دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

میت کے لئے اس میں مصلحت ہے کہ مسلمان اُس کی قبر کے پاس جمع ہوکر قرآن پڑھیں ذکر کریں کہ میت کو اس سے نفع ہوتا ہے (ت)

یارب مگر اذان ذکرِ محبوب نہیں یا مسلمان بھائی کو نفع ملنا شرعًا مرغوب نہیں ۔

دلیل یازدہم : اذان ذکرِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہے اور ذکرِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمباعثِ نزول رحمت۔

اوّلًا حضور کا ذکر عین ذکرِ خدا ہے امام ابن عطا پھر امام قاضی عیاض وغیرہما ائمہ کرام تفسیر قولہ تعالٰی وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) [1] میں فرماتے ہیں :

جعلتك ذکرًا من ذکری فمن ذکرك فقدذکرنی [2]۔

میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایك یاد کیا جو تمہارا ذکر کرے وہ میرا ذکر کرتا ہے۔

اور ذکر الٰہی بلاشبہہ رحمت اُترنے کا باعث ، سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمصحیح حدیث میں ذکر کرنے والوں کی نسبت فرماتے ہیں :

حفتھم الملٰئکۃ وغشیتھم الرحمۃ ونزلت علیھم السکینۃ [3]۔ رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ و ابی سعید رضی الله تعالٰی عنھما۔

انہیں ملائکہ گھیر لیتے ہیں اور رحمتِ الٰہی ڈھانپ لیتی ہے اور اُن پر سکینہ اور چین اُترتا ہے۔ اسے مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ہے۔ (ت)

ثانیًا  ہر محبوبِ خدا کا ذکر محلِ نزولِ رحمت ہے ، امام سفیٰن بن عینیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ [4](نیکوں کے ذکر کے وقت رحمتِ الٰہی اترتی ہے)

ابوجعفر بن حمدان نے ابوعمر وبن نجید سے اسے بیان کرکے فرمایا : فرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم رأس الصلحین [5](تو رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتو سب صالحین کے سردار ہیں )

پس بلاشبہہ جہاں اذان ہوگی رحمتِ الٰہی اُترے گی اور بھائی مسلمان کے لئے وہ فعل جو باعثِ نزولِ رحمت ہو شرع کو پسند ہے کہ نہ ممنوع۔

دلیل دوازدہم : خود ظاہر اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ مُردے کو اُس نئے مکان تنگ وتاریك میں سخت وحشت اور گھبراہٹ ہوتی ہے اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْؕ-اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵۳) [6] (مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے یقینا میرا رب بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ت)اور اذان دافعِ وحشت وباعث اطمینان خاطر ہے کہ وہ ذکرِ خدا ہے اور الله  عزّوجل فرماتا ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)[7]  (سُن لو خدا کے ذکر سے چین پاتے ہیں دل)ابونعیم وابن عساکر حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

نزل ادم بالھند فاستوحش فنزل جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام فنادی بالاذان [8] الحدیث۔

جب آدمعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  جنّت سے ہندوستان میں اُترے اُنہیں گھبراہٹ ہُوئی تو جبرئیلعَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے اُتر کر اذان دی۔ (الحدیث)

پھر ہم اس غریب کی تسکین خاطر ودفعِ تو حش کو اذان دیں تو کیا بُرا کریں حاشا بلکہ مسلمان خصوصًا ایسے بے کس کی اعانت حضرت حق عزوجل کو نہایت پسند ، حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

الله فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ [9]۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔

الله  تعالٰی بندے کی مدد میں ہے جب تك بندہ اپنے بھائی مسلمانوں کی مدد میں ہے۔ اسے مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ (ت)

اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:

من کان فی حاجۃ اخیہ کان الله فی حاجتہ و من فرج عن مسلم کربۃ فرج الله عنہ بھاکربۃ من کرب یوم القیٰمۃ [10]۔ رواہ الشیخان وابوداؤد عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنھما۔

جو اپنے بھائی مسلمان کے کام میں ہو الله  تعالٰی اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دُور کرے الله  تعالٰی اس کے عوض قیامت کی مصیبتوں سے ایك مصیبت اس پر سے دور فرمائیگا۔ اسے بخاری ومسلم اور ابوداؤد نے حضرت عبدالله  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ہے۔     

دلیل سیزدہم : مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرالمومنین مولی المسلمین سیدنا علی مرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمالکریم سے مروی :

قال راٰنی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حزینا فقال یاابن ابی طالب انی اراك حزینا فمربعض اھلك یؤذن فی اذنك فانہ درء الھمّ [11] ۔

یعنی مجھے حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا : اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہُوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے ، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔

مولٰی علی اور مولٰی علی تك جس قدر اس حدیث کے راوی ہیں سب نے فرمایا : فجربتہ فوجدتہ کذلك (ہم نے اسے تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا) ذکرہ ابن حجر کمافی المرقاۃ (اس کا تذکرہ حافظ ابن حجر نے کیا ، جیسا کہ مرقات میں ہے۔ ت) اور خود معلوم اور حدیثوں سے بھی ثابت کہ میت اُس وقت کیسے حزن وغم کی حالت میں ہوتا ہے مگر وہ خاص عبادالله  اکابر اولیاء الله  جو مرگ کو دیکھ کر مرحبا بحبیب جاء علٰی فاقۃ (خوش آمدید اس محبوب کو جو بہت دیر سے آیا۔ ت) فرماتے ہیں ، تو اس کے دفعِ غم والم کے لئے اگر اذان سُنائی جائے کیا معذور شرعی لازم آئے حاشالله  بلکہ مسلمان کا دل خوش کرنے کے برابر الله  عزوجل کو فرائض کے بعد کوئی عمل محبوب نہیں ۔ طبرانی معجم کبیر ومعجم اوسط میں حضرت عبدالله  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

 



[1]   القرآن ۹۴ / ۴

[2]   نسیم الریاض شرح الشفاء زیر آیت مذکور مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۲۵

[3]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن