دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

یسمونہ المعضل ، قلت وقول المصنفین من الفقہاء  وغیرھم قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم کذا وکذا “ ونحو ذلك کلہ من قبیل المعضل لماتقدم ، وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض کلامہ مرسلا وذلك علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلا کماسبق [1] اھ باختصار۔                                

معضل حدیث وہ ہوتی ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زائد راوی ساقط ہوں مثلًا وہ جسے تبع تابعی یہ کہتے ہوئے روایت کرے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ، اور اسی طرح وہ روایت جسے تبع تابعی کے بعد کا کوئی شخص حضور علیہ السلام سے یا ابوبکر وعمر یا دیگر کسی صحابی سے حضور اور صحابہ کے درمیان واسطہ ذکر کیے بغیر روایت کرے ، ابونصر السنجری حافظ بیان کرتے ہیں کہ راوی کا قول “ بلغنی “ (مجھے یہ روایت پہنچی ہے) مثلًا امام مالك کا قول کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا مملوك کے لئے کھانا اور کپڑے ہیں ، الحدیث۔ اور فرمایا کہ محدثین ایسی روایت کو معضل کہتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں فقہاء اور دیگر مصنفین کا قول کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ یہ فرمایا یہ تمام از قبیل معضل ہی ہے جیسا کہ اس کا ذکر پہلے گزرچکا ، اور خطیب ابوبکر حافظ نے بعض مقامات پر اسے مرسل کا نام دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مذہب کے مطابق ہے جنہوں نے ہر اس روایت کو مرسل کہا ہے جو متصل نہ ہو جیسا کہ گزرا اھ اختصار (ت)

توضیح میں ہے :

الارسال عدم الاسناد وھو ان یقول الراوی قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم من غیر ان یذکر الاسناد [2]۔

ارسال وہ ہے جس میں سند کا ذکر نہ ہو وہ یوں کہ کوئی راوی بغیر سند ذکر کیے کہہ دے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ فرمایا۔ (ت)

علّامہ تفتازانی تلویح پھر مدقق علائی صاحبِ دُرمختار افاضۃ الانوار علٰی اصول المنار میں فرماتے ہیں : ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل [3] (اگر راوی اصلًا واسطہ ذکر نہ کرے تو وہ مرسل ہے۔ ت) مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے:

(المرسل قول العدل قال علیہ) وعلٰی اٰلہ واصحابہ الصلاۃ (والسلام کذا) وعند اھل الحدیث فالمرسل قول التابعی قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ واٰلہ واصحابہ وسلم کذا ، والمعلق مارواہ من دون التابعی من دون سند والکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول [4]  اھ مختصرا۔

مرسل وہ ہے جس کے متعلق عادل کا قول ہو کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ فرمایا ، اور محدثین کے ہاں مرسل سے مراد تابعی کا یہ قول ہے کہ نبی اکرم صلی الله   تعالی علیہ وآلہٖ واصحابہ وسلم نے یوں فرمایا ، اور حدیث معلق وہ روایت ہے جو بغیر سند کے تابعی کے بعد کوئی شخص روایت کرے ، اور اہلِ اصول کے ہاں یہ تمام مرسل میں داخل ہیں اھ مختصرا۔ (ت)

پھر باجماع علما محدثین وفقہا یہ سب انواع موضوع سے بیگانہ ہیں اور مادون الاحکام مثل فضائل اعمال ومناقب رجال وسِیر واحوال میں سلفًا وخلفًا ماخوذ ومقبول جملہ مصنفین علوم حدیث موضوع کو شرالانواع بتاتے اور اُنہیں اُس سے جُدا شمار فرماتے آئے اور تمام مؤلفین سِیر بلانکیر منکر ومراسیل ومعضلات کا ذکر واثبات کرتے رہے افادہ ۲۳ میں علّامہ حلبی کا ارشاد گزرا کہ سیر بلاغ ومرسل ومنقطع ومعضل غرض ماسوائے موضوع ہر قسم حدیث کو جمع کرتی ہے کہ ائمہ کرام نے ماورائے احکام میں مساہلت فرمائی ہے ، یہ عبارت دونوں مطلب میں نص ہے معضل کا موضوع نہ ہونا اور اس کا مادون الاحکام میں مقبول ہونا خود صحیح بخاری ومسلم وصحیح مؤطا میں معضلات وبلاغات موجود ہیں وسط میں بقلت طرفین میں بکثرت خصوصًا بعض بلاغات مالك وہ ہیں کہ ان کی اسناد اصلًا نہ ملی ، تدریب عــــہ میں امام ابوالفضل زین الدین عراقی سے ہے :

ان مالکالم یفرد الصحیح بل ادخل فیہ المرسل والمنقطع والبلاغات ، ومن بلاغاتہ احادیث لاتعرف کماذکرہ ابن عبدالبر [5]۔

امام مالك نے احادیث صحیحہ کو الگ نہیں بلکہ اس میں مرسل ، منقطع اور بلاغات کو شامل کردیا ہے حالانکہ ان کی بلاغات میں ایسی احادیث بھی ہیں جو معروف نہیں ، جیسا کہ ابن عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔ (ت)

وہیں امام مغلطائی سے ہے : مثل ذلك فی کتاب البخاری [6] (اسی کی مثل بخاری کی کتاب میں ہے۔ ت)وہیں امام حافظ الشان سے ہے :

کتاب مالك صحیح عندہ وعند من یقلدہ علی مااقتضاہ نظرہ من الاحتجاج بالمرسل والمنقطع [7] وغیرھما۔

امام مالك کی کتاب اور ان کے اور ان لوگوں کے نزدیك صحیح ہے جو ان کی تقلید کرتے ہیں اس بنیاد پر کہ اس کی نظر کا تقاضا ہے کہ مرسل ، منقطع وغیرہما سے استدلال درست ہے۔ (ت)

اسناد کے سنّتِ مطلوبہ وفضیلتِ مرغوبہ وخاصہ امت مرحومہ ہونے میں کسے کلام ہے محققین قابلین مراسیل و معاضیل بھی مسانید کو اُن پر تفضیل دیتے اور منقطع سے متصل کا نسخ نہیں مانتے ہیں کمانص علیہ فی المسلم وغیرہ (جیسا کہ مسلم الثبوت وغیرہ میں اسکی تصریح کی ہے۔ ت) تاکید اثریین بجائے خود ہے اور قول بقیہ بن الولید ذاکرت حماد بن زید باحادیث فقال مااجودھا لوکان لھا اجنحۃ یعنی الاسناد (میں نے حماد بن زید سے بعض احادیث کے متعلق مذاکرہ کیا تو فرمایا بڑی جید ہیں اگر ان کے لئے پَر یعنی اسناد ہو۔ ت) قطع نظر اس سے کہ واقعۃ عین لاعموم لھا (یہ ایك معین واقعہ ہے اس کے لئے عموم نہیں ۔ ت) ممکن کہ وہ احادیث دربارہ احکام ہوں ، یوں بھی صرف نفی جودت کرے گا وہ بطور محدثین مطلقا مسلم کہ معضل ضعیف ہے اور ضعیف جید نہیں ، قول امام سفیان ثوری الاسناد سلاح المؤمن فاذالم یکن معہ سلاح فبای شیئ یقاتل (سند مومن کا اسلحہ ہے جب اس کے پاس اسلحہ نہ ہوتو وہ کس شَے سے لڑے گا۔ ت) صراحۃً دربارہ عقائد واحکام ہے۔

عــــہ :  فی الثانیہ من مسائل الصحیح ۱۲ منہ (م)

مسائل صحیح کی دوسری قسم میں ہے ۱۲ منہ (ت)

فان الحاجۃ الی القتال انما ھی فیما یجری فیہ التشدید والتماکس دون مااجمعوا علی التساھل فیہ۔

لڑائی کی نوبت وہاں آتی ہے جہاں سختی اور باہم جھگڑا ہو نہ کہ وہاں جس میں نرمی پر اجماع ہو۔ (ت)

یوں ہی ارشاد امام مبارك عبدالله   مبارك لولا الاسناد لقال من شاء ماشاء [8] (اگر سند کا اعتبار نہ ہوتا تو جو کسی کی مرضی ہوتی وہی کہتا۔ ت) کہ جب قبولِ ضعاف فی الفضائل میں دخول تحت اصل خود مشروط اور امر عمل قواعد مقررہ شرعیہ مثل احتیاط واختیار نفع بے ضرر سے منوط تو ضعیف اثبات جدید نہ کرے گی اور من شاء ماشاء (جو کسی کی مرضی ہو کہے۔ ت) صادق نہ آئے گا کماقدمنا بیانہ فی الافادۃ الثانیۃ والعشرین (جیسا کہ ہم اس کا بیان



[1]   مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث النوع الحادی عشر بالمعضل مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۲۸

[2]   توضیح التلویح فصل فی الانقطاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاورص ۴۷۴

[3]   حاشیۃ الوشیح مع التوضیح  فصل فی الانقطاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ص ۴۷۴                                   

[4]   فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ۲ / ۱۷۴

[5]   تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ / ۹۰

[6]   تدریب الراوی الثانیہ من مسائل الصحیح مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ /$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن