30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشعۃ اللمعات شرح فارسی مشکوٰۃ میں اس کی وجہ فرماتے ہیں کہ باعثِ نزولِ رحمت ست (نزولِ رحمت کا سبب ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں : مناسب حال ذکر مسئلہ فرائض ست (ذکر مسئلہ فرائض مناسب حال ہے۔ ت) اور فرماتے ہیں : اگر ختمِ قرآن کنند اولٰی وافضل باشد [1] (اگر قرآن پاك ختم کریں تو یہ اولٰی وبہتر ہے۔ ت)جب علمائے کرام نے حکایاتِ اہل خیر وتذکرہ صالحین وختم قرآن وبیان مسئلہ فقہیہ وذکر فرائض کو مستحب ٹھہرایا حالانکہ ان میں بالخصوص کوئی حدیث وارد نہیں بلکہ وجہ صرف وہی کہ میت کو نزولِ رحمت کی حاجت اور ان امور میں امیدِ نزول رحمت تو اذان کہ بشہادت احادیث موجب نزولِ رحمت ودفعِ عذاب ہے کیونکر جائز بلکہ مستحب عـــہ نہ ہوگی۔
بحمدالله یہ پندرہ۱۵ دلیلیں ہیں کہ چند ساعت میں فیضِ قدیر سے قلبِ فقیر پر فائض ہوئیں ناظر منصف جانے گا کہ ان میں اکثر تو محض استخراجِ فقیر ہیں اور باقی کے بعض مقدمات اگرچہ بعض اجلّہ اہل سنّت وجماعترَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے کلام میں مذکور مگر فقیر غفرالله تعالٰی لہ نے تکمیل ترتیب وتسجیل تقریب سے ہر مقدمہ منفردہ کو دلیل کامل اور ہر مذکور ضمنی کو مقصود مستقل کردیا والحمدلله رب العالمین (سب تعریف الله تعالٰی کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت) بااینہمہ ع
لاشك ان الفضل للمتقدم
(بیشك بزرگی پہلے کرنے والے کے لئے ہے۔ ت)
عـــہ بالجملہ بحمدالله تعالی ان دلائل جلائل نے کالشمس فی وسط السماء واضح کردیا کہ اس اذان کا جواز بلکہ استحباب یقینی بلکہ بنظرِ عمومات شرع بوجوہ کثیرہ فرد سنّت ہے شاید وہ بعض علماء جنہوں نے اس کے سنّت ہونے کی تصریح فرمائی جن کا قول امام ابن حجر مکی وعلّامہ خیر رملی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے نقل کیا یہی معنی مراد لیتے ہیں کہ فرد سنت ہے نہ کہ فردًا سنّت ولہذا مناسب ہے کہ کبھی کبھی ترك بھی کریں اگر اوہام عوام معنی ثانی کی طرف جاتے سمجھیں والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ(م)
ہم پر اُن اکابر کا شکر واجب جنہوں نے اپنی تلاش وکوشش سے بہت کچھ متفرق کو یکجا کیا اور اس دشوار کام کو ہم پر آسان کردیا جزاھم الله عنا وعن الاسلام والسنۃ خیر جزاء وشکر مساعیھم الجمیلۃ فی حمایۃ الملۃ الغراء ونکایۃ الفتنۃ العوراء وھنأھم بفضل رسول نفی علی حمید رضی یوم القضاء وصلی الله تعالٰی علیہ سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ الاطائب الکرماء اٰمین۔
تنبیہاتِ جلیلہ تنبیہ اوّل: ہمارے کلام پر مطلع ہونے والا عظمت رحمت الٰہی پر نظر کرے کہ اذان میں اِن شاء الله الرحمن اُس میت اور ان احیا کے لئے کتنے منافع ہیں ، سات۷ فائدہ میت کیلئے :
(۱) بحولہ تعالٰی شیطان رجیم کے شر سے پناہ۔
(۲) بدولت تکبیر عذابِ نار سے امان۔
(۳) جوابِ سوالات کا یاد آجانا۔
(۴) ذکرِ اذان کے باعث عذابِ قبر سے نجات پانا۔
(۵) بہ برکتِ ذکرِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنزولِ رحمت۔
(۶) بدولتِ اذان دفعِ وحشت۔
(۷) زوالِ غم وسرور وفرحت۔
اور پندرہ احیا کے لئے ، سات۷ تو یہی ، سات۷ منافع اپنے بھائی مسلمان کو پہنچانا کہ ہر نفع رسانی جدا حسنہ ہے اور ہر حسنہ کم سے کم دس۱۰ نیکیاں ، پھر نفع رسانی مسلم کی منفعتیں خدا ہی جانتا ہے۔
(۸) میت کے لئے تدبیر دفع شیطان سے اتباعِ سنّت۔
(۹) تدبیر آسانی جواب سے اتباعِ سنّت۔
(۱۰) دعاء عندالقبر سے اتباعِ سنت۔
(۱۱) بقصدِ نفع میت قبر کے پاس تکبیریں کہہ کر اتباعِ سنّت۔
(۱۲) مطلق ذکر کے فوائد ملنا جن سے قرآن وحدیث مالامال۔
(۱۳) ذکرِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے سبب رحمتیں پانا۔
(۱۴) مطلق دُعا کے فضائل ہاتھ آنا جسے حدیث میں مغزِ عبادت فرمایا۔
(۱۵) مطلق اذان کے برکات ملنا جنہیں منتہائے آواز تك مغفرت اور ہر تر وخشك کی استغفار وشہادت اور دلوں کو صبر وسکون وراحت ہے اور لُطف یہ کہ اذان میں اصل کلمے سات۷ ہی ہیں الله اکبر ، اشھد ان لاالٰہ الاالله ، اشھد ان محمدا رسول الله ، حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح ، الله اکبر لاالہ الاالله ، اور مکررات کو گنیے تو پندرہ۱۵ ہوتے ہیں ، میت کے لئے وہ سات۷ فائدے اور احیا کے لئے پندرہ۱۵ ، انہیں سات۷ اور پندرہ۱۵ کے برکات ہیں ، والحمدلله ربّ العٰلمین تعجب کرتا ہوں کہ حضرات مانعین نے میت واحیا کو ان فوائدِ جلیلہ سے محروم رکھنے میں کیا نفع سمجھا ہے ہمیں تو مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشاد فرمایا ہے :
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ [2]۔ رواہ احمد ومسلم عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنھما۔
تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو لازم ومناسب ہے کہ پہنچائے۔ اسے احمد اور مسلم نے حضرت جابر بن عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا۔
پھر خدا جانے اس اجازت کلی کے بعد جب تك خاص جزئیہ کی شرع میں نہی نہ ہو ممانعت کہاں سے کی جاتی ہے والله الموفق۔
تنبیہ دوم: حدیث میں ہے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : نیۃ المومن خیر من عملہ [3] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع