دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

امام ترمذی حکیم قدس سرہ الکریم الکریم بسند جید عمروبن مرہ تابعی سے روایت کرتے ہیں :

کانوا یستحبون اذا وضع المیت فی اللحد ان یقولوا اللھم اعذہ من الشیطان الرجیم [1]۔

یعنی صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں “ الله  کے نام سے اور الله  کی راہ میں اور رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ملّت پر ، الٰہی! اسے عذابِ قبر وعذابِ دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔

ابن ابی شیبہ اُستاذ امام بخاری ومسلم اپنے مصنف میں خثیمہ سے راوی :

کانوا یستحبون اذاوضعوا المیت ان یقولوا بسم الله وفی سبیل الله وعلٰی ملّۃ رسول الله اللھم اجرہ من عذاب القبر وعذاب النار ومن شر الشیطان الرجیم [2]۔

مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں “ الله  کے نام سے اور الله  کی راہ میں اور رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ملّت پر ، الٰہی! اسے عذابِ قبر وعذابِ دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش۔

ان حدیثوں سے جس طرح یہ ثابت ہوا کہ اس وقت عیاذًا بالله  شیطان رجیم کا دخل ہوتا ہے یونہی یہ بھی واضح ہوا کہ اُس کے دفع کی تدبیر سنّت ہے کہ دعا نہیں مگر ایك تدبیر اور احادیث سابقہ دلیل اوّل سے واضح کہ اذان رفعِ شیطان کی ایك عمدہ تدبیر ہے تو یہ بھی مقصود شارع کے مطابق اور اپنی نظیر شرعی سے موافق ہوئی۔

دلیل ششم : ابوداؤد وحاکم وبیہقی امیرالمومنین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

کان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذافرغ من دفن المیت وقف علیہ قال استغفروا لاخیکم وسلوا لہ بالتثبت فانہ الان یسأل [3]۔

حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب دفنِ میت سے فارغ ہوتے قبر پر وقوف فرماتے اور ارشاد کرتے اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے جوابِ نکیرین میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا۔

سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبدالله  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

قال کان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یقف علی القبر بعدماسوی علیہ فیقول اللھم نزل بك صاحبنا وخلف الدنیا خلف ظھرہ اللھم ثبت عندالمسألۃ منطقۃ ولاتبتلہ فی قبرہ بمالاطاقۃ لہ بہ [4]۔

یعنی جب مُردہ دفن ہوکر قبر درست ہوجاتی حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمقبر پر کھڑے ہوکر دعا کرتے الٰہی! ہمارا ساتھی تیرا مہمان ہُوا اور دنیا اپنے پسِ پشت چھوڑ آیا ، الٰہی! سوال کے وقت اس کی زبان درست رکھ اور قبر میں اس پر وہ بلانہ ڈال جس کی اسے طاقت نہ ہو۔

ان حدیثوں اور احادیث دلیل پنجم وغیرہ سے ثابت کہ دفن کے بعد دعا سنّت ہے امام محمد بن علی حکیم ترمذی قدس سرہ الشریف دعا بعد دفن کی حکمت میں فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ بجماعت مسلمین ایك لشکر تھا کہ آستانہ شاہی پر میت کی شفاعت وعذر خواہی کیلئے حاضر ہُوا اور اب قبر پر کھڑے ہوکر دُعا یہ اس لشکر کی مدد ہے کہ یہ وقت میت کی مشغول کا ہے کہ اُسے اُس نئی جگہ کا ہول اور نکیرین کا سوال پیش آنے والا ہے [5] نقلہ المولی جلال الملۃ والدین السیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفی شرح الصدور (امام جلال الدین سیوطی نے اسے شرح الصدور میں نقل کیا ہے۔ ت) اور میں گمان نہیں کرتا کہ یہاں استحبابِ دعا کا عالم میں کوئی عالم منکر ہو۔ امام آجری فرماتے ہیں :

یستحب الوقوف بعد الدفن قلیلا والدعاء للمیت [6]۔

مستحب ہے کہ دفن کے بعد کچھ دیر کھڑے رہیں اور میت کے لئے دُعا کریں ۔

اسی طرح اذکار امام نووی وجوہرہ نیرہ ودرمختار وفتاوٰی عالمگیری وغیرہا اسفار میں ہے ، طرفہ یہ کہ امام ثانی منکرین یعنی مولوی اسحاق صاحب دہلوی نے مائۃ مسائل میں اسی سوال کے جواب میں کہ بعد دفن قبر پر اذان کیسی ہے فتح القدیر و

بحرالرائق ونہرالفائق وفتاوٰی عالمگیریہ سے نقل کیا کہ قبر کے پاس کھڑے ہوکر دُعا سنّت سے ثابت ہے اور براہِ بزرگی اتنا نہ جانا کہ اذان خود دُعا بلکہ بہترین دُعا سے ہے کہ وہ ذکرِ الٰہی ہے اور ہر ذکرِ الٰہی دعا ، تو وہ بھی اسی سنتِ ثابتہ کی ایك فرد ہُوئی پھر سنّیت مطلق سے کراہت فرد پر استدلال عجب تماشا ہے ، مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں : کل دعا ذکر وکل ذکر دعا [7](ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دُعا ہے)رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : افضل الدعاء الحمدلله [8] (سب دعاؤں سے افضل دُعا الحمدلله ہے)

اخرجہ الترمذی وحسنہ والنسائی وابن حبان والحاکم وصححہ عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما۔

اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قرار دیا ، نسائی ، ابنِ حبان اور حاکم نے حضرت جابر بن عبدالله  تعالٰی عنہما سے روایت کرکے صحیح قرار دیا ہے (ت)

صحیحین میں ہے ایك سفر میں لوگوں نے بآوازِ بلند الله  اکبر الله  اکبر کہنا شروع کیا نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو انکم لاتدعون اصم ولاغائبا انکم تدعون سمیعًا بصیرا [9](تم کسی بہرے یا غائب سے دُعا نہیں کرتے سمیع بصیر سے دعا کرتے ہو)دیکھو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے الله  تعالٰی کی تعریف اور خاص کلمہ الله  اکبر کو دعا فرمایا تو اذان کے بھی ایك دُعا اور فرد مسنون ہونے میں کیا شك رہا۔

دلیل ہفتم : یہ تو واضح ہولیا کہ بعد دفن میت کے لئے دُعا سنّت ہے اور علماء فرماتے ہیں آدابِ دعا سے ہے کہ اُس سے پہلے کوئی عملِ صالح کرے ، امام شمس الدین محمد بن الجزری کی حصن حصین شریف میں ہے :

اٰداب الدعاء منھا تقدیم عمل صالح وذکرہ عند الشدۃ [10]م ت د۔

 



[1]   نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳

[2]   المصنف ابن ابی شیبہ ماقالوا اذاوضع المیت فی قبرہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۳ / ۳۲۹

[3]   سنن ابوداؤد باب استغفار عند القبر للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۰۳

[4]   الدر المنثور زیر آیت ویثبت اللّٰہ الذین اٰمنوا الخ مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اللہ ، قم ایران ۴ / ۸۳

[5]   نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳

[6]   نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الفصل التاسع والاربعون والمائتان مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳

[7]   مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من باب التسبیح الخ مطبو عہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۵ / ۱۱۲

[8]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن