دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

چھ۶ آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی الله  ان پر لعنت کرے اور ہر نبی کی دعا مقبول ہے ازاں جملہ ایك وہ کہ میری سنّت کا منکر ہو ، اس کو ترمذی نے ام المومنین سے اور حاکم نے ان سے اور حضرت علی سے روایت کیا اور طبرانی کے الفاظ یہ ہیں “ سات۷آدمی ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی اور ہر نبی کی دُعا مقبول ہے “ ۔ یہ حضرت عمروبن سغوی رضی الله  تعالٰی سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے۔ (ت)

اب صاحبِ فتاوٰی اشرفیہ اپنا حکم گنگوہی صاحب سے دریافت کریں یا گنگوہی صاحب کے حق میں خود کوئی حکم فرمائیں ۔

(۱۶) اب اقامت کی طرف چلیے شامی سے بحوالہ مجہول قہستانی کا روایت نہ پانا تو نقل کرلائے اور اس سے یہ نتیجہ کہ فقہانے اُس کا بالکل انکار کیا حالانکہ فقہائے کرام کا مسلك وہ ہے جو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر ص ۱۴ میں فرمایا :  عدم النقل لاینفی الوجود [1] (عدمِ نقل ، وجود کے منافی نہیں ۔ ت)

(۱۷) عدم نقل کو نقل عدم ٹھہرانے کا رَد خود اسی شامی میں جابجا موجود ، از انجملہ جلد اول ص ۶۰ میں بعد ذکر احادیث فرمایا :

قال العلماء ھذہ الاحادیث من قواعد الاسلام وھو ان کل من ابتدع شیأ من الخیر کان لہ مثل اجر کل من یعمل بہ الی یوم القیٰمۃ [2]۔

یعنی علمائے کرام نے فرمایا کہ یہ حدیثیں دین اسلام کے قواعد سے ہیں ، ان سے یہ قاعدہ ثابت ہُوا کہ جو شخص کوئی اچھا کام نیا نکالے کہ پہلے نہ تھا قیامت تك جتنے مسلمان اس پر عمل کریں سب کے برابر ثواب اُس ایجاد کرنے والے کو ہو۔

(۱۸) بدعت وبے اصل کی بھی حقیقت سُن لیجئے ، فتح الله  المعین جلد ۳ ص ۴۰۲ :

لااصل لھا لایقتضی الکراھۃ ولذا قال فی الدر ماقیل انھا بدع ای مباحۃ حسنۃ [3]۔

یعنی بے اصل ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا اسی لئے دُرمختار میں فرمایا کہ اسے جو بدعت کہاگیا اس کے معنی یہ ہیں کہ نو پیدا جائز اچھی بات ہے (ت)

(۱۹) فرض کردم کہ اس سے بوجہ عدم نقل انکار مطلق ہی مقصود ہوتو بحال عدم نقل احکام فقہا جن کا نمونہ ہم نے ذکر کیا اس کے معارض ہوں گے اور ترجیح وتوفیق وتوجیہ وتحقیق کہ ہمارے رسائل رَد وہابیہ میں ہے اس کی مؤنت جناب گنگوہی صاحب نے کم دی اور منکرین کو کسی عبارت خلاف سے شبہہ ڈالنے کی گنجائش نہ رکھی کہ اس سے غایت درجہ مسئلہ عدم نقل میں اختلاف ثابت ہوگا اور گنگوہی صاحب براہین ص ۱۳۷ میں فرماتے ہیں : “ اُس کی کراہت مختلف فیہ ہُوئی اور مختلف فیہ مسئلہ تو یوں بھی بلاضرورت جائز ہوجاتا ہے [4] “ ۔ یہ وہاں کہی اور پُوری غیر مقلدی بلکہ بہ ہوائے نفس اتباع رخص حلال کردینے کی داد دی ہے جہاں ہمارے علماء اور امام شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا اختلاف ہے تو جہاں خود علمائے حنفیہ کے قول دونوں طرف ہوں وہ تو بدرجہ اولٰی بلاضرورت مطلقًا جائز رہے گا اور منکر کہ قولِ خلاف سے سند لائے احمق کج فہم ٹھہرے گا۔

(۲۰) نہیں نہیں فقط جائز نہیں بلکہ گنگوہی صاحب کے دھرم میں وقتِ اقامت بھی تقبیل مذکور سنّت اور تھانوی صاحب کا اُس پر انکار گمراہی وضلالت اور بحکمِ حدیث موجب لعنت ہے۔ علماء فرماتے ہیں اقامت احکام میں مثل اذان ہے سوا مستثنیات کے ، بلکہ ہدایہ میں ہے :

یروی انہ لاتکرہ الاقامۃ ایضا لانھا احدی الاذانین [5]۔

اور یہ مروی ہے کہ اقامت بھی مکروہ نہیں کیونکہ یہ بھی ایك اذان ہے۔ (ت)

اور عندالتحقیق تنقیح مناط انتفائے خصوص کرے گی تو اُس کی دلیل جواز بھی متحقق ہوئی اور سنّت ٹھہری ، گنگوہی صاحب کے نزدیك تو سنّت ہونے کے لئے اشرفعلی کی جنس بھی قرونِ ثلٰثہ میں موجود ہونے کی حاجت نہیں یہاں تو اُس کی جنس یعنی تقبیل اذان خود موجود ہے براہین گنگوہی ص ۱۸ میں ہے : “ جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی اُن قرون میں ہُوا یا نہ ہوا اور خواہ اُسکی جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنّت ہے[6]۔ “

یہ اُس چار سطری تحریر پر تلك عشرون کاملۃ (یہ مکمل بیس۲۰دلائل ہیں ۔ ت) وہ بھی بنہایت اختصار ، اب ڈیڑھ سطری منہیہ کی طرف چلئے وبالله  التوفیق۔

(۲۱) علمائے کرام نے کہ نفی صحت میں مرفوع کی تخصیص فرمائی بکمال حیا اُس کا مطلب یہ گھڑا کہ اس بارہ میں حدیث موقوف اگرچہ منقول ہے مگر ضعیف الاسناد ہے ، کیا علما نے یہ فرمایا تھا کہ اس بارہ میں حدیث مرفوع کوئی منقول ہی نہیں یا یہ فرمایا تھا کہ جو منقول ہے ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے یا یہ فرمایا تھا کہ ضعیف بھی نہیں بلکہ موضوع ہے انہیں تین صُورتوں میں اُس اختراعی مطلب پر مرفوع وموقوف کا تفرقہ اور تخصیص کا فائدہ صحیح رہتا مگر ہر ذرا سے فہم والا بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ بہر وجہ علماء پر افترا ہے علما نے یہی بتایا ہے کہ اس بارہ میں احادیث مرفوعہ اگرچہ منقول ہیں مگر درجہ صحت پر نہیں ببلکہ ضعیف ہیں یہی اس بے معنی منہیہ نے حدیث موقوف میں کہا تو فرق کیا رہا صراحۃً تخصیص مرفوع باطل کرنے کو تخصیص مرفوع کا مطلب ٹھہرانا جنون نہیں تو شدید مکاری ڈھٹائی ہے مکاری نہیں تو سخت جنون وبے عقلی ہے۔

(۲۲) بفرض باطل یہی مطلب سہی مگر یوں بھی کال نہ کٹا امام الطائفہ گنگوہی صاحب ایمان لاچکے کہ یہاں مقبول ہے اگرچہ ضعیف حدیث اور طائفہ بھر کا دھرم قرون کی تثلیث پھر حدیث موقوف وضعیف موجود مان کر بدعت وبے اصل کہنا کیسا قول خبیث!

(۲۳) ایك بھاری دیانت یہ دکھائی کہ حدیث سے اس عمل کا طاعت ہونا نہیں نکلتا بلکہ رمد سے بچنے کا ایك منتر ہے الحق حیا وایمان متلازم ہیں یہ اعتراض اگر چل سکتا تو نہ موقوف وضعیف بلکہ خود رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ارشاد صحیح اگر صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہوتا اُسے بھی اڑادیتا ، حدیثوں میں تو یہ ہے کہ رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماس کی شفاعت فرمائیں گے اُسے اپنے ساتھ جنت میں لے جائینگے اور منہیہ کہتا ہے کہ یہ کوئی طاعت ہی نہیں کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ جس پر یہ عظیم وجلیل ثواب موعود ہوں وہ سرے سے طاعت ہی نہیں ایك منتر ہے۔

(۲۴) حدیث ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں ہے یوں پڑھیے :

رضیت بالله ربًّا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نبیا [7]۔

میں الله  تعالٰی کے رب ، اسلام کے دین اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے نبی ہونے پر راضی اور خوش ہوں ۔ (ت)

 



[1]   فتح القدیر  کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰

[2]   ردالمحتار مطلب یجوز تقلید المفضول الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳

<

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن