30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذھب الجمھور ، منھم اصحابنا ومالك والشافعی واحمد فی روایۃ ، الی انہ لایکفر۔ ثم اختلفوا فی انہ ھل یقتل بھذا الترک؟ فقال الائمۃ الثلاثۃ ، نعم ، ثم ھل یکون حدًا اوکفرًا؟ فالمشھور من مذھب مالک ، وبہ قال الشافعی ، انہ حد۔ وکذا عند احمد فی ھٰذہ الروایۃ الموافقۃ للجمھور فی عدم الکفر [1]۔
جمہور ، جن میں ہمارے علماء بھی شامل ہیں اور مالك وشافعی اور ایك روایت کے مطابق احمد بھی ، کی رائے یہ ہے کہ اس کو کافر نہیں کہا جائیگا۔ پھر ان میں اختلاف ہے کہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے گا یا نہیں ؟ تو تین اماموں نے کہا ہے کہ ہاں (قتل کیا جائے گا) پھر یہ قتل بطور حد ہوگا یا کفر کی وجہ سے؟ تو مالك کا مشہور مذہب یہ ہے کہ بطور حد ہوگا۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں اور احمد بھی ، اپنی اس روایت کے مطابق جو جمہور کے موافق ہے ، یعنی عدمِ کفر والی روایت۔ (ت)
اور اس طرف بحمدالله نصوص شرعیہ سے وہ دلائل ہیں جن میں اصلًا تاویل کو گنجائش نہیں بخلاف دلائل مذہب اول کہ اپنے نظائر کثیرہ کی طرح استحلال واستخفاف وجحود وکفران وفعل مثل فعل کفار وغیرہا تاویلات کو اچھی طرح جگہ دے رہے ہیں یعنی فرضیتِ نماز کا انکار کرے یا اُسے ہلکا اور بے قدر جانے یا اُس کا ترک حلال سمجھے تو کافر ہے یا یہ کہ ترك نماز سخت کفرانِ نعمت وناشکری ہے۔
کماقال سیدنا سلیمٰن علیہ الصلاۃ والسلام لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-[2]۔
جیسا کہ سیدنا سلیمٰن علیہ السلام نے فرمایا “ تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزار بنتا ہوں یا ناشکرا “
یا یہ کہ اُس نے کافروں کا سا کام کیا ،
الی غیر ذلك مماعرف فی موضعہ۔ ومن الجادۃ المعروفۃ ردالمحتمل الی المحکم ، لاعکسہ ، کمالایخفی ، فیجب القول بالاسلام۔
اس کے علاوہ اور بھی توجیہات ہیں جن کی تفصیل ان کے مقام پر ملے گی ، اور معروف راستہ یہی ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف لوٹایا جائے ، نہ کہ اس کا اُلٹ ، جیسا کہ ظاہر ہے ، اس لئے اسلام کا ہی قول کرنا پڑے گا۔ (ت)
ادھر کے بعض دلائل حلیہ وغیرہا میں ذکر فرمائے از انجملہ حدیث عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : خمس صلوات کتبھن الله علی العباد (پانچ نمازیں خدا نے بندوں پر فرض کیں ) الٰی قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من لم یأت بھن فلیس لہ عندالله عھد ان شاء عذبہ وان شاء ادخلہ الجنۃ [3](جو اُنہیں نہ پڑھے اس کے لئے خدا کے پاس کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اُسے عذاب فرمائے اور چاہے تو جنت میں داخل کرے) رواہ الامام مالك وابوداؤد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ (اسے امام مالک ، ابوداؤد ، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ ت) یہ حدیث اُس کے اسلام پر نص قاطع ہے کہ اگر معاذ الله کافر ہوتا تو اس کے کہنے کا کوئی موقع نہ تھا۔ دوسری حدیث میں ہے حضور اکرم سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
الدواوین ثلثۃ ، فدیوان لایغفرالله منہ شیأ ، ودیوان لایعبؤ الله بہ شیأ ، ودیوان لایترك الله منہ شیأ ، فاما الدیوان الذی لایغفرالله منہ شیئا فالاشراك باللّٰہ ، واما الدیوان الذی لایعبؤ الله بہ شیئافظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ ، من صوم یوم ترکہ اوصلاۃ ترکھا ، فان الله تعالٰی یغفر ذلك ان شاء متجاوز ، واما الدیوان الذی لایترك الله منہ شیئافمظالم العباد ، بینھم القصاص لامحالۃ[4]۔ رواہ الامام احمد والحاکم عن اُم المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالٰی عنہا۔
دفتر تین۳ ہیں ، ایك دفتر میں سے الله تعالٰی کچھ نہ بخشے گا اور ایك دفتر کی الله عزوجل کو کچھ پرواہ نہیں اور ایك دفتر میں سے الله تبارك وتعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا ، وہ دفتر جس میں سے الله عزوجل کچھ نہ بخشے گا دفتر کفر ہے اور وہ جس کی الله سبحٰنہ وتعالٰی کو کچھ پرواہ نہیں وہ بندے کا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں مثلًا کسی دن کا روزہ ترك کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی کہ الله تعالٰی چاہے تو اُسے معاف کردے گا اور درگزر فرمائے گا ، اور وہ دفتر جس میں سے کچھ نہ چھوڑے گا وہ حقوق العباد ہیں اُس کا حکم یہ ہے ضرور بدلہ ہونا ہے۔ (م)اسے امام احمد اور حاکم نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا (ت)
بالجملہ وہ فاسق ہے اور سخت فاسق مگر کافر نہیں وہ شرعًا سخت سزاؤں کا مستحق ہے ائمہ ثلٰثہ مالك وشافعی واحمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمفرماتے ہیں اُسے قتل کیا جائے۔ ہمارے ائمہ رضوان الله تعالٰی علیہم کے نزدیك فاسق فاجر مرتکب کبیرہ ہے اُسے دائم الحبس کریں یہاں تك کہ توبہ کرے یا قید میں مرجائے امام محبوبی وغیرہ مشایخ حنفیہ فرماتے ہیں کہ اتنا ماریں کہ خُون بہادیں پھر قید کریں یہ تعزیرات یہاں جاری نہیں لہذا اُس کے ساتھ کھانا پینا میل جول سلام کلام وغیرہ معاملات ہی ترك کریں کہ یونہی زجر ہو اسی طرح بنظر زجر ترك عیادت میں مضائقہ نہیں یہودی کی عیادت فرمانی بنظرِ تالیف وہدایت تھی یہاں اس کی عیادت نہ کرنی بنظر زجر ہے ، دونوں مقاصد شرعیہ ہیں ۔ رہی نماز جنازہ وہ اگرچہ ہر مسلمان غیر ساعی فی الارض بالفساد کے لئے فرض ہے۔
وھذا منہ ، کقاتل نفسہ ، بل اولی فان قتل نفسہ اشد من قتل مؤمن غیرہ ، وقتل المؤمن اکبر عندالله من ترك الصلاۃ۔ وقدقال فی الدر : من قتل نفسہ ، ولوعمدا ، یغسل ویصلی علیہ ، بہ یفتی ، وان کان اعظم وزرًا من قاتل غیرہ[5] ، قال فی
اور یہ انہی میں سے ہے جس طرح خودکشی کرنے والا۔ ب
لکہ بطریقِ اولٰی ، کیونکہ خودکشی کرنا دوسرے مومن کو قتل کرنے سے زیادہ شدید جرم ہے اور مومن کو قتل کرنا نماز چھوڑنے سے بڑا گناہ ہے۔ اور درمختار میں کہا ہے کہ جو اپنے آپ کو قتل کردے ، خواہ جان بوجھ کر ہی ، اس کو غسل دیا جائے گا اور نماز پڑھی جائے گی ،
ردالمحتار : بہ یفتی : لانہ فاسق غیر ساعٍ فی الارض بالفساد ، وان کان باغیا علی نفسہ ، کسائر فساق المسلمین۔ زیلعی[6]۔
اسی پر فتوٰی ہے ، اگرچہ اس کا گناہ دوسرے کو قتل کرنے والے سے بڑا ہے۔ شامی میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے کیونکہ یہ فاسق تو ہے مگر زمین میں فساد پھیلانے والا نہیں ، اگرچہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے ، جس طرح باقی فاسق مسلمان۔ زیلعی۔ (ت)
مگر فرضِ عین نہیں فرض کفایہ ہے پس اگر علما وفضلا باقتدائے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفی المدیون وفی قاتل فسہ بغرض زجر وتنبیہ نماز جنازہ بے نماز سے خود جُدا رہیں کوئی حرج نہیں ، ہاں یہ نہیں ہوسکتا کہ اصلًا کوئی نہ پڑھے یوں سب آثم وگنہگار ر ہیں گے ، مسلمان اگرچہ فاسق ہو اُس کے جنازہ کی نماز فرض ہے الامن استثنی ولیس ھذا منھم (مگر جو مستثنی ہیں ، اور یہ ان میں سے نہیں ہے۔ ت) نماز پڑھنا اس پر فرض تھا اور جنازہ کی نماز ہم پر فرض ہے اگر اُس نے اپنا فرض ترك کیا ہم اپنا فرض کیونکر چھوڑ سکتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع