کے مسجد میں نماز اداکرتا ہے پس ان صورتوں میں نماز مقبول ہُوئی یا نہیں وحکم سکر کہاں تك مذہب امام ابوحنیفہ میں ہے۔
(۲) ایك شخص نے چار پیالے تاڑی پی اُسے نشہ نہیں ہُوا اور بدبُو بھی باقی نہیں نماز اداکی ہوئی یا نہیں ۔
(۳) نمازِ ظالم وربوٰ خوار مقبول ہے یا نہیں ؟ معاصیِ ربٰو خوار وشراب خور میں کسی قدر فرق ہے ونماز جنازہ ربوٰ خوار ، شراب خور وظالم مومنین کی جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
طبرانی نے بسند حسن سائب بن یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
من شرب مسکرا ماکان لم تقبل لہ صلاۃ اربعین یوما [5]۔
جو کوئی نشہ کی چیز پئے چالیس دن اس کی نماز قبول نہ ہو۔ (م)
مگر وعیدات سب مقید مشیت ہیں وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-[6](اس سے (یعنی شرك سے) کم تر گناہ ، جس کے چاہے بخش دے۔ ت)صورت مذکورہ میں صحتِ نماز وادائے فرض میں شبہہ نہیں رہا قبول محلِ عدل میں اُس کی شرط عظیم ہے قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷) [7] (الله تعالٰی متقین ہی سے قبول کرتا ہے۔ ت)اور مقامِ فضل حدث عن البحر بماشئت ولاحرج (سمندر کے جُود وسخا کے بارے میں جو چاہو بیان کرو ، اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع