نھج السلامۃ فی حکم تقبیل الابھامین فی الاقامۃ ۱۳۳۳ھ
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلًا ممنوع نہیں ہوسکتا قائلانِ جواز کے لئے اسی قدر کافی ، جو مدعیِ ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعوٰی ثابت کرے ، پھر بھی مقامِ تبرع میں آکر فقیر غفرالله  تعالٰی لہ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرع مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانونِ مناظرہ اسانید تصور کیجئے فاقول :  وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔

دلیل اوّل : وارد ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوالِ نکیرین ہوتا ہے شیطان رجیم (کہ الله  عزوجل صدقہ اپنے محبوب کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کا ہر مسلمان مرد و زن کو حیات وممات میں اس کے شر سے محفوظ رکھے) وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے والعیاذ بوجہ العزیز الکریم ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔  امام ترمذی محمد بن علی نوادر الاصول میں امام اجل سفیٰن ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت کرتے ہیں :

اذا سئل المیت من ربك تراأی لہ الشیطان فی صورت فیشیر الی نفسہ ای اناربك [1] فلھذا ورد سوال التثبیت لہ حین یسئل۔

یعنی جب مُردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اُس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہُوں ، اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں ۔ (ت)

امام ترمذی فرماتے ہیں :

ویؤیدہ من الاخبار قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل مادعا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بذلك [2] ۔

یعنی وہ حدیثیں جو اسکی مؤید ہیں جن میں وارد کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے الٰہی! اسے شیطان سے بچا۔ اگر وہاں شیطان کا کچھ دخل نہ ہوتا تو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمیہ دُعا کیوں فرماتے۔ (ت)

اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے ، صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :

اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص [3]۔

جب مؤذن اذان کہتا ہے شیطان پیٹھ پھیر کر گوززناں بھاگتا ہے۔ (ت)

صحیح مسلم کی حدیث جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے واضح کہ چھتیس میل تك بھاگ جاتا ہے [4]۔  اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہو فورًا اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا  [5] اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمٰن بن احمد الطبرانی فی اوسط معاجیمہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ(اسے امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ ت) ، ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا (صبح کی خوشگوار ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وبا دُور ہوجاتی ہے۔ ت) میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں ، اور جب ثابت ہولیا کہ وہ وقت عیاذًا بالله مداخلت شیطان لعین کا ہے اور ارشاد ہُوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور اس میں حکم آیا کہ اُس کے دفع کو اذان کہو تو یہ اذان خاص حدیثوں سے مستنبط بلکہ عین ارشادِ شارع کے مطابق اور مسلمان بھائی کی عمدہ امداد واعانت ہُوئی جس کی خوبیوں سے قرآن وحدیث مالامال۔

دلیل دوم : امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبدالله  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی :

قال لمادفن سعد بن معاذ (زاد فی روایۃ) وسوی علیہ سبح النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وسبح الناس معہ طویلا ثم کبر وکبرالناس ثم قالوا یارسول الله لم سبحت (زاد فی روایۃ) ثم کبرت قال لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج الله تعالٰی عنہ [6]۔           

یعنی جب سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمدیر تك سبحان الله  فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور الله  اکبر الله  اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے ، پھر صحابہ نے عرض کی یارسول الله  ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے؟ ارشاد فرمایا : اس نیك مرد پر اُس کی قبر تنگ ہُوئی تھی یہاں تك کہ الله  تعالٰی نے وہ تکلیف اُس سے دُور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔ (ت)

علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :

ای مازلت اکبر وتکبرون واسبح وتسبحون حتی فرجہ الله [7] اھ۔

یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر مَیں اور تم الله  اکبر الله  اکبر سبحان الله کہتے رہے یہاں تك کہ الله  تعالٰی نے اُس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔ اھ (ت)

اقول : اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر الله اکبر الله اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنّت ہُوا ، غایت یہ

کہ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں سو اُن کی زیادت نہ معاذالله  کچھ مضر نہ اس امر مسنون کے منافی بلکہ زیادہ مفید ومؤید مقصود ہے کہ رحمتِ الٰہی اتارنے کے لئے ذکر خدا کرنا تھا ، دیکھو یہ بعینہٖ وہ مسلك نفیس ہے جو دربارہ تلبیہ اجلہ صحابہ عظام مثل حضرت امیرالمومنین عمر وحضرت عبدالله  بن عمر وحضرت عبدالله  بن مسعود وحضرت امام حسن مجتبٰی وغیرہم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین کو ملحوظ ہوا اور ہمارے ائمہ کرام نے اختیار فرمایا ، ہدایہ میں ہے :

لاینبغی ان یخل بشیئ من ھذہ الکلمات لانہ ھو المنقول فلاینقص عنہ ، ولوزاد فیھا جاز لان المقصود الثناء واظھار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ[8] اھ ملخصا۔

یعنی ان کلمات میں کمی نہ چاہئے کہ یہی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے منقول ہیں تو اُن سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود الله  تعالٰی کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں اھ ملخصا (ت)

 



[1]   نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳

[2]           نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ۳۲۳

نوٹ : یہ دونوں عبارتیں اعلٰیحضرت نے بالمعنی نقل کی ہیں اس لئے الفاظ میں کافی تغیر وتبدل ہے ، پہلی عبارت درست کردی ہے دوسری عبارت اس طرح ہے : فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل ماکان لیدعولہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بان یجیرہ من الشیطان۔ 

[3]   الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۷

[4]   الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۷

[5]   معجم اوسط حدیث نمبر ۷۴۳۲ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن