30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۱) یہ بھی سہی تو کیسا ظلم شدید وتعصب عنید ہے کہ مسئلہ اقامت میں قہستانی کا اپنا قول بلانقل بلکہ صرف روایت نہ پانا سند میں پیش کیا جائے اور اُسے انہیں ایك فقیہ نہیں بلکہ فقہا کا انکار ٹھہرادیا جائے اور یہیں یہیں مسئلہ اذان میں جو یہی قہستانی خاص روایت فقہی نقل فرما کر حکمِ استحباب بتارہے ہیں وہ مردود ونامعتبر قرار پائے ، غرض بڑی امام اپنی ہوائے نفس ہے وبس۔
(۱۲) اقامت میں اذان سے بھی زیادہ بدعت وبے اصل ہے یعنی بدعت وبے اصل اذان میں بھی ہے یہ وہی مرض غیر مقلدی ہے کہ فقہا اگرچہ صراحۃً مستحب فرمائیں مگر اُن کا قول مردود اور بدعت مذمومہ ہونا غیر مسدود۔
(۱۳) نہیں نہیں نری غیر مقلدی نہیں بلکہ اجماعِ اُمت کا رَد اور غیر سبیل المومنین کا اتباعِ بَد ہے جس پر قرآن عظیم میں وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠(۱۱۵) [1] کی وعید مؤکد ہے ، احادیث یہاں قطعًا مروی مرفوع بھی اور موقوف بھی اور غایت اُن کا ضعف جس کا بیان قطعی منیرالعین میں ہے جس سے حق کی آنکھیں پُرنور اور باطل کی ظلمتیں دُور بلکہ خود اسی قدر عبارت کہ منکر نے نقل کی منصف کو کافی کہ اُس میں صرف لم یصح (صحیح نہیں ۔ ت) کہا اور وہ بھی فقط احادیث مرفوعہ اگر سب کو کہتے جب بھی نفی صحت سے غایت درجہ اتنا معلوم ہوتا کہ ضعیف ہیں پھر ضعیف تعدد طرق سے حسن ہوجاتی ہے اور مسائل حلال میں بھی حجت قرار پاتی ہے اور نہ بھی سہی تو قطعًا باب فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور مخالف اجماع مردود مخذول ، اربعینِ امام ابوزکریا نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمیں ہے :
قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال [2]۔
علماء محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے (ت)
(۱۴) اجماعِ اُمت کا خلاف وہاں دشوار نہ تھا مصیبت یہ ہے کہ جمہور وہابیہ کی بھی مخالفت ہوئی کہ تخصیص عدم صحت باحادیث مرفوعہ نے صحت بتائی ، ملّا علی قاری کی عبارت گزری تو قرونِ ثلٰثہ میں اصل متحقق ہوئی پھر بدعت وبے اصل کہنا اصولِ وہابیت پر بھی چھُری پھیرنا ہے۔
(۱۵) وہابیت بجہنم سخت تر آفت یہ ہے کہ دیوبندیت کے امام اعظم جناب گنگوہی صاحب سے چل گئی اور وہ بھی بہت بُری طرح کہ ان کی سنّت ، اُن کی بدعت ، ان کی ہدایت ، اُن کی ضلالت یہ فاعل کو بدعتی گمراہ ٹھہرائیں وہ ان کو منکر سنت ضال بد راہ بتائیں پھر یہ کیا کہ اُنہیں چھوڑ دیتے ہیں یہ کہیں گے کہ وہ بدعت ضلالت کو سنّت بتاکر سخت گمراہ بے دین ہُوئے کفی الله المؤمنین القتال (لڑائی میں مومنوں کے لئے الله تعالٰی کافی ہے۔ (ت) اس کا مفصل بیان منیرالعین افادہ ۳۰ میں ملاحظہ ہو مجمل یہ کہ یہ احادیثِ تقبیل گنگوہی صاحب کے نزدیك بھی فضائل اعمال کی ہیں کہ اس پر ترغیب وثواب اُن میں مذکور ہے ، مسند الفردوس کی حدیث میں بروایت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہے کہ انہوں نے اذان میں نام سُن کر انگلیوں کے پوروں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر پھیرا ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :
من فعل مثل مافعل خلیلی فقد حلت علیہ شفاعتی [3]۔
جو ایسا کرے جیسا میرے اس پیارے نے کیا اُس پر میری شفاعت حلال ہوجائیگی۔
جامع الرموز وکنزالعباد وغیرہما میں ہے :
فانہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یکون قاعدا لہ الی الجنۃ [4]۔
جو ایسا کرے گا رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماپنے پیچھے پیچھے اسے جنت میں لے جائیں گے۔
اور یہ تو روایات عدیدہ میں ہے جو ایسا کرے کبھی اندھا نہ ہوگا نہ اُس کی آنکھیں دُکھیں ، یہ کیا فضیلت و ترغیب نہیں بہرحال یہ حدیثیں فضائلِ اعمال کی ہیں ، اور گنگوہی صاحب براہینِ قاطعہ طبع دوم ص ۹۶ میں فرماتے ہیں : “ سب کا یہ مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے[5] “ ۔ ظاہر ہے کہ درست یہاں بمعنی جائز ہی ہے خصوصًا جبکہ امیرالمؤمنین صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ثبوت لیں جیسا کہ عبارتِ علی قاری میں گزرا ، جب تو اس مسئلہ قبول ضعاف کی بھی حاجت نہ ہوگی کہ شیخین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی تقلید کا خود احادیث صحیحہ میں حکم فرمایا ، حدیثِ خلفا کلامِ قاری میں گزری ، دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا :
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر [6]۔
رواہ احمد والترمذی وحسنہ وابن ماجۃ والرویانی والحاکم وصححہ وابن حبان فی صحیحہ عن حذیفۃ والترمذی والحاکم عن ابن مسعود وابن عدی عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہم عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔
ان دو۲ کی پیروی کرو جو میرے بعد والی اُمت ہوں گے ابوبکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما۔
اسے احمد نے اور ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا ، ابنِ ماجہ ، رویانی اور حاکم نے روایت کرکے اسے صحیح قرار دیا ، ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور ترمذی اور حاکم نے حضرت ابن مسعود سے اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماور ان سب نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بیان کیا ہے۔ (ت)
بلکہ تقلیدِ عام صحابہ ہمارے امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُموعنہ کا مذہب ہے بلکہ وہابیہ کے نزدیك تین قرن تك حکم تقلید بلکہ منصب تشریف جدید ہے کمابیناہ فی کتبنا فی الرد علیھم (جیسے کہ ہم نے اپنی کُتب میں ان کا رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔ ت) بہرحال اس عمل کی دلیل جواز قرون ثلٰثہ میں متحقق ہوئی اور گنگوہی صاحب ص ۲۸ میں کہتے ہیں : “ جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو وہ سب سنّت ہے اھ “ [7] تو روشن ہُوا کہ جناب گنگوہی صاحب کے نزدیك اذان میں نام اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا سنّت ہے اور حدیث سے ثابت کہ منکرِ سنّت پر لعنت ہے ، رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
ستۃ لعنتھم لعنھم الله وکل نبی مجاب (الی قولہ) والتارك لسنتی [8]رواہ الترمذی عن ام المؤمنین والحاکم عنہا وعن علی والطبرانی بلفظ سبعۃ لعنتھم وکل نبی مجاب [9] عن عمروبن سعواء رضی الله تعالٰی عنہم بسند حسن۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع