دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اور نماز جنازہ تارك الصلاۃ پر چاہیے۔ قال الله تعالٰی :  وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا[1](اور نہ نماز پڑھئے ان میں سے کسی ایك پر جو مرجائے ، کبھی بھی۔ ) اس آیت میں منع صلاۃ اُوپر کافر کے ہے نہ مومن کے اور تارك الصلوٰہ کو قبرستان مسلمانوں میں دفن کرنا چاہئے کذافی شرح المشکٰوۃ لعبد الحق الدھلوی وتکمیل الایمان (عبدالحق دہلوی کی شرح مشکوٰۃ میں اور تکمیل الایمان میں اسی طرح ہے) اور تارك الصلاۃ نجس نہیں اُس کے ساتھ بیٹھ کر دوسرے برتن میں کھانے میں کیا قباحت ہے ، اور عیادت تارك الصلاۃ کی کیسے ممنوع ہوگی جبکہ ہمارے پیغمبر خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے عیادت یہود کی کی ہے خصوصًا واسطے تالیف قلوب کے بلاشك جائز ہے کذافی الحدیث وتحقیق ھذہ المسئلۃ فی المشکٰوۃ [2] والصحاح الستۃ وشروحھا (حدیث میں اسی طرح ہے ، اور اس مسئلے کی تحقیق صحاح ستّہ اور ان کی شروح میں ہے) بالجملہ نزدیك فقیر کے کل وصیت نامہ پر لوگ عمل کریں اور الله  سے ڈریں مگر جو مسائل مخالف فقہ اور نصوص قطیعہ کے ہیں اُس پر ہرگز عمل نہ کریں ورنہ ثواب کے عوض میں عذاب ہاتھ آوے گا ،

ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین اھدنا الصراط المستقیم الٰی اٰخر السورۃ۔ ۲۰ شعبان ۱۳۰۸ھ

اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرمادے۔ تُو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے ، ہدایت دے ہمیں سیدھے راستے کی۔ آخر سورۃ تک۔

الجواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قال الفقیر عبد المصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفر الله تعالٰی لہ ولاسلافہ وبارك فیہ وفی اخلافہ۔ اٰمین!

کہتا ہے فقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی ، سُنّی ، حنفی ، قادری ، بریلوی ، الله  تعالٰی اس کو اور اس کے اسلاف کو بخشے اور اس کو اور اس کے اخلاف کو برکت عطا فرمائے۔ آمین!

حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زیارت سے خواب میں مشرف ہونا اگرچہ بلاشبہہ حق ہوتا ہے یہ خواب کبھی اضغاث احلام سے نہیں ہوتی۔ حضور پُرنور صلوات الله  تعالٰی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں :  

من راٰنی فی المنام فقد راٰنی فان الشیطان لایتمثل بی [3]۔ رواہ احمد والبخاری والترمذی عن انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ۔

جس نے مجھے خواب میں دیکھا اُس نے مُجھی کو دیکھا کہ شیطان میری مثال بن کر نہیں آسکتا۔ (م)اس کو احمد ، بخاری اور ترمذی نے انس ابن مالك سے روایت کیا ہے۔ (ت)

اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:

من راٰنی فقدراٰی الحق فان الشیطان لایتریأبی [4]۔ رواہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی الله تعالٰی عنہ والاحادیث فی ھذا المعنی متواترۃ۔ جس نے مجھے دیکھا اُس نے حق دیکھا کہ شیطان میری وضع نہ بنائے گا۔ (م)اس کو احمد اور بخاری ومسلم نے ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے ، اور اس مفہوم کی احادیث متواتر ہیں ۔ (ت)

مگر از انجا کہ حالتِ خواب میں ہوش وحواس عالم بیداری کی طرح ضبط وتیقظ پر نہیں ہوتے ، لہذا خواب میں جو ارشاد سُنے مثل سماع بیداری مورث یقین نہیں ہوتا اس کا ضابطہ یہ ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے جو ارشادات بیداری میں ثابت ہوچکے اُن پر عرض کریں اگر اُن سے مخالف نہیں فبھا سواء وجد مطابقۃ الصریح اولا (خواہ صراحۃً مطابقت ہو یا نہ۔ ت) ایسی حالت میں اس کا ارشاد ماننا چاہئے اور مخالف ہے تو یقین کریں گے کہ صاحبِ خواب کے سُننے میں فرق ہوا حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حق فرمایا اور بوجہ تکدر حواس کہ اثرِ خواب ہے اُس کے سُننے میں غلط آیا جیسے ایك شخص نے خواب دیکھا کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماُسے میکشی کا حکم دیتے ہیں ۔ امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا حضور نے میکشی سے نہی فرمائی تیرے سُننے میں اُلٹی آئی ، اس امر میں فاسق ومتقی برابر ہیں ، نہ متقی کا سماع واجب الصحۃ نہ فاسق کا بیان یقینی الکذب بلکہ ضابطہ مطلقًا یہی ہے جو مذکور ہوا پھر کافہ اہلسنت وجماعت کا اجماع قطعی ہے کہ مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں ۔

قال الله عزوجل وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا [5]۔ وقال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر [6]۔ وقال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم شفاعتی لاھل الکبائر من امتی [7]۔

الله  تعالٰی نے فرمایا ہے “ اور اگر مؤمنوں کی دو۲ جماعتیں لڑ پڑیں “ ۔ (ت) اور رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے “ اگرچہ زنا کرے ، اگرچہ چوری کرے ، خواہ ابوذر کی ناك خاك آلُود ہوجائے“۔(ت) اور رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کےلئے ہے جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوں “ ۔ (ت)

بلکہ مذہبِ معتمد ومحقق میں استحلال بھی علی اطلاقہ کفر نہیں جب تك زنا یا شربِ خمر یا ترك صلاۃ کی طرح اس کی حرمت ضروریاتِ دین سے نہ ہو غرض ضروریات کے سوا کسی شے کا انکار کفر نہیں اگرچہ ثابت بالقواطع ہوکہ عندالتحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اُس کا جس کی تصدیق نے اُسے دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضروریاتِ دین کماحققہ العلماء المحققون من الائمۃ المتکلمین (جیسا کہ ائمہ متکلمین کے محقق علماء نے تحقیق کی ہے۔ ت) ولہذا خلافت خلفائے راشدین رضوان الله  تعالٰی علیہم اجمعین کا منکر مذہب تحقیق میں کافر نہیں حالانکہ اُس کی حقانیت بالیقین قطعیات سے ثابت وقد فصل القول فی ذلك سیدنا العلامۃ الوالد رضی الله تعالٰی عنہ فی بعض فتاوٰہ (اس موضوع پر سیدنا علامہ والد ماجد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے بعض فتاوٰی میں مفصل گفتگو کی ہے۔ ت) بالجملہ اس قدر پر تو اجماعِ اہلِ سنّت ہے کہ ارتکابِ کبیرہ کفر نہیں بااینہمہ تارك الصلاۃ کا کفر واسلام سے ہمارے ائمہ کرام میں مختلف فیہ اقول :  وبالله التوفیق (میں الله  تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) اگرچہ کفر تکذیب النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفی بعض ماجاء بہ من عندربہ جل وعلا کانام ہے اور تکذیب صفت قلب مگر جس طرح اقوال مکفرہ اس تکذیب پر علامت ہوتے اور اُن کی بنا پر حکمِ کفر دیا جاتا ہے یوں ہی بعض افعال بھی اُس کی امارت اور حکم تکفیر کے باعث ہوتے ہیں ۔

کالقاء المصحف فی القاذورات والسجود للصنم وقتل النبی والزنا بحضرتہ وکشف العورۃ عند الاذان وقراء ۃ القراٰن علی جھۃ الاستخفاف وکل مادل علی الاستھزاء بالشرع اوالاز دراء بہ۔

جیسا کہ قرآن کریم کو گندگی میں پھینکنا ، بُت کے لئے سجدہ کرنا ، نبی کو قتل کرنا ، اس کے رُوبرو زنا کرنا ، اذان سُن کر شرمگاہ کو ننگا کرنا ، قرآن کو تحقیر کے انداز میں پڑھنا ، اس کے علاوہ ہر وہ عمل جو شریعت کے ساتھ استہزاء واہانت پر دلالت کرے۔ (ت)

 



[1]   القرآن سورہ التوبہ ۹ آیت ۸۴

[2]   مشکوٰۃ المصابیح باب عیادۃ المریض الفصل الاول مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۳۴

[3]   جامع الترمذی باب ماجاء فی قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من راٰنی فی المنام الخ مطبوعہ مجتبائی لاہور۲ / ۵۲

[4]   صحیح البخاری باب من رای النبی فی المنام ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن