30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ھی فرض علٰی کل مسلم مات ، خلا اربعۃ ، بغاۃ ، وقطاع طریق اذاقتلوا فی الحرب ، ومکابر فی مصرلیلا ، وخناق خنق غیر مرۃ [1]۔
نماز جنازہ ہر مسلمان کی فرض ہے ، جبکہ وہ مرجائے۔ سوائے چار آدمیوں کے ، باغی ، ڈاکو جبکہ لڑائی میں مارے جائیں ، رات کو شہر میں غنڈہ گردی کرنیوالا اور گلا گھُونٹنے والا جس نے کئی مرتبہ یہ کارروائی کی ہو۔ (ت)
اسی طرح غسل دینا ، مقابرِ مسلمین میں دفن کرنا اماتنا الله تعالٰی علی الاسلام الصادق ، انہ رؤف رحیم ، اٰمین۔ وصلی الله تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔ اٰمین۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ(۲۵۲) : ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۲ہجریہ مقدسہ۔
جناب مولوی صاحب دام اقبالکم۔ بعد سلام علیك کے ملتمس ہُوں کہ اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس نے نماز کو چھوڑا اُس میں اور مشرك میں کچھ فرق نہیں ، تو عرض یہ ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو اکثر لوگ بے نماز ہیں کیا وہ سب لوگ شرك میں داخل ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ جو کچھ آیت وحدیث کا اس بارہ میں حکم ہو تحریر فرمائیے تاکہ معلوم ہو۔ بینوا تؤجروا۔
الجواب :
بلاشبہہ حدیث میں آیا ہے کہ ہم میں اور مشرکوں میں فرق نماز کا ہے۔ اس میں شك نہیں کہ جو نماز کا تارك ہے وہ مشرکوں کے فعل میں اُن کا شریك ہے پھر اگر دل سے بھی نماز کو فرض نہ جانے یا ہلکا سمجھے جب تو سچّا مشرك پورا کافر ہے ورنہ اُس کا یہ کام کافروں مشرکوں کا سا ہے اگرچہ وہ حقیقۃً کافر مشرك نہ ٹھہرے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ(۲۵۳) : از جُوناگڑھ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیر الدین صاحب۲۰ رجب ۱۳۱۶ھ
ایك واعظ برسرِ مجلس بیان کرتا ہے کہ جس شخص نے ایك وقت کی نماز قصدًا ترك کی اس نے ستّر مرتبہ بیت الله میں اپنی ماں سے زنا کیا ، مستفتی خوب جانتا ہے کہ بے نمازی سے بُرا الله کے نزدیك کوئی نہیں اور شرع شریف میں اس کیلئے وعید بھی سخت آئی ہے مگر دریافت طلب یہ امر ہے کہ الفاظ مذکورہ کتاب وسنّت واختلافِ ائمہ سے ثابت ہیں یا نہیں ، برتقدیر ثبوت نہ ہونے کے قائل کی نسبت شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب :
معاذ الله کسی وقت کی نماز قصدًا ترك کرنا سخت کبیرہ شدیدہ وجریمہ عظیمہ ہے جس پر سخت ہولناك جانگزا وعیدیں قرآنِ عظیم واحادیث صحیحہ میں وارد ، مگر بدمذہب اگرچہ کیسا ہی نمازی ہو الله عزّوجل کے نزدیك سنی بے نماز سے بدر جہا بُرا ہے کہ فسقِ عقیدہ فسقِ عمل سے سخت تر ہے اور صرف گناہانِ جوارح میں کلام کیجئے تو مسلمان کو عمدًا ناحق قتل کرنا ترك نماز سے سخت تر ہے اُس پر اگر احادیث میں حکم کفر ہے اس پر خود قرآن عظیم میں حکم خلود فی النار ہے [2] والعیاذ بالله تعالٰی۔ واعظ نے جو مضمون بیان کیا اس کے قریب قریب دربارہ سُور خوار احادیث مرفوعہ حضرت ابوہریرہ وحضرت اسود زہری خال رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموحضرت براء بن عازب وحضرت عبدالله بن سلام وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن عباس وآثار موقوفہ حضرت امیرالمومنین عثمان غنی وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممیں ابن ماجہ وابن ابی الدنیا وابن جریر وبیہقی وابن مندہ وابونعیم وطبرانی وحاکم وابنِ عساکر وبغوی وعبدالرزاق کے یہاں مروی وقدذکرناھا بتخاریجھا فی کتاب البیوع من فتاوٰنا (اس کو ہم نے تمام تخریجوں کے ساتھ اپنے فتاوٰی کی کتاب البیوع میں بیان کیا ہے۔ ت) مگر ان میں سے کسی میں بیت الله کا ذکر نہیں ، البتہ ایك حدیثِ صحیح میں حطیم کعبہ کا ذکر ہے کہ ظنًا زمینِ کعبہ ہے نہ یقینا ، اُس میں ماں کا لفظ نہیں ۔ امام احمد وطبرانی عبدالله بن حنظلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بسندِ صحیح راوی رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
درھم ربا یاکلہ الرجل ، وھو یعلم ، اشد عندالله من ستۃ وثلثین زنیۃ فی الحطیم [3]۔
ایك درم سُود کا کہ آدمی دانستہ کھالے الله تعالٰی کے نزدیك حطیمِ کعبہ میں چھتیس۳۶ بار زنا کرنے سے سخت تر ہے۔ (م)
اور دربارہ ترك نماز اگرچہ اس سے سخت تر مذمت ارشاد ہوئی یہاں تك کہ احادیثِ مرفوعہ حضرت جابر بن عبدالله وحضرت بریدہ اسلمی وحضرت عبادہ بن صامت وحضرت ثوبان وحضرت ابوہریرہ وحضرت عبدالله بن عمرو حضرت انس بن مالك وحضرت عبدالله بن عباس وآثار موقوفہ حضرت امیر المومنین علی مرتضٰی وحضرت عبدالله بن عباس وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت جابر بن عبدالله وحضرت ابودرداء وغیرہم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممیں احمد ومسلم وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ وابنِ حبان وحاکم وطبرانی ومحمد بن نصر مروزی وہروی وبزار وابویعلی وابوبکر بن ابی شیبہ وتاریخ بخاری وابن عبدالبر وغیرہم کے یہاں ترك نماز پر صراحۃً حکم کفر وبے دینی مروی کمافصلہ الامام المنذری فی الترغیب (جیسا کہ امام منذری نے ترغیب میں پوری تفصیل بیان کی ہے۔ ت) مگر اس بارہ میں وہ الفاظ کہ واعظ نے ذکر کیے اصلًا نظر سے نہ گزرے ، واعظ سے سند مانگی جائے اگر سند معتبر پیش نہ کرسکے تو بے ثبوت ایسے ادعاجہل فاضح ہیں اور گناہ واضح والعیاذ بالله رب العٰلمین والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ(۲۵۴) : از غازی پور محلہ میاں پُورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور۱۷ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك وقت کی نماز قضا کرنے سے بھی آدمی فاسق کہا جاتا ہے یا نہیں ؟
الجواب :
ہاں جو ایك وقت کی نماز بھی قصدًا بلاعذر شرعی دیدہ ودانستہ قضا کرے فاسق ومرتکب کبیرہ ومستحق جہنم ہے والعیاذ بالله تعالٰی والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ (۲۵۵) : از پیلی بھیت مدرسۃ الحدیث ۸ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
بکر نے ایك عالم کے فرمانے سے مسلمانوں کے رُوبرو یہ تجویز پیش کی کہ جو شخص نماز نہ پڑھے اُس کو حقّہ پانی نہ دیا جائے اور جتنے وقت کی نماز نہ پڑھے ایك پیسہ جرمانہ ہونا چاہئے۔ زید نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس طور کی نماز پڑھوانی زینہ دوزخ کا ہے اس بارہ میں حکمِ شریعت کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
حقّہ پانی نہ دینے کی تجویز ٹھیك ہے اور مالی جرمانہ جائز نہیں ۔ لانہ شیئ کان ونسخ کمابینہ الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ الله تعالٰی (کیونکہ یہ چیز پہلے تھی لیکن بعد میں منسوخ ہوگئی تھی جیسا کہ امام ابوجعفر الطحاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بیان کیا ہے۔ ت) مگر زید کا وہ کلمہ بہت بُرا اور سخت بیجا ہے فان المصادرۃ المالیۃ تجوز عند الامام الشافعی رضی الله تعالٰی عنہ (کیونکہ مالی جرمانہ امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نزدیك جائز ہے۔ ت) نماز پڑھوانا زینہ دوزخ نہیں بلکہ نہ پڑھنا۔ زید توبہ کرے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ : از علی گڑھ کالج کمرہ نمبر ۶$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع