30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیثِ خضرعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام میں ہے یوں کہے :
مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [1]۔
اے میرے حبیب! مرحبا ، آپ کا اسم گرامی محمد بن عبدالله ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک۔ (ت)
اسی طرح حدیثِ سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں ہے۔ چوتھی روایت میں ہے یوں کہے :
صلی الله تعالٰی علیك یارسول الله قرۃ عینی بك یارسول الله اللھم متعنی بالسمع والبصر [2]۔
اے الله کے رسول آپ پر الله تعالٰی کی طرف سے صلاۃ (رحمت ہو ، یارسول اللہ! آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈك ہیں ، اے اللہ! میری سماعت وبصارت کو اس کی برکت سے مالامال فرما۔ (ت)
پانچویں میں ہے درود پڑھے۔ چھٹے میں ہے یوں کہے :
صلی الله علیك یاسیدی یارسول الله یا حبیب قلبی ویانور بصری ویاقرۃ عینی [3]۔
یاسیدی یارسول اللہ! اے میرے دل کے حبیب ، اے میری آنکھوں کے نور وسرور ، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك آپ پر الله تعالٰی رحمت فرمائے۔ (ت)
ساتویں میں ہے یوں کہے :
اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ونورھما [4]۔
اے اللہ! میری آنکھوں کی حفاظت فرما اور انہیں منوّر فرما نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی مبارك آنکھوں اور ان کی نور کی برکت سے۔ (ت)
منہیہ کے نزدیك یہ الله ورسول کے ذکر ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر درود ، الله عزوجل سے دُعا کچھ طاعت ہی نہیں حالانکہ ذکر ہی روحِ طاعت ہے اور دُعا مغزِ عبادت ، اور درود کو مسلمان ایمان کا چین چین کا ایمان جانتے ہیں اگرچہ منہیہ منتر مانے۔
(۲۵) اس عمل مبارك کے فوائد میں ایك فائدہ جو یہ فرمایا گیا کہ جو ایسا کرے گا اُس کی آنکھیں نہ دُکھیں گی نہ کبھی اندھا ہو ، اس جرم پر وہ ذکرِ الٰہی ودرود ودُعا سب طاعت سے خارج ہوکر رمد کامنتر رہ گئے ، نامِ محمد رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے اس عداوت کی کوئی حد ہے ، صدہا حدیثیں ہیں جن میں تلاوتِ قرآن عظیم وتسبیح وتہلیل وحمد وتکبیر ولاحول وغیرہا اذکارِ جلیلہ پر منافع جسمانیہ ودُنیاویہ ارشاد ہوئے ہیں جسے شوق ہو صحاح ستہ وترغیب وترہیب امام منذری وجوامع امامِ جلیل سیوطی وحصن حصین امام جزری وغیرہا کتبِ حدیث مطالعہ کرے منہیہ کے دھرم میں یہ اسلامی ایمانی کلمے اور خود قرآن عظیم سب منتر ہیں جنہیں طاعت سے کچھ علاقہ نہیں اعوذبالله من الشیطٰن الرجیم ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
(۲۶) الله ورسول جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہر حکیم سے بڑھ کر حکیم ہیں اُن کی رعایا میں ہر قسم کے لوگ ہیں ایك وہ عالی ہمّت کہ الله ورسول جل وعلا وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو الله ورسول کے لئے یاد کریں اپنی کوئی منفعت دنیوی تو دنیوی اُخروی بھی مقصود نہ رکھیں یہ خالص مخلص بندے ہیں جن کی بندگی میں کسی ذاتی غرض کی آمیزش نہیں ان کے لئے وصلِ ذات ہے جن کو فرمایا :
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-[5]
جو ہماری یاد میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم یقینا ان کے لئے اپنے تمام راستے کھول دیتے ہیں ۔ (ت)
دوسرے وہ جن کو کسی طمع کی چاشنی اُبھارے مگر نفع فانی کے گرویدہ نہیں باقی کی تلاش ہے قرآن وحدیث میں نعیم جنت کے بیان ان کی نظیر سے ہیں جن کو فرمایا :
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-[6]
الله تعالٰی نے مومنوں سے ان کی جان ومال کو جنت کے عوض خریدلیا ہے (ت)
تیسرے وہ جن کو نفع عاجل کی امید دلانا زیادہ مؤید ہے جن کو فرمایا :
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰) یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱) [7]
میں کہتا ہوں اپنے رب سے معافی مانگو وہ یقینا معافی دینے والا ہے وہ آسمان سے تم پر زور دار بارش بھیجے گا۔ (ت)
اور فرمایا :
قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-[8]
فرمادیجئے یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور شفاء ہے۔ (ت)
اور رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
اغزوا تغنموا وصوموا تصحوا وسافروا تستغنوا [9] وفی حدیث حُجّوا تستغنوا [10]۔ روی الاول الطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ والاٰخر عبدالرزاق عن صفوان بن سلیم مرسلا ووصلہ فی مسند الفردوس۔
جہاد کرو غنیمت پاؤ گے اور روزہ رکھو تندرست ہوجاؤگے اور حج کرو غنی ہوجاؤ گے۔ پہلی کو طبرانی نے اوسط میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا اور دوسری کو عبدالرزاق نے صفوان بن سلیم سے مرسلًا روایت کیا ، اور مسند الفردوس میں یہ متصلًا مروی ہے۔ (ت)
[1] المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[2] جامع الرموز باب الاذان مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۲۵
[3] المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[4] المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ص ۳۸۵
[5] القرآن ۲۹ / ۶۹
[6] القرآن ۹ / ۱۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع