دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

ان احب الاعمال الی الله تعالٰی بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم [1]۔

بیشك الله  تعالٰی کے نزدیك فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ محبوب مسلمان کو خوش کرنا ہے۔

اُنہی دونوں میں حضرت امام ابن الامام سیدنا حسن مجتبٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ، حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

ان موجبات المغفرۃ ادخالك السرور علی اخیك المسلم [2]۔

بیشك موجباتِ مغفرت سے ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کو خوش کرنا۔

دلیل چہاردہم : قال الله تعالٰی :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ(۴۱) [3] ۔

اے ایمان والوں ! الله  کا ذکر کرو بکثرت ذکر کرنا۔

حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اکثروا ذکرالله حتی یقولوا مجنون [4]۔  اخرجہ احمد وابویعلی وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالٰی عنہ صححہ الحاکم وحسنہ الحافظ ابن حجر۔

الله  کا ذکر اس درجہ ذکر بکثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں ۔ اسے احمد ، ابویعلی ، ابن حبان ، حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے حاکم نے اسے صحیح اور حافظ ابنِ حجر نے حسن قرار دیا ہے۔ (ت)

اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:

اذکرالله عندکل حجر وشجر [5]۔  اخرجہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر عن معاذبن جبل رضی الله تعالٰی عنہ بسند حسن۔

ہر سنگ وشجر کے پاس الله  کا ذکر کر۔ اسے امام احمد نے کتاب الزہد اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا۔ (ت)

عبدالله  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں :

لم یفرض الله علی عبادہ فریضۃ الاجعل لھا حدا معلوما ثم عذر اھلھا فی حال العذر غیر الذکر فانہ لم یجعل لہ حدا انتھی الیہ ولم یعذر احدا فی ترکہ الامغلوبا علی عقلہ وامرھم بہ فی الاحوال کلھا [6]۔

الله  تعالٰی نے اپنے بندوں پر کوئی فرض مقرر نہ فرمایا مگر یہ کہ اُس کے لئے ایك حد معین کردی پھر عذر کی حالت میں لوگوں کو اُس سے معذور رکھا سوا ذکر کے کہ الله  تعالٰی نے اس کے لئے کوئی حد نہ رکھی جس پر انتہا ہو اور نہ کسی کو اس کے ترك میں معذور رکھا مگر وہ جس کی عقل سلامت نہ رہے اور بندوں کو تمام احوال میں ذکر کا حکم دیا۔

اُن کے شاگرد امام مجاہد فرماتے ہیں : الذکر الکثیران لایتناھی ابدا [7] (ذکر کثیریہ ہے کہ کبھی ختم نہ ہو)

ذکرھما فی المعالم وغیرھا (معالم وغیرہ میں ان دونوں کا ذکر ہے۔ ت) تو ذکرِ الٰہی ہمیشہ ہر جگہ محبوب ومرغوب ومطلوب ومندوب ہے جس سے ہرگز ممانعت نہیں ہوسکتی جب تك کسی خصوصیتِ خاصہ میں کوئی نہی شرعی نہ آئی ہو اور اذان بھی قطعًا ذکرِ خدا ہے پھر خدا جانے کہ ذکرِ خدا سے ممانعت کی وجہ کیا ہے ، ہمیں حکم ہے کہ ہر سنگ درخت کے پاس ذکرِ الٰہی کریں ، قبرِ مومن کے پتھّر کیا اس کے حکم سے خارج ہیں خصوصًا بعد دفن ذکرِ خدا کرنا تو خود حدیثوں سے ثابت اور بتصریح ائمہ دین مستحب ولہذا امام اجل ابوسلیمان خطابی دربارہ تلقین فرماتے ہیں :

لانجدلہ حدیثا مشھورا ولابأس بہ اذ لیس فیہ الا ذکرالله تعالٰی قولہ وکل ذلك حسن[8]۔

ہم اس میں کوئی مشہور حدیث نہیں پاتے اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ اس میں نہیں ہے مگر خدا کا ذکر اور یہ سب کچھ محمود ہے۔

دلیل پانزدہم : امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم کتاب الاذکار میں فرماتے ہیں :

یستحب ان یقعد عندالقبر بعد الفراغ ساعۃ قدر ماینحر جزور ویقسم لحمھا ، ویشتغل القاعدون بتلاوۃ القراٰن والدعاء للمیت والوعظ وحکایات اھل الخیر ، واحوال الصالحین [9]۔

مستحب ہے کہ دفن سے فارغ ہوکر ایك ساعت قبر کے پاس بیٹھیں اتنی دیر کہ ایك اُونٹ ذبح کیا جائے اور اُس کا گوشت تقسیم ہو اور بیٹھنے والے قرآن مجید کی تلاوت اور میت کے لئے دُعا اور وعظ ونصیحت اور نیك بندوں کے ذکر وحکایت میں مشغول رہیں ۔

شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدّث دہلوی قدس سرہ لمعات شرح مشکوٰۃ میں زیرحدیث امیرالمومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہ فقیر نے دلیل ششم میں ذکر کی ، فرماتے ہیں :

قدسمعت عن بعض العلماء انہ یستحب ذکر مسئلۃ من المسائل الفقھیۃ [10]۔

یعنی بتحقیق میں نے بعض علما سے سُنا کہ دفن کے بعد قبر کے پاس کسی مسئلہ فقہ کا ذکر مستحب ہے۔

 



[1]   المعجم الکبیر مرویات عبداللہ ابن عباس حدیث ۱۱۰۹ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۷۱

[2]   المعجم الکبیر مرویات حسن بن علی حدیث ۲۷۳۱ و ۲۷۳۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۳ / ۸۳ ، ۸۵

[3]   القرآن ۳۳ / ۴۱

[4]   مسند احمد بن حنبل من مسند ابی سعید الخدری مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۶۸ ، ۷۱

[5]   المعجم الکبیر مرویات معاذ بن جبل حدیث ۳۳۱ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۵۹

[6]   تفسیر البغوی المعروف بہ معالم التنزیل مع تفسیر خازن $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن