دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

فقیر غفرالله  تعالٰی لہ ، نے اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ۱۳۰۶ھ وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔

دلیل سوم : بالاتفاق سنّت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ لاالٰہ الاالله کہتے رہیں کہ اُسے سُن کر یاد ہو حدیث متواتر میں ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :  لقنوا موتاکم لاالٰہ الالله [1] (اپنے مردوں کو لا الٰہ الا الله سکھاؤ)

رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید الخدری وابن ماجۃ کمسلم عن ابی ھریرۃ وکالنسائی عن ام المؤمنین عائشۃ رضی الله تعالٰی عنہم۔

اسے احمد ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور ابن ماجہ نے مسلم کی طرح حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور نسائی کی طرح حضرت ام المومنین عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت کیا ہے۔ (ت)

اب جو نزع میں ہے وہ مجازًا مردہ ہے اور اُسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحول الله  تعالٰی خاتمہ اسی پاك کلمے پر ہو اور شیطان لعین کے بھُلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہوچکا حقیقۃً مُردہ ہے اور اُسے بھی کلمہ پاك سکھانے کی حاجت کہ بعون الله  تعالٰی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشك اذان میں یہی کلمہ لاالٰہ الّا الله تین جگہ موجود بلکہ اُس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں ۱ من ربك تیرا رب کون ہے؟ ۲ مادینك تیرا دین کیا ہے؟ ۳ ما کنت تقول فی ھذا الرجل [2]  تُو اس مرد یعنی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتدا میں الله اکبر الله اکبر الله اکبر الله اکبر اشھد ان لاالٰہ الاالله اشھد ان لاالٰہ الاالله اور آخر میں الله اکبر الله اکبر لاالٰہ الاالله سوال من ربك کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب الله  ہے اور اشھد ان محمدا رسول الله اشھد ان محمدا رسول الله سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں الله  کا رسول جانتا تھا اور حیّ علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینك کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ الصلاۃ عمادالدین [3]   تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا ، اب یہ کلام سماعِ موتٰی وتلقینِ اموات کی طرف مخبر ہوگا فقیر غفرالله  تعالٰی خاص اس مسئلہ میں کتاب مبسوط مسمّی بہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات تحریر کرچکا جس میں پچھتّر حدیثوں اور پونے چارسو۴۷۵ اقوالِ ائمہ دین وعلمائے کاملین وخود بزرگانِ منکرین سے ثابت کیا کہ مُردوں کا سُننا دیکھنا سمجھنا قطعًا حق ہے اور اس پر اہل سنت وجماعت کا اجماع قائم اور اس کا انکار نہ کرے گا مگر غبی جاہل یا معاند مبطل ، اور اُسی کی چند فصول میں بحث تلقین بھی صاف کردی یہاں اُس کے اعادہ کی حاجت نہیں ۔

دلیل چہارم : ابویعلی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اطفؤا الحریق بالتکبیر [4](آگ کو تکبیر سے بجھاؤ)ابن عدی حضرت عبدالله  بن عباس اور وہ اور ابن السنی وابن عساکر حضرت عبدالله  بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے راوی حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اذا رأیتم الحریق فکبروا فانہ یطفیئ النار [5]۔

جب آگ دیکھو الله  اکبر الله  اکبر کی بکثرت تکرار کرو وہ آگ کو بجھا دیتا ہے۔

علّامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :

فکبروا ای قولو الله اکبر ، الله اکبر وکرروہ کثیرا  [6]۔

فکبروا “ سے مراد یہ ہے کہ الله  اکبر الله  اکبر کثرت کے ساتھ بار بار کہو۔ (ت)

مولٰنا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری اُس حدیث کی شرح میں کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمقبر کے پاس دیر تك الله  اکبر فرماتے رہے ، لکھتے ہیں :

التکبیر علی ھذا لاطفاء الغضب الالٰھی ولھذا اورد استحباب التکبیر عندرؤیۃ الحریق [7]۔

اب یہ الله  اکبر الله  اکبر کہنا غضب الٰہی کے بُجھانے کو ہے ولہذا آگ لگی دیکھ کر دیر تك تکبیر مستحب ٹھہری۔

وسیلۃ النجاۃ میں حیرۃ الفقہ سے منقول :

حکمت درتکبیر آنست براہلِ گورستان کہ رسول علیہ السلام فرمودہ است اذارأیتم الحریق فکبروا چوں آتش درجائے افتد و ازدست شمابر نیاید کہ بنشانید تکبیر بگوئید کہ آتش بہ برکت آں تکبیر فرونشیند چوں عذابِ قبر بآتش ست ودست شمابآں نمیرسد تکبیر میباید گفت تامردگان ازآتش دوزخ خلاص یابند [8]۔   

اہلِ قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے “ اذارأیتم الحریق فکبروا “ یعنی جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہُوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو ، توتکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑ جائیگی چونکہ عذابِ قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا الله  کا نام لو(تکبیر کہو)تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں (ت)

یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے ، تو یہ اذان بھی قطعًا سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانع سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر۔

دلیل پنجم : ابن ماجہ وبیہقی سعید بن مسیب سے راوی :

قال حضرت ابن عمر فی جنازۃ فلما وضعھا فی اللحدقال بسم الله وفی سبیل الله فلما اخذ فی تسویۃ اللحد قال اللھم اجرھا من الشیٰطن ومن عذاب القبر ثم قال سمعتہ من رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ھذا مختصر [9]۔

یعنی میں حضرت عبدالله  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکےساتھ ایك جنازہ میں حاضر ہوا حضرت عبدالله  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جب اُسے لحد میں رکھا کہا بسم الله  وفی سبیل الله  جب لحد برابر کرنے لگے ک

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن